Sunday , July 23 2017
Home / دنیا / عالمی امن کیلئے اسرائیل سب سے بڑا خطرہ

عالمی امن کیلئے اسرائیل سب سے بڑا خطرہ

وزارت خارجہ ایران کے ترجمان بہرام قاسمی کا خبررساں ادارہ ارنا کو انٹرویو
تہران ۔ 16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایران نے آج کہا کہ اسرائیل کا ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ایک دن قبل ہی صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار تیار کررہا ہے لیکن وہ اس کے انسداد کا عہد کئے ہوئے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارہ ارنا کو وزارت خارجہ ایران کے ترجمان بہرام قاسمی نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل عالمی  امن اور صیانت کیلئے اس علاقہ میں بلکہ عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے لیکن قاسمی نے ٹرمپ اور نتن یاہو کے اس تبصرہ کو ’’بکواس‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ تلخ صداقت تو یہ ہیکہ بار بار صیہونی حکومت کی جانب سے نامنصفانہ دعوے کئے  جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی  کررہا ہے اور اس کے اسلحہ خانہ میں سینکڑوں وارہیڈس ذخیرہ کئے گئے ہیں۔ قاسمی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ایٹمی نگرانکار شعبہ نے بار بار توثیق کی ہیکہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام پرامن نوعیت کا ہے۔ سمجھا جاتا ہیکہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کی واحد نیوکلیئر طاقت ہے لیکن طویل مدت سے اس نے ایسے ہتھیار اپنے قبضہ میں ہونے کی نہ تو تردید کی ہے اور نہ توثیق۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ٹرمپ کے جنوری میں صدر کے عہدہ پر فائز ہونے سے پہلے ہی زبانی تکرار کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹرمپ کے پیشرو بارک اوباما کے دور میں امریکہ اور دیگر پانچ عالمی طاقتوں نے 2015ء میں ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا کہ اس پر عائد تحدیدات برخاست کردی جائیں گی اور اس کے بدلہ میں  ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام میں تخفیف کردے گا۔ ٹرمپ نے بار بار اس تاریخی معاہدہ کو ’’دنیا کے بدترین معاہدوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے کٹر حریف وزیراعظم اسرائیل نتن یاہو کو انتباہ دے چکا ہیکہ معاہدہ بہت جلد ختم ہوجائے گا اور اگر ایران کو دھمکیاں دینا جاری رکھا جائے تو وہ اس معاہدہ سے ترک تعلق کردے گا۔ ایران نے مستقل طور پر اس بات کی تردید کی ہیکہ وہ نیوکلیئر ہتھیار تیار کررہا ہے اور ادعا کیا ہیکہ اس کی سرگرمیاں صرف پرامن مقاصد کیلئے مخصوص ہیں جیسے کہ برقی توانائی تھی۔ نیوکلیئر پروگرام کے تحت پیداوار۔ دریں اثناء صدر ایران حسن روحانی مسقط کے دورہ پر روانہ ہوگئے جہاں سلطان قابوس نے مسقط کے ایرپورٹ پر ان کا گرم جوش خیرمقدم کیا اور ان کے ہمراہ مذاکرات کیلئے قصرشاہی روانہ ہوگئے۔ سمجھا جاتا ہیکہ دونوں ممالک کے قائدین عالمی مسائل، مشرق وسطیٰ کو درپیش چیلنجس، اسرائیل ۔ فلسطین تنازعہ اور باہمی مفاد پر مبنی دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ مسقط عام طور پر عالمی سیاست سے دور رہا کرتا ہے چنانچہ سلطان قابوس کا کوئی بھی سیاسی نوعیت کا بیان ذرائع ابلاغ میں شائع نہیں کیا جاتا۔ سلطان قابوس کی توجہ صرف اپنے ملک مسقط کے عوام کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہے ۔ یہی وجہ ہیکہ ان کی دولت اور عمارت کے تذکرہ بھی نہیں ہوتے اور نہ مسقط میں کبھی ناراضگی کی لہر پیدا ہوئی ہے۔ مسقط کے عوام خوشحا ل ہیں اور کبھی بھی مسقط سے عوامی احتجاج کی کوئی خبر نہیں آئی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT