Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / ’’عالمی سطح پر لوہا منوانے کی بجائے ہندوستان گھریلو مسائل پر توجہ دے ‘‘

’’عالمی سطح پر لوہا منوانے کی بجائے ہندوستان گھریلو مسائل پر توجہ دے ‘‘

ہارورڈ یونیورسٹی کے سالانہ ہندوستانی کنونشن 2016ء سے ششی تھرور کا خطاب
بوسٹن۔ 8 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق وزیر اور کانگریس قائد ششی تھرور نے کہا کہ ’’میک اِن انڈیا‘‘ اور منافرت جیسی پالیسیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں کیونکہ اقلیتوں کے خلاف حکمران جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے جو اناپ شناپ بیانات دیئے جارہے ہیں۔ اس سے ملک کا وقار متاثر ہورہا ہے۔ کانگریس ایم پی نے کہا کہ اگر حکومت بیرون راست سرمایہ کاری کے حصول کیلئے جو انفراسٹرکچر سیکٹر اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کرے گا۔ ملک کی پالیسی ایسی ہونی چاہئے جو کسی خاص فرقہ یا کسی خاص مذہب پر مرکوز نہ ہو بلکہ ملک کی ’’کثرت میں وحدت‘‘ والی پالیسی پر مرکوز ہو۔ ہندوستان کو عالمی سطح پر اپنا لوہا منوانے کی بجائے سب سے پہلے گھریلو مسائل کی یکسوئی پر توجہ دینا چاہئے۔ ہر اچھے کام کی شروعات گھر سے ہوتی ہے۔ آج ہمیں ہماری عوام  کو صحت مند رکھنے اور انہیں ہر ممکنہ تحفظ فراہم کرنے (صرف جہادیوں سے ہی نہیں) کی ضرورت ہے۔ ملک نے ترقی ضرور کی ہے لیکن اس ترقی کے ثمرات ہر ایک کو نہیں مل رہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے سالانہ کنونشن 2016ء کے ایک کلیدی خطاب کے دوران ششی تھرور سے یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب اگر ہم میک اِن انڈیا ، اسٹارٹ اَپ انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا کے نعرے دیتے ہوئے بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف منافرت کے واقعات بھی دیکھے جارہے ہیں۔ اس طرح یہ دونوں متضاد باتیں ایک ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نہیں چل سکتیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کا بزنس اسکول آڈیٹوریم طلبہ سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت کے بعض ارکان ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے اقلیتوں کی دلآزاری ہورہی ہے۔ ہندوستان کا ماحول آج ایسا ہونا چاہئے جہاں ایک مسلمان، ایک کائستھ، ایک عیسائی اور ایک سکھ اپنے آپ کو مکمل طور پر محفوظ سمجھے کیونکہ بین مذاہب ثقافت ہی ہم کو ایک دوسرے سے کچھ سیکھنے کا موقع عطا کرتی ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ کسی بھی ملک میں اگر صرف ایک ہی عقیدہ اور مذہب کے لوگ آباد ہوں گے تو وہاں Variation کا فقدان ہوگا۔ ہمیں الگ الگ تہذیبوں، ثقافتوں سے الگ الگ چیزیں معلوم ہوتی ہیں، جیسے لباس، پکوان، تہوار، روایتی رسم و رواج اور عبادت کرنے کے طریقے، انہوں نے ایک شعر پڑھا:
چمن میں اختلافِ رنگ و بو سے ہی بات بنتی ہے
تم ہی تم ہو تو کیا تم ہو، ہم ہی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں
اگر ہندوستان بھی اس چمن کی طرح بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی ’’کثرت میں وحدت‘‘ والی امیج برقرار رکھنی ہوگی۔ آج دہلی میں خواتین محفوظ نہیں۔ آج یہ سن کراچھا نہیں لگتا جب مسلمان کہتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے۔ طلباء کے مجمع میں ہندوستانی طلباء کی بھی کثیر تعداد تھی جہاں انہوں نے خصوصی طور پر ان طلباء کو بتایا کہ ان کے (تھرور) سرمایہ کاری کرنے والا کچھ دوستوں میں سے ایک دوست نے ہندوستان میں سرمایہ کاری سے صرف اس لئے انکار کردیا تھا کہ حالیہ دنوں میں اسے ہندوستان میں پائی جانے والی عدم رواداری کی رپورٹس نے بے چین اور غیرمحفوظ کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT