Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / طلاق کی شرح دیگر کے مقابل مسلمانوں میں کم

طلاق کی شرح دیگر کے مقابل مسلمانوں میں کم

جئے پور 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے شعبہ خواتین نے آج دعویٰ کیاکہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح دیگر برادریوں کے مقابل کم ہے اور یہ کہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کو غلط طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ملک بھر میں بعض مسلم اکثریتی اضلاع کی فیملی کورٹس سے حاصل کردہ ڈیٹا کا تبادلہ کرتے ہوئے شعبہ کی چیف آرگنائزر اسماء زہرہ نے کہاکہ اسلام کے تحت خواتین اچھی طرح محفوظ ہیں۔ جس کی عکاسی مسلم خواتین کی جانب سے خلع کے کمتر تناسب سے ہوتی ہے۔ ان ریمارکس کا پس منظر تین طلاق پر جاری مباحث ہیں۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیردوران ہے جو اِس مذہبی گنجائش کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ اسماء زہرہ نے کہاکہ فیملی کورٹ سے ڈیٹا حاصل کرنے کا عمل گزشتہ سال مئی میں شروع کیا گیا تھا جس کے تحت آر ٹی آئی کے ذریعہ اعداد و شمار طلب کئے گئے اور 2011-15 ء سے پانچ سال کی مدت کے اعداد و شمار حاصل کئے گئے۔ 16 فیملی کورٹس نے تفصیلی مربوط رپورٹس دیئے ہیں۔ اسمائء زہرہ نے یہاں پریس کانفرنس کو بتایا کہ اِن اعداد و شمار کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مسلم کمیونٹی میں طلاق کی شرح کم سے کم ہے۔ اِسی طرح مختلف دارالقضاء ت سے بھی تفصیلات جمع کئے گئے جس سے معلوم ہوا کہ صرف دو تا تین فیصد معاملے طلاق سے جڑے ہیں جن میں سے زیادہ تر خود خواتین کی ایماء پر شروع کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT