Wednesday , October 18 2017
Home / دنیا / عالمی سطح پر ’’سزائے موت‘‘ میں خطرناک اضافہ: ایمنسٹی انٹرنیشنل

عالمی سطح پر ’’سزائے موت‘‘ میں خطرناک اضافہ: ایمنسٹی انٹرنیشنل

چین سرفہرست ۔ ایران ، سعودی عرب اور پاکستان کا حصہ 89% ،امریکہ پانچویں نمبر پر : حقوق انسانی کی عالمی تنظیم کی رپورٹ
لندن ؍ اسلام آباد۔6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ’’ایمنسٹی اِنٹرنیشنل‘‘ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پھانسیاں دینے کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور 1989ء کے بعد سے کسی بھی سال اتنے افراد کو پھانسی نہیں دی گئی جتنی گزشتہ سال دی گئی ہے۔تنظیم کی جانب سے پھانسی کی سزا کے بارے میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2015ء میں کم از کم 1,634  افراد کو پھانسی دی گئی جو کہ اس سے قبل والے سال کے مقابلے میں 50% سے بھی زیادہ ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دنیا میں دی جانے والی پھانسیوں میں ایران، سعودی عرب اور پاکستان کا حصہ 89% ہے۔حقوق انسانی کی عالمی تنظیم نے کہا کہ اس رپورٹ میں چین میں دی جانے والی پھانسیوں کا ذکر نہیں اور امکان ہے کہ مجموعی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہو کیونکہ چین میں پھانسیوں کے ریکارڈ کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق چین اب بھی پھانسی دینے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ اندازہ کے مطابق 2015ء میں ہزاروں افراد کو موت کی سزا دی گئی جبکہ دیگر ہزاروں لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی۔تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایسے اشارے ملے ہیں کہ چین میں حالیہ برسوں میں موت کی سزا دینے میں کمی آئی ہے تاہم سزائے موت کو خفیہ رکھنے کی وجہ سے یقینی طور پر اس کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔

تنظیم کے مطابق ایران میں گزشتہ برس 977  افراد کو پھانسی دی گئی اور ان میں سے اکثریت کو منشیات سے متعلق جرائم کے لیے پھانسی دی گئی جبکہ 2014ء میں 743  افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔پاکستان میں 326 افراد کو پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں اندرون ایک سال دی جانے والی سب سے زیادہ پھانسیاں ہیں۔ سعودی عرب میں سال 2014ء کی بہ نسبت 2015ء  میں سزائے موت دینے میں 76% اضافہ ہوا اور 158 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔سعودی عرب میں زیادہ تر افراد کے سر قلم کئے گئے جبکہ بعض کی سزا پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعہ عمل درآمد کیا گیا اور بعض اوقات نعشوں کو عوامی مقامات پر بھی دکھایا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ دسمبر 2014 ء میں شہریوں کی پھانسیوں پر سے قانونی مہلت کے ہٹنے کے بعد سے پاکستان میں ’حکومت کی منظوری سے پھانسیاں دینے کا دور‘ چل پڑا ہے۔سزائے موت دینے والا پانچوں بڑا ملک امریکہ ہے جہاں 2015ء میں 28 افراد کو موت کی سزا دی گئی اور یہ تعداد 1991ء  کے بعد سب سے کم ہے۔ ایمنسٹی کے سیکریٹری جنرل سلیل شیٹی نے کہا ہے کہ ’پھانسیوں میں گذشتہ سال اضافہ انتہائی پریشان کن ہے۔’گذشتہ 25 برسوں کے درمیان کبھی بھی دنیا بھر میں کسی بھی حکومت نے اتنے افراد کو پھانسیاں نہیں دی تھیں۔ ‘مسٹر شیٹی نے ’ذبح کئے جانے‘ کے خاتمہ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 2015ء میں حکومتوں نے اس غلط مفروضے کی بنیاد پر لوگوں کو ان کی زندگیوں سے بے رحمی کے ساتھ جدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا کہ پھانسی دیئے  جانے سے دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT