Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / عادل آباد کی تین ضلعوں میں تقسیم پر اپوزیشن کو اعتراض

عادل آباد کی تین ضلعوں میں تقسیم پر اپوزیشن کو اعتراض

آبادی کے تناسب پر نئے ضلعوں کی تشکیل پر زور ، چیف منسٹر کے کل جماعتی اجلاس سے قائدین کا خطاب
حیدرآباد ۔ 20 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے نئے اضلاع کے مسئلہ پر سکریٹریٹ میں طلب کردہ کل جماعتی اجلاس میں تمام جماعتوں نے اضلاع کی تعداد بڑھا کر 27 کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا تاہم آبادی کے تناسب سے اضلاع کی مناسب تشکیل نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے 35 لاکھ آبادی پر مشتمل رہنے والے ضلع عادل آباد کو تین اضلاع میں تقسیم کرنے اور زائد 40 لاکھ آبادی رہنے والے شہر حیدرآباد کو ایک ضلع بنانے پر اعتراض کرتے ہوئے دوسرے مسائل پر روشنی ڈالی ۔ چیف منسٹر نے عوام کی رائے حاصل کرنے کے بعد قطعی فیصلہ کرنے سے قبل پھر ایکبار کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا اپوزیشن جماعتوں کو تیقن دیا ۔ اس اجلاس میں کانگریس کی جانب سے قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر اور ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ملو بٹی وکرامارک ، تلگو دیشم کی جانب سے ایل رمنا اور آر چندر شیکھر ریڈی ، سی پی ایم کی جانب سے ٹی ویرا بھدرم اور جے رنگاریڈی ، سی پی آئی کی جانب سے چاڈا وینکٹ ریڈی ، مجلس کی جانب سے احمد پاشاہ قادری اور امین جعفری ، بی جے پی کی جانب سے رامچندر راؤ وغیرہ نے شرکت کی۔ بعد ازاں سکریٹریٹ کے میڈیا پوائنٹ پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کے 10 اضلاع کی تعداد کو بڑھاکر 27 کرنے کی تجویز کا خیر مقدم کیا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کسی بھی کام کی انجام دہی کے لیے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی لازمی ہے ۔ مسودہ میں کئی خامیاں ہیں ۔ ضلع عادل آباد کی آبادی 35 لاکھ ہے مگر اس کے لیے تین اضلاع تشکیل دئیے جارہے ہیں ۔ مگر شہر حیدرآباد کی آبادی 40 لاکھ ہے مگر تاریخی شہر کا بہانہ بناتے ہوئے اس کو تقسیم نہیں کیا جارہا ہے ۔ ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ اضلاع کی تقسیم میں ایک ضلع کی آبادی 7 لاکھ تو دوسرے ضلع کی آبادی 12 لاکھ اور تیسرے ضلع کی آبادی 40 لاکھ رکھی گئی ہے جس پر کانگریس کو اعتراض ہے ۔  سی پی ایم کے قائد ٹی ویرا بھدرم نے اضلاع کی تقسیم میں نظم و نسق کو ملحوظ رکھتے ہوئے سماجی انصاف کرنے پر زور دیا ۔ ضلع عادل آباد کو خصوصی پیاکیج دینے گریجن کونسل قائم کرنے بھدرا چلم کو ضلع بنانے شاد نگر کو شمس آباد میں ملا کر محبوب نگر کا نقصان نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ تلگو دیشم کے قائدین آر چندر شیکھر ریڈی اور ایل رمنا نے کہا کہ چند اضلاع کی آبادی 6 لاکھ پر چند اضلاع کی آبادی 10 لاکھ سے زائد ہونے کا دعویٰ کیا ۔ سی پی آئی کے قائد سی وینکٹ ریڈی نے قبائیلیوں کے لیے علحدہ ضلع بنانے کا مطالبہ کیا ۔ عوام کی جانب سے کئی نئے اضلاع تشکیل دینے کے مطالبات کیے جارہے ہیں اس پر بھی توجہ دینے کا مطالبہ کیا اور ایک اسمبلی حلقہ کو تین اضلاع میں تقسیم کرنے کی مخالفت کی ۔ بی جے پی کے قائد رامچندر راؤ نے جنگاؤں کو ضلع بنانے کے مطالبہ پر غور کرنے کا مشورہ دیا ۔

TOPPOPULARRECENT