Monday , August 21 2017
Home / ادبی ڈائری / عابد سہیل کی یاد میں

عابد سہیل کی یاد میں

ڈاکٹرسرورالہدیٰ
جامعہ ملیہ اسلامیہ
عابد سہیل سے پہلی ملاقات غالب انسٹی ٹیوٹ کے مجاز سیمینار میں ہوئی۔ اس ملاقات سے پہلے فون پر کئی مرتبہ گفتگو ہوچکی تھی۔ مظہر امام صاحب کے ذریعہ  میں عابد سہیل صاحب سے متعارف ہوا۔ عابد سہیل صاحب مجھ سے کہتے تھے کہ مظہر امام آپ کو بہت عزیز رکھتے ہیں۔ میں یہ سب کچھ سن کر خوش ہوجاتا۔ مظہر امام کے رخصت ہوجانے کے بعد عابد سہیل صاحب کی ذہنی تنہائی کچھ اور بڑھ گئی تھی۔ شہریار صاحب کے انتقال کی خبر مجھے عابد سہیل صاحب سے ملی تھی۔ جملہ یاد ہے ایک بری خبر ہے شہریار کا انتقال ہوگیا۔ آج عابد سہیل کو یاد کررہا ہوں تو گذشتہ چند برسوں اور مہینوں میں ان سے ہونے والی مختلف باتیں یاد آرہی ہیں۔ ممبئی جانے سے دو روز قبل انھوں نے اپنی کتاب ’جویادرہا‘ کے تعلق سے ایک خوش خبری سنائی اور کہا کہ لکھنؤ آنے کے بعد آپ کو فون کروں گا۔ شاید ممبئی سے واپسی کی جو تاریخ تھی اس سے ایک یا دو روز قبل ان کا انتقال ہوگیا۔ میں نے اس آخری بات چیت میں ہمیشہ کی طرح انھیں پرجوش دیکھا۔ اپنی صحت کے تعلق سے کہتے کہ اتنی عمر ہوگئی اب کیا رکھا ہے بس ٹھیک ہے۔ کوئی شرمندگی ہے اور نہ کوئی شکوہ۔
ان کے انتقال سے میں نے اپنا ایک مخلص اور مہربان بزرگ کھودیا۔ مظہر امام، شہریار، نثار احمد فاروقی، لطف الرحمن اور کلیم عاجز کے بعد ان کا رخصت ہوجانا زندگی اور ادب کی اعلیٰ قدروں کا رخصت ہوجانا ہے۔ میں نے ان بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا اور بڑا حوصلہ پایا۔ یہ شخصیات میرے لیے گھنے سائے کی طرح تھیں۔ عابد سہیل ان رخصت ہونے والوں میںآخری مہربان بزرگ تھے۔ لہٰذا مجھے ان کے وہ خیالات بھی یاد آرہے ہیں جو ان حضرات کے انتقال کے بعد مجھ تک پہنچے۔ عابد سہیل جس دردمندی کے ساتھ دوستوں کے رخصت ہوجانے کا ذکر کرتے تھے وہ بھی اب کہاں ہے۔ وہ بڑے حقیقت پسند تھے مگر دکھ سکھ کے اظہار میں رسمی او رواجی ہونے کا گمان نہیں ہوتا تھا۔ اخلاص کی جگہ کوئی دوسرا جذبہ نہیں لے سکتا تھا۔ جس شخص کو ناپسند کرتے گفتگو اور تنقید میں معیار سے نیچے نہیں آتے۔ اوّل تو ان کا مسئلہ بہت کم شخصی ہوتا تھا۔ کسی انعام اور اقتدار کی حصولیابی میں کسی سے ان کا مقابلہ نہیں تھا۔  یہی وجہ ہے کہ وہ بعض ترقی پسندوں کو اس بنا پر ناپسند کرتے کہ یار لوگ سرکار دربار سے وابستہ ہوگئے۔پہلی ملاقات سے پہلے انھوں نے کہا تھا میں ایک معمولی آدمی ہوں۔ معمولی پڑھا لکھا۔ آپ کو مایوسی ہی ہوگی۔ یہ باتیں یاد کرتے ہوئے آج ان کی عظمت کازیادہ احساس ہوتا ہے۔
مجاز سیمینار میں میرانام پکارا گیا۔ مقالہ کا آخری جملہ پڑھا ہی تھا کہ اپنی جگہ سے اٹھ کر میری طرف آئے اور گلے سے لگا لیا۔ عابد سہیل کی سرخوشی کو دیکھ کر ایک صاحب نے کہا تھا کہ مضمون سرور سے دوبارہ پڑھوا دیں۔ پہلی ہی ملاقات میں مجھے اندزہ ہوگیا تھا کہ ان کے یہاں کوئی پوز نہیں ہے، جذبے کے اظہار میں کوئی چیز مانع نہیں۔ عابد سہیل صاحب نے بھی مجاز پر مقالہ پڑھا۔ عام تنقیدی مضامین سے ان کا مقالہ مختلف تھا اس میں قصہ گوئی بھی تھی اور زبان کا تخلیقی حسن بھی۔ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے کسی خاص لفظ اور جملے پر زور دیتے ہوئے مجمع کی طرف دیکھتے۔

میں نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ زندگی کی عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے وہ خاکہ بنانا چاہتے ہیں۔ ایک مرتبہ میرا لکھنؤ جانا ہوا۔ علی گنج میں ان کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا۔ دروازے پر کوئی نیم پلیٹ نہیں تھی۔ یہ مختصر سی ملاقات تھی مگر میں نے اس موقع  پر بھی انھیں مختلف پایا۔ خلوص کا مطلب نہ دکھاوا ہے اور نہ ہی اسرار۔ ایک فطری اظہار کا احساس ہوا گویا ایک شخص بغیر کسی شعوری کوشش کے بولتا جاتا ہے۔ میں جب واپس ہوا تو کچھ دور تک میرے ساتھ آئے۔ اس درمیان محمد حسن کے تعلق سے ان سے باتیں ہوتی رہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے محمد حسن پر میری کتاب کی اشاعت کی تیاری جاری تھی۔ ان سے بھی ایک مضمون لکھنے کی درخواست کی گئی اور انھوں نے مضمون لکھ کر بھیج دیا۔ حسن صاحب کی زندگی میں کتاب شائع نہیں ہوسکی۔ ان کے انتقال کے کوئی دو ہفتہ کے بعد کتاب شائع ہوئی۔ کتاب ضخیم ہوگئی تھی۔ عابد سہیل صاحب تک کتاب پہنچی تو وہ اس قدر خوش ہوئے جیسے یہ کتاب ان ہی پر تیار کی گئی ہے۔بعض ترقی پسندوں اور غیر ترقی پسندوں کو میں نے کتاب کی اشاعت پر افسردہ اور خاموش دیکھا۔ عابد سہیل کہنے لگے کہ کاش محمد حسن کی زندگی میں کتاب شائع ہوگئی ہوتی۔ کتاب کا انتساب کچھ یوں تھا: محمد حسن کے دو اساتذہ، مسعود حسن رضوی ادیب اور احتشام حسین کے نام۔ انتساب نے انھیں حیران کردیا۔ فوراً نیر مسعود صاحب کو بتایا۔ میں نے کتاب انھیں بھجوائی تھی یا عابد سہیل نے دی، ٹھیک سے یاد نہیں۔ عابد سہیل نے محمد حسن کے کم و بیش چالیس خط بھیجے ان میں سے چند خط کتاب میں شامل کرلیے گئے۔ اس طرح محمد حسن پر میری کتاب کا مرحلہ تمام ہوا مگر محمد حسن پر گفتگو کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ ایک بار مجھ سے کہنے لگے کہ محمد حسن احتشام حسین سے بڑے نقاد ہیں۔ میں نے اتنا کہا تھا کہ بے شک حسن صاحب کے یہاں بڑی وسعت اور ذہانت ہے لیکن محمد حسن کا زمانہ احتشام حسین کے بعد کا ہے۔ اصل میں ان کے ذہن میں کوئی ایسی بات آتی تو فون پر کہہ دیتے۔ محمد حسن صاحب کی رحلت کے بعد وہ دہلی تشریف لائے۔ وہ جب محمد حسن صاحب کے گھر تعزیت پیش کرنے جارہے تھے میں بھی ان کے ساتھ تھا۔
گذشتہ سال رسالہ ’کتاب‘ کی پوری فائل عنایت کردی۔ میرے شاگرد محضر رضا یہ رسالے لے کر آئے۔ ان کی خواہش کے مطابق رسالہ ’کتاب‘ پر کوئی تحقیقی و تنقیدی کام کراؤں گا۔ ان کی ذاتی لائبریری میں کچھ اور اہم رسالے بھی تھے۔ وہ کہتے تھے یہ سب آپ کے پاس پہنچ جائیں گے۔ چند ماہ ہوئے بیخود موہانی کی دیوان غالب کی شرح ڈاک سے ملی۔ ساتھ میں ایک خط بھی تھا۔ میں ان کی کس کس عنایت کا ذکر کروں۔ میں جب چھٹیوں میں وطن جاتا تو والدین کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کرتے۔ میری والدہ پٹنہ کے ایک ہاسپٹل میں زیرعلاج تھیں۔ روز ہی فون کرکے خیریت دریافت کرتے۔ کئی لوگوں کو پٹنہ فون کرکے امی کی علالت کی خبر دی اور وہ لوگ حال پوچھنے ہاسپیٹل آتے۔  انھوں نے اپنی تمام کتابوں کے نئے ایڈیشن بذریعہ ڈاک مجھے بھیجتے تھے۔ آخری کتاب ’پورے آدھے ادھورے‘ گذشتہ سال لکھمنیاں کے پتے پر بھیجی۔ میں چھٹیوں میں وطن میں تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ گھر اس لیے روانہ کررہا ہوں وہاں پڑھنے کا وقت زیادہ ملے گا۔ ہنس کر کہنے لگے یہ تو یوں ہی ایک بات کہہ دی۔ کتاب آپ تک پہنچ گئی اور بس۔ اس وقت تک میری کتاب ’بلراج مینرا ایک ناتمام سفر‘ شائع ہوگئی تھی۔ اسی سفر میں لکھمنیاں سے لکھنؤ میں نے کتاب پوسٹ کی۔ کتاب کی رسید میں فون کیا اور فرمانے لگے کہ بھائی بلراج مین را کو آپ نئے منظرنامے میں لے آئے اور ہر طرف سے آپ نے انھیں اور ان کے عہد کو گھیرنے کی کوشش کی۔ایک اہم بات یہ بھی کہی تھی کہ متن کی آزادانہ قرأت پر آپ نے بہت زور دیا ہے۔ قرأت کے تعلق سے میں کچھ پڑھنا چاہتا ہوں۔ انھیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے شائع ہونے والی کتاب ’متن کی قرأت‘ مطلوب تھی۔ پتہ نہیں انھیں مل سکی یا نہیں۔ میں بھی وقت پر یہ کتاب انھیں روانہ نہیں کرسکا۔ میں نے ساسیئر کی کتاب کا بھی نام لیا تھا۔ کہنے لگے بھائی کتاب کیسے ملے گی۔  میں حیران تھا ایک بزرگ جس کی صحت خراب رہتی ہے وہ کس طرح نئے مسائل اور میلانات کو پڑھنا اور سمجھنا چاہتا ہے۔ مجھے ان کے ہم عصر ایسے لوگ بھی ملے جو نئے نظریات کو پڑھے اور سمجھے بغیر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ تعصب میں اخلاص اگر ہو تو اس کی بھی تھوڑی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ عموماً لوگ نئے نظریات سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ ذہنی آسودگی میں خلل نہ پڑے۔
گذشہ چند برسوں میں ان کی ادبی سرگرمیاں بڑی حد تک ڈاکٹر عبدالعلیم کی تحریروں کی تلاش، ترتیب اور تفہیم پر مرکوز ہوگئی تھیں۔ ’کلیات عبدالعلیم‘ کے نام سے قومی کونسل برائے فروغ سے دو جلدیں شائع ہوئیں۔ عابد سہیل نے عبدالعلیم کی منتشر تحریرو ںکو یکجا کرنے اور ان کی پیش کش میں جس محنت اور ذمہ داری کا ثبوت فراہم کیا ہے وہ تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے ایک مثال ہے۔ عبدلعلیم کی ان تحریروں کی تلاش ایک شخص کی اپنی محنت اور شوق کا نتیجہ ہے، اس شخص کا نام عابد سہیل ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں بہت لوگوں سے تبادلۂ خیال کیا ہوگا انھیں تعاون بھی ملا ہوگا مگر جو عمومی صورت حال ہے اس کے بارے میں کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ عبدالعلیم کی کچھ تحریروں کی تلاش میں وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری بھی تشریف لائے تھے۔

عبدالعلیم رشتے میں ان کے ماموں تھے۔ لوگ ان کے اس تحقیقی انہماک میں قرابت کا حصہ بھی دیکھتے ہیں۔مگر صرف قرابت سے کام نہیں چلتا۔ سچا جذبہ بھی چاہیے۔ ہاں میں نے یہ ضرور محسوس کیا ہے کہ عبدالعلیم کے تعلق سے وہ جذباتی ہوجاتے تھے۔ ترقی پسندوں میں ان کی اہمیت سے کسی نے انکار نہیں کیا مگر وہ انھیں سب سے فائق ٹھہراتے اور دوسروں سے اس کی تائید بھی چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ مجھ سے کہنے لگے کہ سجاد ظہیر کی کتاب ’ذکر حافظ‘ اصل میں ڈاکٹر عبدالعلیم کی لکھی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ سر اس کی تصدیق معتبر ذرائع سے ہونی چاہیے ایسا کوئی ڈرافٹ ہو جو علیم صاحب کا ہو یا پھر ذکر حافظ کے اسلوب سے معلوم ہو کہ واقعی یہ عبدالعلیم ہی کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔ ایسی ہی باتوں سے کچھ ترقی پسند حضرات ناراض ہوجاتے کبھی وہ بتاتے بھی تھے مگر یہ تو ناراض ہونے کے بہانے ہیں۔ اصل مسئلہ تو عابد سہیل کی علم دوستی، سچائی اور مطالعے کے شوق کا ہے، جس نے ترقی پسندی کو مشکل وقت میں ایک حوصلہ عطا کیا مگر اسے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بھی وہ تہذیب چاہیے جو عابد سہیل کے یہاں تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ کہیں یہ ترقی پسندی ہے جو دربار سے انعام و اکرام حاصل کرنے یا کسی کمیٹی میں اپنا نام رکھوانے کے لیے بے چین رکھتی ہے۔ محمد حسن کو وہ ہر لحاظ سے ترقی پسندی کا آخری علمی چہرہ بتاتے تھے جس نے کبھی ترقی پسندی کو شخصیت سازی کے لیے استعمال نہیں کیا۔
عابد سہل نے افسانے بھی لکھے اور افسانے کی تنقید بھی لکھی۔ لیکن رفتہ رفتہ رسالہ ’کتاب‘ کی ادبی صحافت اور خودنوشت ’جویادرہا‘ ان کی کارگزاریوں کا بنیادی حوالہ بن گئی۔ انھیں خود بھی ان دو حوالوں کا شدید احساس تھا اور وہ اپنے افسانوں کا ذکر کم کم کرنے لگے تھے۔ اس تعلق سے میں سوچتا ہوں تو عابد سہیل کی دیانت داری اور حقیقت پسندی مزید روشن ہوتی جاتی ہے۔ اپنے عہد کے تجریدی اور علامتی افسانے کچھ زیادہ پسند نہیں تھے مگر اس میں ایسی کوئی شدت نہیں تھی۔ اپنے اختلافات کے اظہار میں ان کی آواز بہت ترش اور بلند نہیں ہوتی تھی۔
’جویا درہا‘ پر میں تبصرہ کرچکا ہوں۔یہاں صرف اتنا کہنا ہے کہ ’جویادرہا‘ کے اسلوب کی دلکشی میں عابد سہیل کی افسانہ نگاری کا بھی اہم کردار ہے۔ کمال یہ ہے کہ اسلوب افسانہ کی حدمیں داخل نہیں ہوتا۔ قاری محسوس کرسکتا ہے کہ ’جویادرہا‘ کا مصنف کہتے کہتے خاموش ہوجاتا ہے یا ہونا چاہتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملوں نے بھی اس خاموشی اور کہتے کہتے خاموش ہوجانے کے عمل کو تقویت پہنچائی ہے۔ یہ انداز ان کی گفتگو کا بھی تھا۔ جب وہ گریز اختیار کرتے تو کہتے تھے خیر اسے چھوڑیے۔ یہ خاموشی یا کہتے کہتے چپ ہوجانے کی روش مصلحت نہیں۔ ’جویادرہا‘ میں ان کے وطن اڑائی کا بھی ذکر ہے۔ تبصرے میں میں نے لکھا ہے کہ اڑئی سے اختر اورینوی کے وطن اڑین کا خیال آتا ہے۔ پڑھ کر کہنے لگے کہ آپ نے یہ رشتہ قائم کرکے میری عزت بڑھا دی۔

عابد سہیل نے فکشن سے متعلق زیادہ لکھا۔ ادھر چند برسوں میں خاکوں کی طرف ان کی توجہ مرکوز رہی۔ ’جویادرہا‘ میں بھی بعض شخصیات کے تعلق سے خاکہ نگاری کا حسن دیکھا جاسکتا ہے۔ عابد سہیل کا خاکہ نگاری کی طرف متوجہ ہوجانا ایک پناہ گاہ کی تلاش بھی ہے۔ انھوں نے بعض اہم ناقدین سے خاکوں کے ذریعہ اپنی قربت کا احساس کرایا۔ ان میں تنقیدی اشارے بھی ہیں مگر مجموعی طور پر انھوں نے اپنی ذات کے حوالے سے ان شخصیات کو دیکھا ہے اور خاکوں میں اپنی ذاتی قربت کو خاکہ نگاری کا مسئلہ نہیں بنایا۔ دوسروں کی ذات اور شخصیت میں زندگی کی قدر کی تلاش ایک عام سی بات ہے۔ عابد سہیل نے زندگی کے معمولی پن کو بڑی اہمیت دی ہے۔ بڑی شخصیات انھیں اس لیے بڑی لگتی ہیں کہ ان کے یہاں زندگی کا یہ معمولی پن موجود ہے جن کے ہاں یہ بات نہیں ہے ان کے تعلق سے عابد سہیل کا خاکہ صرف تذکرہ بن جاتا ہے۔ اور وہ فاصلے پر کھڑے معلوم ہوتے ہیں۔ ان خاکوں میں تنقیدی لہر بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے مگر وہ خاکہ نگاری کو خراب نہیں کرتی۔ انھوں نے محمد حسن پر دو مضامین لکھے۔ یہ مضامین خاکے کی مانند ہیں یا خاکے ہی ہیں۔ پہلا مضمون میری درخواست پر لکھا تھا جو میری کتاب ’محمد حسن نقاد اور دانشور‘ میں شامل ہے۔ دوسراخاکہ ان کے خطوط کی روشنی میں لکھا گیا ہے۔
عابد سہیل کے ذہن میں اور بھی کئی خاکے تھے جنھیں ضبط تحریر میں آنا تھا۔  انھوں نے کئی دوستوں کے انتقال پر یہ شعر سنایا تھا:
میں نہیں ہوں تو مرے چاہنے والے ہیں بہت
ہاے کیا خوب چلی رسم وفا میرے بعد

TOPPOPULARRECENT