Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / عازمین کو دوران حج مناسک کو صبروضبط کیساتھ ادا کرنے کا مشورہ

عازمین کو دوران حج مناسک کو صبروضبط کیساتھ ادا کرنے کا مشورہ

مسجد بغدادی ٹیک میں اجتماع، سرکردہ علماء کرام کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 اگست (پریس نوٹ) تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی کے زیراہتمام انتظامی کمیٹی مسجد بغدادی ٹیک نامپلی کے اشتراک سے آج مسجد بغدادی ٹیک نامپلی میں عازمین حج کا تربیتی اجتماع منعقد ہوا، جس میں ممتاز علماء کرام نے مخاطب کرتے ہوئے عازمین پر زور دیا کہ وہ حج و عمرہ کے تمام مناسک پورے اطمینان اور صبر و ضبط کے ساتھ دلجمعی سے ادا کریں اور زیارت روضہ نبوی ؐ کے موقع پر بھرپور ادب و احترام کا مظاہرہ کریں۔ اجتماع کا آغاز حافظ و قاری سید عاصم نقشبندی کی قرأت کلام پاک اور جناب منیراحمد کی نعت شریف سے ہوا۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ امیر ملت اسلامیہ نے خطاب کرتے ہوئے حج و عمرہ کے فضائل بیان کئے اور کہا کہ عازمین خوش نصیب ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنے گھر کے دیدار کی دعوت دی ہے۔ مولانا شاہ جمال الرحمن سرپرست امارت ملت اسلامیہ نے فضائل و مناسک و مسائل عمرہ بیان کئے اور احرام کی شرائط بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ حالت احرام میں آنے کے بعد اس کی شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ مولانا ڈاکٹر احمد محی الدین شیخ الحفاظ مدرسہ نعمانیہ نے حج کے پانچ دنوں کی تفصیلات بیان کیں اور عرفات، منیٰ و مزدلفہ میں قیام کی فضیلتیں اور مسائل پر روشنی ڈالی۔ رمی جمار، طواف زیارت اور قربانی و حلق سے متعلق امور بیان کئے۔ مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ نے زیارت روضہ نبوی ؐ کے آداب بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بے حد ادب و احترام کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہیکہ نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کریں ورنہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں گے اور تمہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جس نے مسجد نبوی ؐ میں 40 نمازیں ادا کیں وہ نفاق، عذاب اور دوزخ سے بری ہوگیا۔ انہوں نے بعد میں عازمین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ سابق کوآرڈینیٹر اسٹیٹ حج کمیٹی نے سفر حج سے متعلق اہم امور بیان کئے اور عازمین کو ہدایت کی کہ وہ اپنا عزم بلند رکھیں اور صبروتحمل کا دامن نہ چھوڑیں۔ سعودی قوانین و قواعد اور وہاں کے رہن سہن سے واقفیت حاصل کریں۔ ممنوعہ اشیاء خصوصاً خشخش  اور اس کے علاوہ کسی کا سامان ہرگز نہ لے جائیں اور اس معاملہ میں کسی پر بھروسہ نہ کریں۔ اپنے دستاویزات کی دو نقولات اور ہندوستان میں اپنے رشتہ داروں کے نام و ٹیلیفون نمبروں کی فہرست ضرور ساتھ رکھیں۔ پہلے حج کا فرض ادا ہوجائے اس کے بعد زیارتوں کا اہتمام کریں۔ اپنے پیسے معلم کے پاس لاکر میں رکھوائیں۔ اگر سامان گم ہوجائے تو ہندوستانی مشن میں رپورٹ کریں جو دو جوڑے کپڑے، احرام اور ایک سو ریال فراہم کرے گا۔ مسجد قبا میں دو رکعت نماز پر عمرہ کا ثواب ہے۔ مسرس عبدالرؤف غازی، محمد اطہر حسین، محمد بلال، قاضی سید شاکر علی اور محمد کریم الدین بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT