Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ظہیر خان کیلئے فٹنس بڑا چیلنج، ڈیرڈیولس کی کپتانی نہیں

ظہیر خان کیلئے فٹنس بڑا چیلنج، ڈیرڈیولس کی کپتانی نہیں

سابق انڈین سیمر نے گزشتہ مئی سے کوئی مسابقتی کرکٹ نہیں کھیلی ۔ انٹرنیشنل کریئر میں وقفے وقفے سے زخمی ہونے کا ٹریک ریکارڈ
نئی دہلی ، 7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ظہیر خان جنھوں نے گزشتہ سال سے مسابقتی کرکٹ نہیں کھیلی، وہ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے نویں ایڈیشن کیلئے دہلی ڈیرڈیولس کے کیپٹن ہیں، اور اُن کیلئے کپتانی نہیں بلکہ فٹنس زیادہ بڑا چیلنج رہے گا۔ انٹرنیشنل کرکٹ سخت اور مشکل ہوتی ہے۔ اعلیٰ سطح پر طویل عرصہ برقرار رہنا آسان نہیں ہوتا اور اگر یہ کسی فاسٹ بولر کا معاملہ ہو تو مشکل مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس کھیل کے تقاضوں اور دباؤ کے باوجود برسہا برس تک استقلال کے ساتھ کارکردگی پیش کرتے رہنے کیلئے خاص قابلیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حالیہ عرصے میں آشیش نہرا (انڈیا کیلئے) اور براڈ ہاگ (بی بی ایل میں) نے دکھا دیا کہ وہ خاص زمرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب ظہیر خان جو ہندوستان کی طرف سے کھیلنے والے عظیم ترین پیسرز میں سے ہیں، انھیں کچھ اسی طرح کا مظاہرہ پیش اور دنیا کو دکھا دینے کا موقع نصیب ہوا ہے کہ وہ بھلے ہی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوچکے لیکن وہ اب بھی اس کھیل کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ Zak کے لقب سے معروف ظہیر خان آئی پی ایل ٹیم ڈی ڈی کی نہ صرف کپتانی کریں گے

بلکہ بولنگ کی قیادت بھی سنبھالیں گے۔ یہ عظیم لیفٹ آرم سیمر کیلئے اسٹرائیک بولر اور کیپٹن کی حیثیت سے اپنی طاقت دکھانے کا زرین موقع ہے۔ لیکن کیا ڈیرڈیولس نے ظہیر کو کپتان مقرر کرتے ہوئے کوئی لغزش کرلی ہے؟ وہ کبھی کوئی آئی پی ایل فائنل کیلئے کوالیفائی نہیں ہوئے۔ ٹیم مینجمنٹ نے جے پی ڈومینی کو نظرانداز کیا، جنھوں نے گزشتہ سال ٹیم کی قیادت کی تھی، اور اُن کی بجائے ظہیر کو منتخب کیا جنھوں نے گزشتہ سال مئی سے مسابقتی کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔ تاہم، ظہیر کو ڈی ڈی کے ذمہ داروں نے بلاشبہ کافی غوروخوض کے بعد کپتان بنایا ہوگا۔یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ راہول ڈراویڈ اس ٹیم کے مینٹور ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ظہیر اس ٹیم کے لیڈر کی حیثیت سے کیا کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ظہیر ٹیم انڈیا کیلئے ڈراویڈ کے ساتھ کئی برس کھیل چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ظہیر کافی ہوشیار کرکٹر ہیں جو کرکٹ کی حکمت عملی کے معاملے میں اچھا ذہن رکھتے ہیں، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا اُن کا بدن اس طویل ٹورنمنٹ کی سختیاں جھیل پائے گا؟

یہ حقیقت ہے کہ سابق ہندوستانی بولر اہم ٹورز کے دوران زخمی ہوجانے کی تاریخ رکھتے ہیں اور اب اُن کیلئے چیلنج رہے گا کہ سارے آئی پی ایل کیلئے اپنی فٹنس برقرار رکھیں۔ علاوہ ازیں، ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے کچھ بھی مسابقتی کرکٹ نہیں کھیلی، سوائے اس کے کہ نٹس میں بولنگ کے ذریعہ آئی پی ایل کی تیاری کریں۔ ظہیر جنھوں نے سابقہ سیزنس میں رائل چیلنجرز بنگلور اور ممبئی انڈینس کی نمائندگی کی تھی، وہ آئی پی ایل محض نوجوان کھلاڑیوں کا ٹورنمنٹ ہونے کی بات مسترد کردی ہے۔ ظہیر کے حوالے سے بتایا گیا: ’’میں سمجھتا ہوں، میں اس آئی پی ایل میں کھیلنے والا سب سے زیادہ عمر والا کھلاڑی نہیں۔ یہ تو واضح سوچ اور حکمت عملی کا معاملہ ہے اور اگر آپ معقول قابلیت رکھتے ہیں اور کھیلنے کیلئے فٹ ہیں، نیز اس فارمٹ کا دباؤ برداشت کرنے کے اہل ہیں تو آپ کو اپنا کھیل جاری رکھنا چاہئے۔‘‘ظہیر خان اب تک 77 آئی پی ایل میچز میں 82 وکٹیں لے چکے ہیں، اس لئے شاید کپتانی انھیں پریشان نہیں کرے گی۔ تاہم، ظہیر کیلئے کسی بھی قسم کی انجری کے بغیر سارا ٹورنمنٹ گزارنا یقینا بڑا چیلنج رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT