Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / عالمی تہذیبی میلہ کی جمنا کنارے انعقاد کی راہ ہموار

عالمی تہذیبی میلہ کی جمنا کنارے انعقاد کی راہ ہموار

اے او ایل پر پانچ کروڑ روپئے کا ابتدائی جرمانہ،سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ
نئی دہلی ۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بڑھتے ہوئے تنازعہ کا لحاظ کئے بغیر تین روزہ تہذیبی پروگرام کی راہ ہموار ہوگئی جو دریائے جمنا کے کنارے سیلابی میدان میں ’’طرززندگی کا فن‘‘ کے زیرعنوان سری سری روی شنکر پیش کریں گے۔ قومی گرین ٹریبونل نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے احکام کی تعمیل کروانے کے اختیارات نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ اس پروگرام پر امتناع عائد نہیں کرسکتی۔ تاہم اس نے پانچ کروڑ روپئے کا ابتدائی جرمانہ اے او ایل پر ماحولیاتی معاوضہ کے بطور عائد کیا ہے اور یہ جرمانہ پروگرام کے انعقاد سے قبل ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اے او ایل پر زبردست تنقید کرتے ہوئے دہلی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور وزارت ماحولیات کے کردار پر بھی ٹریبونل نے شدید تنقید کی۔ رات دیر گئے اے او ایل نے اعلان کیا کہ وہ ٹریبونل کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرے گی۔ عام طور پر ٹریبونل کے فیصلوں کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ میں کی جاسکتی ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے حکومت پر اس تقریب کے انعقاد کی اجازت دینے اور اس علاقہ میں پلوں کی تعمیر کیلئے فوجیوں کے استعمال پر سخت تنقید کی لیکن حکومت نے یہ کہتے ہوئے اس تنقید کو مسترد کردیا کہ سری سری روی شنکر ماحولیات کے تحفظ کے پابند ہیں اور یہ مسئلہ ایوان میں زیربحث نہیں لایا جاسکتا کیونکہ اس سلسلہ میں ٹریبونل کے اجلاس پر مقدمہ زیردوران ہے۔ ٹریبونل کی بنچ نے کہا کہ پانچ کروڑ روپئے کا ابتدائی جرمانہ تقریب کے آغاز سے قبل ہی ادا کیا جانا چاہئے

اور اس کو بحالی کے کاموں کے اخراجات میں منہا کردیا جائے گا۔ ٹریبونل نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جس میں دہلی آلودگی پر قابو پانے کی کمیٹی، وزارت ماحولیات و جنگلات اور مرکزی آلودگی پر قابو پانے والے بورڈ کے نمائندے شامل رہیں گے اور کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ اس مقام کا جہاں تقریب منعقد کی جانے والی ہے، فوری معائنہ کرے۔ بورڈ اپنے احکام پر عمل آوری سے قاصر ہے کیونکہ اس کے پاس ایسے اختیارات نہیں ہیں کہ وہ اپنے احکام پر عمل آوری کرا سکے۔ چنانچہ ڈی پی سی سی کو ایک لاکھ روپئے لاگت ادا کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ ٹریبونل نے کہا کہ ہمیں ڈی پی سی سی کو جو صورتحال کی ذمہ دار ہے، خاطی قرار دینے میں کوئی جھجک نہیں ہے کیونکہ اس نے اس حقیقت کے باوجود کہ فاونڈیشن نے اس کی مرضی جاننے کیلئے درخواست داخل کی تھی، انتظامات کئے۔

TOPPOPULARRECENT