Tuesday , October 17 2017
Home / اداریہ / طلباء اور معاشرہ

طلباء اور معاشرہ

اس سے بدتر نہیں ہے سین کوئی
آدمی جب غلام ہوتا ہے
طلباء اور معاشرہ
معاشرے کو ظلم اور جرائم سے پاک رکھنا حکومت کا اہم فرض ہوتا ہے لیکن وہ جو ملزم نہیں ہوتا اس کو سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے تو جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین سے وابستہ ارکان کے احتجاج کی شکل میں ایک سنگین مسئلہ نمودار ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ پر حملہ کیس کے سزائے موت پانے والے افضل گرو کی تیسری برسی کے موقع پر دہلی میں طلباء کا موافق افضل گرو احتجاج نریندر مودی حکومت کے سینے پر ضرب حسوس کی گئی۔ طلباء یونین کے صدر اور دیگر کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا۔ غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 124 A پر پھر ایک بار بحث چھڑ گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے ایسے قانون کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے مگر سیاسی انتقام نے اس قانون اور وقت کے استعمال کی راہ بتاتی ہے تو یہ سب سے تشویشناک کارروائی ہے۔ حکومت چاہے تو کسی کے خلاف بھی قوم دشمنی کا الزام عائد کرکے اپنا کام آسان کردیتی ہے۔ حکمرانی کی راہ داریوں میں آر ایس ایس کی گشت نے صورتحال کو بگاڑنے کا تسلسل پیدا کردیا ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں آر ایس ایس نظریہ کو مسلط کرنے کی کوشش  بھیانک نتائج برآمد کرے گی۔ ہندوستان میں سیکولر مزاج لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی ترکیب مودی حکومت کی مرتب کردہ ہے اس کی اسکرپٹ آر ایس ایس نے تحریر کی ہے تو یہ حکمرانی کے فرائض سے روگردانی کرتے ہوئے حکمرانی کے فرائض کو بالائے طاق رکھنا ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے جب یہ کہا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلباء کے موافق افضل گرو احتجاج کو لشکرطیبہ کے بانی حافظ سعید کی سرپرستی حاصل ہے تو یہ ان کی سوچ کی بدترین مثال ہے۔ ایک سیکولر ملک کے وزیرداخلہ کی فکریوں ظاہر ہوئی ہے تو اس سے ملک کی امن کی فضاء کو بگاڑنے کا بہانہ بھی بن جاتی ہے تو اس کیلئے قصوروار کون ہوگا۔ جب حساس مسئلہ پر حکومت اور اس کے وزراء غیرسنجیدہ دکھائی دیتے ہیں تو آنے والے دنوں میں آر ایس ایس کی سرپرستی میں حکومت کچھ بھی کر گذر سکتی ہے۔ اس حکومت نے آر ایس ایس نظریہ کو اختیار کرلیا ہے تو یہ دستور ہند کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے جمہوریت کی آڑ میں عوام سے ووٹ لے کر ازخود قوم دشمنی کے مرتکب ہورہی ہے تو اس کا مواخذہ کون کرے گا۔ عوام کو اس وقت کا انتظار ضرور ہوگا جب انہیں ہندوستان کے اتحاد کو بچانے جمہوریت کی پاسداری اور دستور کے تحفظ کیلئے ووٹ کا استعمال کرنا پڑے گا۔ یہ حکومت نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ان کی انرجی کو مثبت رنگ میں ڈھالنے کے بجائے انہیں آپس میں تصادم کی راہ پر ڈال رہی ہے۔ مودی حکومت اپنی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کی مرتب کردہ سرگرمیوں کو بدترین شکل دے رہی ہے۔ یونیورسٹیوں کو نوجوانوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرنے والے مراکز بنانے کے بجائے گمراہی کے اڈے بنانے کی مکروہ کوشش کی جارہی ہے۔ ایسی کارروائیاں ایک صحتمند معاشرے کے دھارے کو درہم برہم کردیتی ہیں۔ نوجوانوں کو ایک بہترین شہری بننے میں مدد کرنے کے بجائے اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی آڑ میں اپنا سیاسی ایجنڈہ مسلط کرتے جارہی ہے۔ یونیورسٹیوں کی تاریخ شاہد ہیکہ ہمارے ملک میں جب بھی کسی نوجوان کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیا گیا تو اس نے ہندوستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے لیکن بی جے پی حکومت میں ان نوجوانوں کو معاشرے کے ایک منفی گوشے میں ڈھکیلنے کی کوشش افسوسناک ہے۔ یونیورسٹیوں کو بھی سیاسی پلیٹ فارم بناتے ہوئے اب انہیں فرقہ وارانہ لوگوں کو اور ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں جو ان کے تعلیمی حوصلوں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں طلباء پر ہاتھ ڈالنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں طلباء برادری کو ایک سیاسی قوت کا شکار بنایا جارہا ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی بیف فیسٹیول تنازعہ ہو یا حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت طالب علم کی خودکشی کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی واقعہ خطرناک سازش کا حصہ ہیں۔ دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی پر پولیس کی کڑی نظر رہتی ہے۔ اسپیشل برانچ ہمیشہ طلباء، طلباء تنظیموں، نوجوانوں اور یہاں آنے والے افراد کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس خصوصی برانچ نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی واقعہ پر رپورٹ بھی پیش کی ہے لیکن اس رپورٹ میں اے بی وی پی ارکان کے تعلق سے مثبت رائے ظاہر کرتے ہوئے پوری رپورٹ کو مشکوک بنادیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT