Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / عائلی قوانین کا جائزہ لینا سپریم کورٹ کا کام نہیں

عائلی قوانین کا جائزہ لینا سپریم کورٹ کا کام نہیں

 

عبدالباری مسعود
’’یہ سپریم کورٹ کا کام نہیں کہ وہ پرسنل لاز (عائلی قونین) سے متعلق امور کے آئینی جواز کا جائزہ لے اور یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ سپریم کورٹ پرسنل لا کے اس مسئلہ (طلاق ثلاثہ) کو اپنے میں ہاتھ میں لے گا اور اسے ایک آئنی بنچ (Constituition bench) کے حوالے کرے گا؟ ‘‘۔
امسال مئی میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر سپریم کورٹ نے جو خصوصی سماعت کی تھی اس پر یہ تبصرہ کسی سیاستداں یا قانون دان کا نہیں ہے بلکہ خود ملک کے ایک سابق سب سے بڑے جج یا چیف جسٹس آف انڈیا کا ہے ۔ اس تبصرہ نے اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے پورے رویہ پر ہی سوالیہ نشان لگادیا ہے ، وہیں اس سے عائلی قوانین کے معاملوں میں آئینی اور قانونی حیثیت کے بارے میں بھی نئی بات معلوم ہوئی کہ اس پر عدالت کو جانچ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔
جسٹس عزیز مبشر احمدی نے جو اے ایم احمدی کے نام سے مشہور ہیں، یہ تبصرہ دارالحکومت نئی دہلی میں حال ہی میں منعقدہ ایک سمینار میں کیا تھا ۔ یہ سمینار طلاق ثلاثہ کے حوالے سے مسلم پرسنل لا کو نشانہ بنانے کے پس منظر میں ’’آئینی تحفظ کے باوجود پرسنل لاز نشانہ پر‘‘ (Personal Laws guaranteed by the Constituition of india-under Target) کے موضوع پر منعقد کیا گیا تھا جس کے صدارتی خطاب میں جسٹس احمدی نے کہا تھا کہ مذہبی اور عقائد کے معاملوںمیں عدالت مختلف پیمانے اختیار کرتی ہے ۔ ان ہوں نے بیک وقت کی تین طلاقوں کے ’’آئینی جواز‘‘ پر سپریم کورٹ کی سماعت کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ یہ ایک خاص مقصد کے تحت اٹھایا گیا قدم تھا ۔ اس موقع پر نامور وکیل کپل سبل نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ تین طلاق کا مسئلہ 2019 ء کے عام انتخابات کو سامنے رکھ کر اٹھایا گیا ہے ۔ اس کی تائید کرتے ہوئے جسٹس احمدی نے کہا : ’’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ سپریم کورٹ ا یسے موضوع کو اپنے ہاتھ میں لے گا جوایک خاص مقصد (سیاسی) سے ا ٹھایا گیا ہے اور اسے ایک آئینی بنچ کے حوالے کرے گا کیونکہ طلاق ثلاثہ کسی بھی عنوان سے قانون کا سوال نہیں ہے وہ ایک روایتی یا عائلی قانون کا جز ہے ‘‘۔
’’چنانچہ مجھے اس وقت زیادہ حیرت نہیں ہوئی جب عدالت نے اس معاملہ (طلاق ثلاثہ) کی تنقیح کی حامی بھری ‘‘ کپل سبل نے اپنی تقریر میں اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ یہ ایک خاص مقصد سے اٹھایا گیا ہے ۔ لہذا یہ معاملہ آئین کے معیار پر پرکھنے سے زیادہ کچھ اور تھا۔
جسٹس احمدی نے کہا : ’’میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ تین طلاق کے تصور کے بارے میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ جیسا کہ بقول کپل سبل طلاق ثلاثہ کا یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے اور یہ ایسا معاملہ ہے جو عدالت کی تشریح کے دائرہ میں نہیں آتا‘‘۔
عائلی امور میں عدالت کے دوہرے پیمانے کی طرف انگشت نمائی کرتے ہوئے سابق چیف جسٹسنے کہا کہ اس کی کئی نظیریں عدالتی فیصلوں میں موجود ہیں۔ خیال رہے جسٹس احمدی ہندوستان کے 26 ویں چیف جسٹس ہیں جو اکتوبر 1994 ء سے مارچ 1997 ء تک اس جلیل القدر منصب پر فائز رہے ۔ انہیں 1988 ء میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ درحقیقت عدالت نے ایک مقدمہ میں بعض اشلوک کی تشریح کے معاملہ میں یہ کہہ کر اجتناب کیا کہ یہ سنسکرت زبان میں ہیں، چونکہ ہم اس زبان کے ماہر نہیں ہیں اس لئے ہم اس کی تشریح نہیں کریں گے ‘‘۔ اس نظیر کا تذکرہ کرتے ہوئے جسٹس احمدی نے کہا کہ کسی معاملہ کی عربی زبان میں تشریح کرنا تو اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے ۔

’’میں نہیں جانتا کہ موجودہ ججوں میں ایسے کتنے ہیں جو عربی زبان اچھی طرح سے جانتے اور اس پر عبور رکھتے ہیں۔ اگر آپ کوئی چیز یا متن جو سنسکرت زبان میں ہے تو اس کی تشریح نہیں کرسکتے ہیں تو عربی میں کیسے کرسکتے ہیں جواور بھی مشکل ہے مگر اس کے باوجود آپ اس کی تشریح کرتے ہیں‘‘۔ خیال رہے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کھیسہر کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بنچ تشکیل دی گئی تھی جس نے عدالت کی تعطیلات کے باوجود 11 سے 19 مئی تک طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر سماعت کی تھی ۔ یہ بات خاص طور سے ذہن میں رکھنے کی ہے کہ تین طلاق نکاح حلالہ ، تعداد ازدواج جیسے امور کو سپریم کورٹ نے ہی سب سے پہلے از خود ایک مفاد عاملہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کر کے مقدمہ قائم کیا تھا ۔ مزید معنی خیز بات یہ ہے کہ عدالت دراصل ہندو بھائی بہن کے درمیان وراثت کی تقسیم کے ایک مقدمہ کی سماعت کر رہی تھی لیکن اس مقدمہ کے فاضل جج صاحبان نے کہا کہ دیکھیں کہ مسلم پرسنل لاء میں خواتین کے ساتھ کتنا امتیاز برتا جاتا ہے ! یعنی مسلم پرسنل لاء پر انگشت نمائی کرتے ہوئے کسی فرد یا تنظیم نے اب تک کوئی عرضی داخل نہیں کی تھی ۔ یہ سب عرضیاں بعد کی پیداوار تھیں۔ تاہم اس کے بعد سے ملک میں تین طلاق کے نام پرایک ایسا طوفان بدتمیزی کھڑا کردیا گیا کہ معقولیت کے لئے کوئی گنجائش ہی نظر نہیں آرہی تھی ۔ ا یسا معلوم ہوتا تھا کہ ملک میں سوائے طلاق کے کوئی اور مسئلہ نہیں ہے ۔ اگر عدالت اس بارے میں از خود مقدمہ قائم نہیں کرتی تو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک گروہ کو شرانگیز مہم چلانے کا موقع نہیں ملتا۔ نیز اہل ملک کی اس بے اصل مسئلہ پر اتنی توانائیاں اور وقت بھی ضائع نہیں ہوتا۔ چنانچہ خود مقدمہ کی سماعت کے دوران میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل کپل سبل نے عدالت کی نیت پر سوال کھڑا کیا تھا کہ اس نے صرف مسلم پرسنل لاء کے بارے میں کیوں مقدمہ قائم کیا ؟ جبکہ اس ملک میں کئی مذہبی طبقات اور فرقے رہتے ہیں جن کے الگ الگ پرسنل لاء ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ عدالت نے مسلم پرسنل لاء کے بعض امور پر از خود مقدمہ قائم کیا ہے ۔ اس امتیاز کی وجہ کیا ہے ؟ بہرحال عدالت نے سماعت سے پہلے یہ اعلان کردیا تھا کہ وہ اب صرف تین طلاق کے معاملہ کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی ۔ وہ نکاح حلالہ ، تعداد ازدواج اور یونیفارم سیول کوڈ وغیرہ معاملات کو زیر بحث نہیں لائے گی۔ عدالت کے اس فیصلہ نے معاندین اسلام کی امیدوں پر کچھ حد تک پانی پھیردیا تھا ۔ حک ومت وقت نے تو پورا زور لگادیا تھا کہ مسلمان ’مظلوم‘ خواتین کو انصاف دلاکر رہنا ہے لیکن ’’مظلوم‘‘ مسلم خواتین حکومت وقت کے سربراہ سے سوال کر رہی تھیں کہ گجرات کے مسلم فسادات میں جنسی تشدد کا شکار بننے والی خواتین نیز سابق رکن پارلیمان شہید احسان جعفری کی بیوہ کو اب تک انصاف کیوں نہیں دیا‘‘۔

موجودہ حکمراں جماعت اور حکومت کی نیت کے حوالے یہ بات سمینار میں خود کپل سبل نے کہی کہ اس کا مقصد آئندہ عام انتخابات ہیں۔ حکمراں جماعت کی یہ سوچ ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی ا کثریت سادہ لوح ہے ، اس لئے وہ اس جھانسہ میں آجائے گی ۔ حکومت اور حکمراں جماعت دونوں نے اپنے بیانات اور اقدامات سے اس امر میں شک کی کوئی گنجائش بھی باقی نہیں رکھی تھی ۔ اسی دوران حکومتی ادارہ لاء کمیشن کی طرف سے یونیفارم سیول کوڈ کے بارے میں ایک سوالنامہ جاری کرنے سے اس کی نیت بالکل عیاں ہوگئی تھی ۔ جسٹس احمدی نے اپنے صدارتی کلمات میں یونیفارم سیول کوڈ کے معاملہ کو بھی چھیڑا ۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اگر یہ قانون بنتا ہے تو ہندو متحدہ خاندان کا تصور ترک کردینا پڑے گا کیونکہ اس کے ذریعہ ہندو خاندانوں کو ٹیکس قوانین میں بے شمار مراعات حاصل ہیں۔
اس امر میں دورائے نہیں کہ یونیفارم سیول کوڈ کا مسئلہ سیاسی غرض سے اچھالا جاتا ہے اور اسے جلا مسلمانوں کے بعض حلقوں کی طرف سے فوری ردعمل کی وجہ سے ملتی ہے۔ جسٹس احمدی نے مسلمانوں کو بھی نصیحت کی کہ وہ اپنی صفوں کو مضبوط کریں اور اپنے گریباں میں جھانکیں۔ جب زمین پیروں تلے نکل جاتی ہے تب مسلمان شور و غل کرنا شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’میں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مرحوم مولانا قاضی مجاہد الاسلام کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ مسلم پرسنل لاء پرایک متحدہ کتاب مرتب کریں اور ایسی کتاب عدالتوں کیلئے بھی معاون و مددگار ثابت ہوگی لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوا‘‘۔
اس موقع پر کپل سبل نے کئی اہم امور کا احاطہ کرتے ہوئے کہ یہ حکومت یا کسی اور کا کام نہیں کہ وہ شہریوں کے کھانے پنے اور اطوار زندگی پر پابندیاں عائد کریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ (بی جے پی) یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ سادہ لوح ہیں اور انکے اٹھائے ہوئے مسئلہ پر حامی بھریں گے ۔ دیگر مذہبی فرقوں کے عائلی قوانین میں کئی مسائل ہیں لیکن موجودہ ارباب اقتدار نے کبھی وہ نہیں اٹھائے ۔ یہ لوگ معاشرے کو گائے اور تین طلاق کے مسئلہ پر بانٹنا چاہتے ہیں۔ ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا : ’’کثرت ازدواج کے معاملہ میں مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت ہندو ، قبائلی ، بودھ معاشرے میں زیادہ عام ہے‘‘۔
یہ سمینار نیشنل کمیٹی فار لیگل ریڈر سل اینڈ جسٹس نے منعقد کیا تھا ۔ اس کے سکریٹری کمال فاروقی نے کہا کہ تین طلاق کے مسئلہ پر مسلمانوں اور ان کے پرسنل لاء کو بدنام کرنے کی ایک اوچھی مہم چلائی گئی تھی ، اسی پس منظر نے کمیٹی نے پرسنل لا سے متعلق قانونی مسائل پر بحث کرنے کے لئے لکچر ، سمیناراور مذاکرے منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
سابق چیف جسٹس نے انصاف و عدل کے تقاضوں میں دوہرے معیار کی بات جو اٹھائی ہے، اس کی نظریں مختلف مقدمات میں نظر آتی ہیں۔ بابری مسجد کی مل کیت کے مقدمہ کا ہی جائزہ لیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ کو مل کیت کے مقدمہ پر فیصلہ دینے کیلئے کہا گیا تھا مگر اس نے اسے دھرم اور آستھا کا معاملہ بناکر ایک ایسا فیصلہ دیا کہ جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی ۔ مشہور و ممتاز آئینی ماہر اور تجزیہ کار اے جی نورانی نے ’’بابری مسجد کا انہدام: ملک کی رسوائی Dishonour Destrction of the Babri Masjid: A National کے عنوان سے ایک معرکۃ آراء کتاب قلم بند کی ہے جس میں انہوں نے اس واقعہ کے تمام پہلوؤں اور کرداروں کا مفصل جائزہ لیا ہے ، خاص طور سے عدلیہ کے طرز عمل کا بھی جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں ہندوستانی عدلیہ ایک غیر جانبدار اورایک سیکولر ادارہ کی حیثیت سے جانی جاتی ہے لیکن بابری مسجد سانحہ نے اس کی معتبریت کی قلعی کھول دی۔
اسی طرح جب کشمیر کا معاملہ آتا ہے تو عدل و انصاف کے تقاضوں میں کہیں نہ کہیں تحفظات کی جھلک نظر آتی ہے ۔ شمال مشرقی ہندوستان کی شورش زدہ ریاست منی پور میں جہاں فوج کا خصوص اختیارات کا قانون نافذ العمل ہے ، مبینہ فرضی انکاؤنٹر کے معاملوں میں سپریم کورٹ نے حکومت اور فوج کی کوئی دلیل نہ سنتے ہوئے ان کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا حکم دیا ۔ عدالت نے 2000 سے 2012 ء کے درمیان رونما تمام 1,528 انکاؤنٹر کے واقعات کی تحقیقات کرنے کا ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا ۔ عدالت کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے حقوق انسانی کے مشہور کارکن اور فلم ساز تپن بوس نے بتایا کہ جب کشمیر کا معاملہ آتا ہے ، عدالت کا رویہ کچھ اور ہی ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب گزشتہ عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ حکومت اور فوج کو کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف پیلیٹ گن استعمال نہ کرنے کی ہدایت دے تو عدالت نے ایسا کوئی حکم صادر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے نوجوان لڑکے سیکوریٹی دستوں پر پتھر پھینکنا بند کریں تب اس پر کچھ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ تین بوس نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا معاملہ ہے مگر عدالت کے اس موقف نے ہمیں مایوس کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT