Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / طلبہ کی زندگی سے کھلواڑ، احتجاجی عثمانیہ طلبہ سے اظہاریگانگت

طلبہ کی زندگی سے کھلواڑ، احتجاجی عثمانیہ طلبہ سے اظہاریگانگت

روشن مستقبل کی آس میں طلبہ کا تحریک میں اہم کردار، محمد علی شبیر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 5 نومبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کے احتجاج سے اظہاریگانگت کرتے ہوئے فیس ریمبرسمنٹ اور میس چارجس جاری نہ کرتے ہوئے تعلیمی شعبہ کو بحران کا شکار بنانے اور طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا۔ تلنگانہ ودیارتھی ویدیکا اور پی جی طلبہ عثمانیہ یونیورسٹی کی جانب سے آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی کے احاطہ میں اہتمام کردہ ’’دیکشا‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں عثمانیہ یونیورسٹی کی حصہ داری ناقابل فراموش ہے۔ اپنے روشن مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے طلبہ تحریک کا حصہ بنتے ہوئیتعلیمی اور دوسری قربانیاں دی۔ پولیس کے ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ جیل گئے اور ان پر کئی مقدمات درج کردیئے گئے باوجود اس کے طلبہ نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی جدوجہد کو کامیاب کیا۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے ڈھائی سال مکمل ہونے کے باوجود چیف منسٹر کے سی آر نے تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بھی نامزد نہیں کیا اور نہ ہی دو سال سے 3600 کروڑ روپئے فیس ریمبرسمنٹ کے بقایہ جات جاری کئے اور نہ ہی میس چارجس جاری کئے۔ دو سال کے دوران 120 انجینئرنگ کالجس کو بند کرتے ہوئے 1.90 لاکھ نشستیں برخاست کردیئے۔ نئے تعلیمی ادارے اور ان اداروں کیلئے عمارتیں تعمیر کرنے تعلیم کیلئے نئی ٹیکنالوجی، لیابس، ریسرچ سنٹرس قائم کرنے اور طلبہ کے ہاتھوں میں پین کے ساتھ لیاب ٹیابس دینے کے بجائے چیف منسٹر 50 کروڑ روپئے کے مصارف سے اپنے لئے سرکاری قیامگاہ اور کیمپ آفس بنارہے ہیں اور نئے سکریٹریٹ پر تقریباً 500 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کرچکے ہیں۔ حکومت کی غلط تعلیمی پالیسیوں کے باعث طلبہ کلاس روم میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کے بجائے پلے کارڈس تھام کر سڑکوں پر احتجاج کرنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں۔ گریجویشن کی تعلیم دو سال قبل مکمل کرنے والے طلبہ کو سرٹیفکیٹس آج تک وصول نہیں ہوئے۔ فیس ریمبرسمنٹ کی عدم  اجرائی سے کالج انتظامیہ کامیاب ہونے والے طلبہ کو سرٹیفکیٹس دینے سے انکار کررہے ہیں جس سے طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل  کرنے بیرونی ممالک کا دورہ کرنے اور ملازمتیں حاصل کرنے سے محروم ہورہے ہیں۔ مسٹر محمد علی شبیر نے 100 سالہ قدیم تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی اور طلبہ کے ویلفیر کو نظرانداز کرنے پر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیس ریمبرسمنٹ کے بقایہ جات فوری جاری کرنے اور فی طالب علم میس چارجس میں 200 روپئے اضافہ کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT