Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / طلبہ کے مسائل پر پھر ایک بار طویل احتجاج کا عزم

طلبہ کے مسائل پر پھر ایک بار طویل احتجاج کا عزم

فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپس کی اجرائی میں تاخیر کے خلاف سخت ردعمل
حیدرآباد۔ 16 اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں طلبہ برادری نے پھر ایک بار طویل اور پرتشدد احتجاج کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں حکومت کو احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے نتائج کا انتظار کرنے کا موقع دیا ہے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپس کی اجرائی میں تاخیر اور ٹال مٹول سے طلبہ برادری ان دنوں کافی پریشانیوں کا شکار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے میں آسانی فراہم کرنے کے بجائے خود حکومت ہی تعلیم کے مواقع بند کررہی ہے۔ زیرتعلیم طلبہ ایک سنگین الجھن تو تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع تلاش کرنے والے طلبہ الگ الجھن کا شکار ہیں چونکہ کوئی ادارہ انہیں آگے بڑھنے نہیں دیتا، تو کوئی فیس کی عدم ادائیگی کے سبب سرٹیفکیٹ حوالے نہیں کرتا۔ طلبہ برادری کا کہنا ہے کہ وہ تمام تنظیموں اور انجمنوں کے ایک جگہ جمع ہونے کے منتظر ہیں اور اس سلسلے میں سابقہ جوائنٹ ایکشن کمیٹیوں کا آپس میں رابطہ جاری ہے۔ امکان ہے کہ حکومت کے اس معاندانہ رویہ پر بہت جلد احتجاج کا آغاز ہوگا اور طلبہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ان کے مطالبات کے حصول کیلئے احتجاج کو پرتشدد شکل بھی دے سکتے ہیں۔ حکومت کے اس رویہ سے مسلم، ایس سی، ایس ٹی، بی سی طلبہ شدید متاثر ہیں اور طلبہ برادری نے حکومت کو 20 اکتوبر تک کی مہلت دی ہے۔ عہدیداروں کا رویہ حکومت کے کردار کو مشکوک بنارہا ہے۔ گزشتہ دنوں سرکاری عہدیداروں نے مالیہ کی کمی کے سبب فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم پر عمل آوری میں دشواریوں کی بات کو مسترد کردیا تھا۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے پرنسپل سیکریٹری نرسنگ راؤ نے کہا تھا کہ حکومت کا مالی موقف بہتر ہے اور وزارت مال سے جس قدر آمدنی کی توقعات تھیں، اس سے کہیں زیادہ آمدنی حاصل ہوئی ہے اور وزارت مال (ریوینیو) سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 31% اضافہ ہوا ہے اس محکمہ سے 1975کروڑ روپئے کی آمدنی کی بہ نسبت 1935کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔ جبکہ محکمہ آبکاری میں 3,000 کروڑ روپئے حاصل ہونے کی امید جتائی۔ اگر حکومت اراضیات کو فروخت کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس سے حکومت کو 1200 کروڑ روپئے کا فائدہ ہوگا۔ اس سب کو مدنظر رکھتے ہوئے بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور مسلم طلبہ کے مسائل حل کرسکیں تاہم طلبہ برادری مسلسل تاخیر سے پریشانی کا شکار ہے۔

TOPPOPULARRECENT