Friday , July 21 2017
Home / Top Stories / عازمین حج کو گرمی سے راحت

عازمین حج کو گرمی سے راحت

سعودی انجینئر نے ایئرکنڈیشنڈ چھتری ایجاد کرلی

جدہ ۔ 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) فریضہ حج اسلام کا ایک ایسا اہم رکن ہے جسے ہر مسلمان اپنی زندگی میں ایک بار ضرور انجام دیتا ہے۔ حج بیت اللہ کے زمانے میں اقطاع عالم سے مسلمانوں کی بڑی تعداد مدینہ منورہ اور مکتہ المکرمہ پہنچتی ہے۔ اس وقت وہاں موسم شدید گرم ہوتا ہے جس کیلئے سعودی عرب کی وزارت صحت عازمین کو ہمیشہ چھتری استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہیں لیکن سعودی عرب کے ایک انجینئر محمد حامد سائغ جو مکتہ المکرمہ کے ساکن ہیں، نے مکہ ’’امبریلا‘‘ کے نام سے ایک ایرکنڈیشنڈ چھتری ایجاد کی ہے جو شمسی توانائی کی بنیاد پر کام کرتی ہے یا پھر اس میں بیٹریوں کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے عازمین کو بہت راحت ملے گی اور وہ جسم میںپانی کی کمی (ڈی ہائڈریشن) اور لو لگنے سے بچ جائیں گے۔ اس منفرد چھتری کی لانچنگ کے موقع پر سائغ نے کہا کہ یوروپ، ایشیاء اور دیگر ممالک سے آنے والے عازمین ایئرکنڈیشنڈ چھتریوں کو استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں جو شدید گرم موسم میں انہیں راحت پہنچا دی ہے۔ سائغ نے بتایا کہ حج سیزن کے دوران ہی انہیں چھتری کے اندر پنکھا نصب کرنے کا خیال آیا تھا۔ محمد حامد سائغ نے اپنی ایجاد کو کنگ عبدالعزیز سٹی فارسائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں رجسٹر کروادیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT