Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / طلبا کیرئیر کے انتخاب میں اپنے دل کی سنیں ‘ شاہ رخ خان

طلبا کیرئیر کے انتخاب میں اپنے دل کی سنیں ‘ شاہ رخ خان

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا چھٹا کانوکیشن ‘ ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے پر بالی ووڈ سوپر اسٹار کا خطاب

حیدرآباد 26 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) سوپر اسٹار شاہر خ خان نے آج نوجوان طالب علموں کو مشورہ دیا کہ وہ کیرئیر کے انتخاب میں اپنے دل کی سنیں اور جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں وہی کریں تاکہ زندگی میں بعد میں اپنے کیرئیر کے تعلق سے انہیں کوئی افسوس باقی نہ رہے ۔ شاہ رخ خان آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چھٹے کانوکیشن میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد طلبا سے مختصر سا اظہار خیال کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ طلبا ان ( شاہ رخ ) کی عمر کو پہونچیں گے یا اپنے والدین کی عمر کو پہونچیں گے یا اپنے ٹیچر کی عمر کو پہونچیں گے تو انہیں یہ افسوس لاحق ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے کیرئیر کے تعلق سے وہ فیصلہ کیوں نہیں کیا جو ان کا دل چاہتا تھا ۔ وہ ہر لڑکے اور لڑکی سے یہی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ کیرئیر کے انتخاب میں اپنے دل کی بات سنیں۔ شاہ رخ خان کو اردو زبان کے فروغ میں ان کی خدمات کے عوض یہ ڈگری عطا کی گئی ہے ۔ بالی ووڈ سوپر اسٹار نے اپنے مرحوم والد کی یاد تازہ کی اور کہا کہ ان کے والد حالانکہ بہت زیادہ دولت مند نہیں تھے لیکن انہوں نے زندگی میں کئی چیزیں سکھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد ایک ہنومان مندر کے صدر پجاری کے ساتھ شطرنج کھیلا کرتے تھے ۔ اداکار نے کہا کہ ان کے والد نے انہیں یہ سکھایا ہے کہ دوسروں کے ساتھ کس طرح کام کرنا چاہئے ۔ کسی کو زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے بعض مرتبہ ایک قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں کوئی بھی چھوٹا نہیں ہوتا ۔ ہر کوئی کسی نہ کسی موقع پر کارگر ثابت ہوتا ہے اور ہم کو دوسروں کا احترام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے انہیں ایک ٹائپ رائیٹر دیا تھا اور بتایا تھا کہ آپ کو ٹائپنگ کرتے ہوئے دلجمعی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے ۔ جب وہ ( شاہ رخ ) ٹائپنگ سیکھ گئے تو انہیں پتہ چلا کہ کسی بھی چیز کی کوشش ہی آپ کو کامیابی عطا کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں جو کچھ بھی کیا جائے وہ سب دل سے کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سمجھ کر کریںکہ یہ کام کرنے کا یہ آخری موقع ہے ۔ شاہ رخ خان نے کہا کہ ان کے والد نے انہیں بچوں جیسی معصومیت اور حس مزاح برقرار رکھنے کی تعلیم دی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ حس مزاح کو برقرار رکھیں گے تو آپ کو زندگی بہتر نظر آئیگی ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے بھی احساسات کا اظہار کرنے کیلئے کسی بھی شکل میں تخلیقی اظہار ہی ایک بہترین ذریعہ ہے ۔ اس طرح کی عادت آپ کو تنہائی کے وقتوں میں ایک خاص احساس عطا کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ شاعر نہیں ہیں لیکن وہ ابھی بھی کچھ نہ کچھ تحریر کرتے رہتے ہیں۔ جب کبھی وہ تحریر کرتے ہیں وہ سکون محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے طلبا کو تلقین کی کہ وہ اچھے اور برے دونوں وقتوں میں زندگی سے لطف اندوز ہوں اور اس کا احترام کریں۔ قبل ازیں چانسلر ظفر سریش والا نے شاہ رخ خان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی ۔ اس کے علاوہ یہ ڈگری ریختہ فاونڈیشن کے بانی سنجیو صراف کو بھی دی گئی ۔ شاہ رخ نے کہا کہ یہ ڈگری اگر ان کے والد دیکھتے تو وہ بہت خوش ہوتے کیونکہ وہ ایک مجاہد آزادی تھے اور وہ مولانا آزاد کا بہت احترام کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ ڈگری ملنے پر اس لئے بھی خوشی ہو رہی ہے کیونکہ یہ حیدرآباد میں مل رہی ہے جو ان کی والدہ کا آبائی شہر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT