Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / عالمی امن اشاریہ میں ہندوستان کو 141 واں مقام

عالمی امن اشاریہ میں ہندوستان کو 141 واں مقام

تشدد کے سبب ہندوستانی معیشت کو 680 ارب ڈالر کا نقصان، آئسلینڈ دنیا کا پرامن ملک
ممبئی؍ لندن ۔ 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) عالمی امن کے اعشاریہ میں ہندوستان کو 141واں مقام حاصل ہوا جس کے اعتبار سے وہ (ہند)، افراتفری سے متاثرہ چھوٹے افریقی ممالک برونڈی اور برکین فاسو کے علاوہ مشرقی یوروپی ملک سربیا جیسے کم پرامن ملکوں میں شامل ہوگیا ہے، جہاں 2015ء کے دوران تشدد کے نتیجہ میں معیشت کو 680 ارب امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ عالمی مفکر و مبصر ادارہ برائے امن و اقتصاد کی طرف سے تیار کردہ 163 ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کو نچلا مقام حاصل ہوا ہے۔ شام کو انتہائی کم پرامن ملک قرار دیا گیا ہے جس کے بعد جنوبی سوڈان، عراق اور افغانستان کے علاوہ صومالیہ شامل ہیں۔ دوسری طرف آئسلینڈ کو دنیا کا پرامن ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ ڈنمارک دنیا کا دوسرا اور آسٹریا تیسرا پرامن ملک ہے۔ ہندوستان اگرچہ اس سال کی فہرست میں دو پائیدان اوپر گیا ہے لیکن جائزہ میں کہا گیا ہیکہ 2015ء کے دوران ہندوستان میں امن کی صورتحال ابتر رہی۔ اس کے باوجود اس کا دو پائیدان اوپر آنا دراصل اس کے نیچے موجود دیگر ممالک میں امن و ضبط کی صورتحال میں مزید ابتری ہے۔ اس فہرست میں بھوٹان کو 13 مقام کے ساتھ جنوبی ایشیاء کا پرامن ترین مقام قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کو 153 واں اور افغانستان کو 160 واں مقام حاصل ہے۔ ہندوستان کا موقف اندرون ملک اور بین الاقوامی تصادم اور فوجی سرگرمیوں کے سبب معمولی طور پر متاثر ہوا ہے۔ ہندوستان بدستور دہشت گرد سرگرمیوں کیلئے مخدوش ہے اور اس کو پاکستان سے متصلہ اپنی سرحدوں پر سیکوریٹی خطرات لاحق ہیں۔ ایک سال کے دوران بیرونی سرزمین سے منظم کردہ دہشت گرد حملوں کے سبب ہونے والی اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

1993ء ممبئی دھماکہ کیس : معافی یافتہ گواہ بنانے
ٹاڈا عدالت میں ملزم کی درخواست مسترد
ممبئی۔ 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) ٹاڈا کی ایک خصوصی عدالت نے 1993ء سلسلہ وار دھماکوں کے ایک ملزم کے معافی یافتہ گواہ بننے سے متعلق درخواست کو آج مسترد کردیا ۔ خصوصی جج جی اے سناپ نے کہا کہ ’’آپ کی درخواست مسترد کردی گئی ہے‘‘۔عدالت نے ملزم فیروز خاں کی ایک زبانی درخواست کو بھی مسترد کردیا جنہوں نے رمضان کی عید تک انہیں آرتھر روڈ جیل میں رکھنے کی استدعا کی تھی۔ قبل ازیں فیروز خاں نے عدالت میں درخواست داخل کرتے ہوئے معافی یافتہ گواہ بننے کی خواہش ظاہر کی تھی جس کے بعد انہیں نوی ممبئی کی تلوجہ جیل کو منتقل کردیا گیا تھا۔

مصطفی دوسہ کو سخت سکیورٹی میں رکھنے کی ہدایت
اس دوران آرتھر روڈ سنٹرل جیل کے حکام نے ٹاڈا کی خصوصی عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے 1993ء ممبئی سلسلہ وار دھماکے کیس کے ایک اور ملزم مصطفی دوسہ کو تھانے جیل منتقل کرنے کی درخواست کی، تاہم عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ دوسہ کو سخت سکیورٹی والے ’انڈہ‘ سیل میں رکھا جائے۔ دوسہ جیل میں اپنی ٹولی بنالیا ہے جہاں 60 فیصد قیدی مسلم ہیں جن پر دوسہ کو برتری حاصل ہے۔

TOPPOPULARRECENT