Wednesday , September 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ظہیرآباد میں اردو میڈیم طالبات کی زبردست ریالی

ظہیرآباد میں اردو میڈیم طالبات کی زبردست ریالی

ظہیرآباد /19 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) گورنمنٹ ویمن ڈگری کالج ظہیرآباد کے واحد اردو میڈیم سائنس گروپ کیلئے کنٹراکٹ لکچررس کے تقررات ریاستی حکومت کی تنگ نظری کا شکار ہوگئے اور اس ضمن میں حکومت سے متعدد مرتبہ کی گئی نمائندگیاں رائیگاں جانے سے دلبرداشتہ طالبات حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کیلئے ایک زبردست احتجاجی ریالی نکالی جو کالج سے نکل کر 65 ویں قومی شاہراہ پہونچ کر دھرنے میں تبدیل ہوگئی ۔ اس موقع پر احتجاجیوں نے کنٹراکٹ لکچررس کی جائیدادوں کی منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا اور یہاں سے تحصیل آفس پہونچ کر ایک یادداشت اس موقع پر موجود جونئیر اسسٹنٹ مسٹر پربھاکر کے حوالے کی ۔ جس میں بتایا گیا کہ بی زیڈ سی اردو میڈیم سائنس گروپ کیلئے مضامین اردو ، باٹنی ، زوالوجی ، کمسٹری اور فزکس کی تدریس کیلئے تاحال کنٹراکٹ لکچررس کی منظوری عمل میں نہ آنے کی وجہ سے طالبات کو مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ انچارج پرنسپال ڈاکٹر کے سرینواس راؤ نے 2 نومبر 2015 کو ایک مکتوب کمشنر آف کالجسٹ ایجوکیشن کو روانہ کرتے ہوئے گورنمنٹ ویمن ڈگری کالج کو درپیش اہم مسائل سے واقف کرایا تھا ۔ انچارج پرنسپال ڈاکٹر کے سرینواس راجو نے 7 نومبر کو کمرنش آف کالجس ایجوکیشن کو ایک اور مکتوب روانہ کرتے ہوئے 4 نومبر کو طالبات کی جانب سے کنٹراکٹر لکچررس کی عاجلانہ منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے نکالی گئی احتجاجی ریالی اور منظم کئے گئے دھرنے سے بھی واقف کرایا اور بعجلت ممکنہ اردو میڈیم سائنس گروپ کیلئے اردو ، باٹنی ، زوالوجی ، کمسٹری اور فزکس کی تدریس کیلئے کنٹراکٹ لکچررس کی جائیدادوں کی منظوری کی جانب ان کی توجہ مبذول کرائی ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مقامی قائدین کی جانب سے ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی اور رکن اسمبلی ظہیرآباد ڈاکٹر جے گیتا ریڈی سے بھی نمائندگی کی گئی تھی ۔ مگر افسوس کہ انچارج پرنسپال کی جانب سے حکومت تلنگانہ سے کی گئی نمائندگیاں اور عوامی قائدین کی جانب سے ڈپٹی چیف منسٹر اور رکن اسمبلی ظہیرآباد کو پیش کی گئی یادداشتوں کا کوئی مثبت اثر تاحال دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں برقعہ پوش طالبات کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے اور وہ اپنے واجبی مطالبات کی یکسوئی کیلئے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئی ہے ۔ اردو میڈیم سائنس گروپ کے ساتھ حکومت کی تنگ نظری کو اجاگر کرنے کیلئے یہاں اس امر کا تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ ریاستی حکومت نے ویمن ڈگری کالج ظہیرآباد میں تلگو میڈیم کے بی اے ( سال اول ) میں زیر تعلیم 8 اور سال دوم میں زیر تعلیم 18 طالبات کیلئے 3 بی کام جنرل کے سال اول میں زیر تعلیم 15 طالبات کیلئے 3 بی کام جنرل کے سال اول م یں زیر تعلیم 15 طالبات کیلئے 2 بی ایس سی ، ایم پی سی گروپ میں زیر تعلیم صفر طالبات کیلئے 3 جائیدادیں منطور کی ہیں ۔ برخلاف اس کے بی ، ایس سی ( بی زیڈ سی ) اردو میڈیم سال اول میں زیر تعلیم 50 اور سال دوم میں زیر تلعیم 30 طالبات کیلئے صرف ایک جائیداد کی منظوری عملمیں آئی ہے ۔ اردو میڈیم طالبات کے ساتھ حکومت کی تنگ نظری کا ناقابل ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے ۔ احتجاجی طالبات نے اخباری نمائندوں کا ناقابل ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے ۔ احتجاجی طالبات نے اخباری نمائندوں کو اس کی جانکاری دیتے ہوئے چونکا دیا کہ ضلع میدک میں قائم کئے گئے واحد مذکورہ سائنس گرپو میں حصول تعلیم کیلئے سدی پیٹ ، مومن پیٹ ، سداسیوپیٹ اور کوہیر کی طالبات آتی ہیں ۔ اور لکچررس نہ ہونے کی وجہ سے ان کا مستقبل تاریک ہویگا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے اردو میڈیم طالبات میں پھیلی ہوئی شیدید بے چینی کو دور کریں ۔

TOPPOPULARRECENT