Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / عالمی سطح پر غیریقینی حالات کے باوجود ہندوستان کی معیشت مستحکم

عالمی سطح پر غیریقینی حالات کے باوجود ہندوستان کی معیشت مستحکم

تیل اور دھاتوں کی قیمت میں کمی کے بالواسطہ منفی اثرات ، سرمایہ کاروں کو راغب کرنے سازگار ماحول ضروری :ارون جیٹلی
بنگلورو۔ 3 فروری (سیاست ڈاٹ کام) عالمی سطح پر غیریقینی صورتِ حال کے تناظر میں مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ ہندوستان کیلئے اس بحران سے پوری مضبوطی کے ساتھ باہر نکل آنا بہت اہم ہے، کیونکہ ہمارا ملک دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور ان سے آگے ہے۔ انہوں نے آج اِنویسٹ کرناٹک 2016ء چوٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناقابل قیاس تبدیلیاں اور غیریقینی کیفیت اب نئی عالمی روایت بن چکی ہے۔ ان حالات میں ہندوستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا کہ وہ مزید مستحکم طور پر اس بحران سے باہر نکل آیا۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ عالمی بحران کی وجہ بننے والے جو عوامل ہیں، ان کا ہندوستان پر نسبتاً زیادہ اثر نہیں ہوا ہے۔ تیل کی قیمت میں کمی اور دھاتوں کی قیمت میں بھی گراوٹ ہمارے لئے فائدہ مند رہیں۔ اس سے ہندوستانی معیشت پر بالواسطہ اثر پڑا کیونکہ برآمدات کم ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے ہماری مارکٹ مزید حساس ہوگئی اور کرنسی کی قدر بھی کم ہوئی ہے، لیکن دنیا بھر کے دیگر ممالک کے مقابلے ہم سب سے آگے اور مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آئندہ دو تا تین سال حالات پر نظر ڈالیں تو یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ عالمی صورتِ حال کیا رُخ اختیار کرے گی۔ ہندوستانی معیشت میں جاریہ مالی سال 7 تا 7.5 فیصد ترقی متوقع ہے۔ گزشتہ سال شرح ترقی 7.2% تھی۔ انہوں نے کہا کہ دُنیا اس وقت ایک انتہائی مشکل اور چیلنج سے بھرپور صورتِ حال سے دوچار ہے۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی انفرادیت کو نوٹ کیا گیا ہے۔

یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ عالمی سست روی کے دور میں بھی ہندوستان نسبتاً کم متاثر رہا اور سب سے نمایاں رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم 2001ء، 2008ء اور 2015ء کے عالمی بحران پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے لئے یہ اطمینان بخش پہلو ہے کہ معیشت کو مستحکم بنانے میں کامیابی ملی۔ 2008ء بحران کے بعد سے عالمی معیشت دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو پائی۔ اس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی ملک مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے یہ توقع نہیں کی کہ چین غیرمعمولی ترقی کرے گا اور شرح ترقی 2 ہندسی عدد تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین کی سست روی کا بھی ہم پر راست اثر نہیں ہوا سوائے چند ایک بالواسطہ اثرات کے جن سے موثر طور پر نمٹا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں جب مستحکم معیشت کو بھی جدوجہد سے گذرنا پڑا رہا ہے، ہمارے لئے یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم اپنے گھریلو معاشی نظام کو زیادہ سے زیادہ مستحکم بنائیں تاکہ بیرونی عوامی اثرانداز نہ ہوں۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ عالمی سرمایہ کار ہندوستان کی طرف توجہ مبذول کئے ہوئے ہیں اور ہندوستان کے لئے یہ اہم کہ ایک آواز ہوکر اس کا جواب دے۔ ہم وفاقیت یا ہماری جمہوریت کو اس راہ میں رکاوٹ بننے نہ دیں۔ مرکزی وزیر فینانس نے کہا کہ صرف سرمایہ کاری چوٹی اجلاس کے انعقاد سے ریاستوں کو مطلوبہ سرمایہ کاری حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس کے لئے ریاستوں کو ایک مستحکم انتظامیہ، بہتر حکمرانی، صاف ستھرا انتظامیہ اور مستحکم سیاست و پالیسیوں کے ساتھ ساتھ دیگر کئی سہولتوں کا ریکارڈ پیش کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT