Monday , September 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / طلاق سے متعلق عدالتی فیصلہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا 10 ستمبر کو اجلاس

طلاق سے متعلق عدالتی فیصلہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا 10 ستمبر کو اجلاس

فیصلہ پر اجلاس میں غور کے بعد ہی اگلا قدم : الحاج قمر الاسلام

گلبرگہ ۔ 24 اگست(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن و رکن تاسیسی آل انڈیا ملی کونسل الحاج قمر الاسلام ،رکن اسمبلی گلبرگہ و سابق وزیر کرناٹک نے طلاق ثلاثہ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان عدلیہ پر اعتماد رکھتے ہیں، عدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن بعض وقت ایسے فیصلوں کا سامنا کرناپڑتا ہے کہ عدلیہ پر سے اعتماد متزلزل ہوجاتا ہے۔ مثلا مالیگائوں بم دھماکوںکے ملزم کرنل پروہت کی ضمانت اور طلاق ثلاثہ پر پابندی کے سپریئم کورٹ کے فیصلہ سے مسلمانوں کے جذبات کو زبردست ٹھیس پہنچی ہے۔ الحاج قمر الاسلام نے کہا ہے کہ شاہ بانو معاملہ طرح طلاق ثلاثہ کا معاملہ بھی پارلیمنٹ میں رکھا جائے گا ، لیکن شریعت میں رمق برابر بھی مداخلت کو مسلمان ہر گز قبول نہیںکریں گے۔ الحاج قمر الاسلام نے کہا کہ شریعت قانون خداوندی ہے اس میں کوئی حکومت مداخلت نہیں کرسکتی۔ موجودہ مرکزی حکومت ملک کو ہندوراشٹر میں تبدیل کرنے یا کم از کم یکساں سیول کوڈ لاگو کرنے کے عزائم رکھتی ہے، لیکن اس کے لئے دستوری خلاف ورزی کرنا ممکن نہیںہوگا۔ جس طرح کوئی مسلمان شریعت میں تبدیلی کو برداشت نہیں کرسکتا اسی طرح ہر ایک ہندوستانی دستور ہند میں ترمیم کو برداشت نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ طلاق ثلاثہ مسئلہ پر قانون سازی سے مسلہ کا حل نہیں نکلے گا۔ اس کے برخلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ملک گیر سطح پر شعور بیداری تحریک شروع کی ہے ۔ اسی طرح کے پروگراموں اور اقدامات سے سماج میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم شوہر کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ طلاق کے اختیار کا غلط استعمال نہ کرے اور جہاں تک ممکن ہوسکے بھلائی ، احسان اور خیر کا معاملہ روا رکھے جس طرح ہم اپنی بیماریوںکیلئے مرض کے ماہر سے رجوع کرتے ہیں اسی طرح شرعی مسائل میں بھی ہمیں علماء سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ چند نادان شوہروں کی جانب سے طلاق دینے اور چند خواتین کے اس مسئلہ پر عدالت سے رجوع ہونے کے نتیجہ میں سبرامنیم سوامی جیسے شر پسند لیڈروںکو شریعت پر انگشت نمائی کا موقع مل رہا ہے اور ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خصوصاً طلاق کے معاملہ کو دارالقضأت سے رجوع کریں یا پھر آپسی مشاورت سے خوش اسلوبی کے ساتھ میاں بیوی علیحدگی اختیار کریں۔ خاندان کے سرپرستوںکی بھی زمہ داری ہے کہ وہ طلاق کے معاملہ کو عدالت تک جانے نہ دیں ۔ انھوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کرنے کا جو سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے وہ اندیشہ کے مطابق ہی ہے۔ عرصہ سے اس بات کی سازش کی جارہی ہے کہ طلاق ثلاثہ کے نام ہر یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کا راست ہموار کیا جائے ۔ الحاج قمر السلام نے بتایا کہ آل انڈیا امسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس 10ستمبر کو بھوپال میں منعقد ہونے والا ہے۔ اس اجلاس میں بورڈ ، سپریم کورٹ کے طلاق ثلاثہ سے متعلق فیصلہ کا جائزہ لے گا۔ اس کے بعد ہی اس سلسلہ میں اگلا قدم اٹھایا جائے گا اور ملت کو پیام دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ 10ستمبر کو بھوپال میں منعقد ہورہے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ۔ وہ اور بورڈ کے تمام ارکان سپریم کورٹ کے فیصلہ کا جائیزہ لینے کے بعد اگلا قدم اُٹھائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT