Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا موثر جواب حسن عمل کے ذریعہ ممکن

عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا موثر جواب حسن عمل کے ذریعہ ممکن

ہندوستان کے ماحول میں تبدیلی افسوسناک ، عدم روا داری کی صورتحال پر اظہار تشویش ، جماعت اسلامی کے اجتماع سے مفکرین و دانشوروں کا خطاب

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد ۔ 12 ۔ دسمبر : قومی و بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف جاری سازشوں کا موثر جواب صرف عمل کے ذریعہ دیا جاسکتا ہے ۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کبھی اس طرح کا ماحول پیدا نہیں ہوا تھا جو فی الحال ہندوستان کا ماحول بنا ہوا ہے ۔ ہندوستان میں عدم تحمل کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء ، سیاسی قائدین اور دانشوران ملت نے ملک کے حالات میں تبدیلی کے لیے متحدہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا ۔ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے منعقدہ چار روزہ اجتماع کے دوسرے دن منعقد کئے گئے جلسہ عام بعنوان ’’ ہندوستان کی تعمیر نو اور ہم ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ذمہ داران ملت اسلامیہ نے ملک کو فرقہ واریت و فسطائیت سے پاک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا سراج الحسن سابق امیر جماعت نے بتایا کہ ملک کی ترقی کی ذمہ داری ہر فرد پر عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بسنے والے ہر باشندے کا یہ ملک ہے اور اس کی ترقی کی ذمہ داری ہر ہندوستانی پر ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اس پر زیادہ ذمہداری اس لیے ہے کہ ہم خیرامت میں سے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ملت اسلامیہ کے فرد کی حیثیت سے ہمیں ذمہ داری کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے چونکہ ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنا ایک عظیم کام ہے۔مولانا سید جلال الدین انصر عمری کی زیرصدارت منعقدہ اس جلسہ عام سے  جناب محمد ادیب سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ملک میں موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے ۔ انہوں نے جواہر لال نہرو کے دور میں پٹنہ میں ہوئے فسادات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب مسلمانوں کو نقصان پہونچا تو اس وقت ایوان میں مولانا حفظ الرحمنؒ نے یہ کہا تھا کہ ’’مجھے اس بات پر بہت زیادہ افسوس ہورہا ہے کہ میں نے یہ سمجھا تھا آزادی ہند کے بعد اگر مسلمانوں کو کچھ ہوتا ہے تو ایسے میں نہرو ہمارے لیے آواز اٹھاتے لیکن اس مسئلے پر ہمیں ہی نمائندگی کرنی پڑ رہی ہے ‘‘۔ سابق رکن پارلیمنٹ جناب محمد ادیب نے ملک کی موجودہ صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے بڑی حد تک ذمہ دار خود ہم بھی ہیں چونکہ ہم نے مکمل دین کو نہیں سمجھا بلکہ ہم عبادتوں کو دین سمجھ بیٹھیں ہیں جب کہ مبلغین نے بحیثیت تاجر ، بحیثیت سیاح اور دیگر شعبہ حیات میں اپنی دیانت داری و حق گوئی کے علاوہ صداقت کی بنیاد پر دین کا پیغام عام کیا تھا ۔ انہوں نے امن و امان کے قیام کے لیے ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ مولاناکلب صادق شیعہ امام نے کہا کہ الیکشن کے دوران نریندر مودی جی نے کہا تھا کہ اچھے دن آئنیگے۔ لیکن اچھے دن تو ہمارے نہیں بلکہ مودی جی کے آگئے ہیں۔انھوں نے مندر بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن لگتا نہیں کہ مودی راج میںبھی یہ ممکن ہوسکے گا۔مسائل سے ہم کو غصہ نہیں بلکہ صبر کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔دنیا کو عقلمندی کے ساتھ ذہانت کے ساتھ جواب دینے کی کوشش کیجیے۔آج مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ اسکولس، کالجس اور یونیورسٹیوںکی ضرورت ہے، ہم کواس پر زیادہ توجہ دینی ہوگی تبھی مسلمانوں کی پسماندگی دور ہوسکتی ہے۔علم کو اگر ہم چھوڑیں گے تو فقیری قسمت میں آئے گی اور سب کچھ قیادت پر منحصر ہے۔ اس جلسہ عام سے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی ، جناب محمد شبیر علی قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل ، مولانا حافظ پیر شبیر احمد ، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ، مولانا ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینی سجادہ نشین درگاہ حضرت بندہ نوازؒ ، مولانا شیخ اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم اعلیٰ جمعیت اہلحدیث ، مولانا کلب صادق نائب صدر مسلم پرسنل لا بورڈ ، جناب نانک سنگھ نشتر ، جناب محمود پراچہ ایڈوکیٹ ، جناب حامد محمد خاں ، جناب مجتبیٰ فاروق کے علاوہ شری شری جگت گرو شنکر آچاریہ اومکار آنند پریاٹکی نے مخاطب کیا ۔ جلسہ عام میں مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ، جناب خلیق الرحمن ، جناب محمد اظہر الدین کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ جناب ملک معتصم خاں نے جلسہ میں نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔ شنکر آچاریہ اومکار آنند نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران اسلام کو امن و امان یکجہتی اور صبر و تحمل والا مذہب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق ہوتا تو ہندوستان میں کوئی ہندو باقی نہیں رہتا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر خود وزیراعظم بھی چاہے تو اس ملک سے مسلمانوں کو علحدہ نہیں کرسکتے چونکہ اس ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے ماننے والے درحقیقت ایک جسم کے مانند ہیں ۔ فرقہ وارانہ منافرت اور عدم تحمل کو انہوں نے سیاسی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی دنیا بھر میں امن کی بات کرتے گھوم رہے ہیں اگر وہی بات اپنے گھر میں کرنی شروع کردیں تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ اومکار آنند پریاٹکی نے کہا کہ مذہب خواہ کوئی ہو اس کا کام جوڑنا ہے اور اس کا مفہوم ہی درحقیقت جوڑنا ہے ۔ مذہب کسی کو کسی سے توڑتا نہیں ہے ۔ ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینی نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ دین اسلام نے انسانیت کی تعلیم دی ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور پیغام کو عام کرتے ہوئے ہم دین متین کے حقیقی سبق کو دنیا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ آج دنیا بھر میں دہشت گردی کا مسئلہ حکمران طبقہ اور عوام کو پریشان کیے ہوئے ہے جب کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں ہر طرح کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا درس دیا ہے ۔ مولانا خسرو حسینی نے بتایا کہ اولیاء کرام نے جو تعلیمات دی ہیں ان کے مطابق اسلام نے نفرتوں کو مٹانے کا کام کیا ہے اور کسی بھی مقام پر نفرت کو بڑھاوا نہیں دیا گیا ۔ اس موقع پر انہوں نے حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الہیؒ کا قول پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر بدلہ لینے کے لیے کانٹے بچھانے شروع کردئیے جائیں تو دنیا کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۔ ‘‘ اس لیے نفرتوں کو ختم کرتے ہوئے محبت امن و آشتی اور یکجہتی کے درس کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ فرقہ بندی اور مسلکی اختلاف سے بالاتر ہو کر ہمیں متحد ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے متعلق جو غلط فہمی پیدا کی جارہی ہے انہیں دور کرنے کے لیے ہمیں سرگرم کوششیں کرنی چاہئے ۔ جناب محمد محمود علی نے ملک کی آزادی میں مسلمانوں کی قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخ کو تبدیلی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ہمارے کردار کو نظر انداز کیا جاسکے ۔ لیکن ہماری کوششیں ہمارے اسلاف اور ہمارے کردار کو محفوظ کرسکتی ہیں ۔ انہوں نے تحریک تلنگانہ جماعت اسلامی کے رول کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اگر جماعت اسلامی ساتھ نہیں آتی تو مسلمانوں پر ایک اور الزام ہوتا کہ مسلمان تحریک تلنگانہ سے دور رہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے جماعت اسلامی کو منظم جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت کا ہمہ لسانی لٹریچر غیر مسلموں کے لیے کافی حد تک فائدہ مند ثابت ہورہا ہے ۔ جناب محمد محمود علی نے سائنس و ٹکنالوجی کے دور میں مسلم نوجوانوں کو آگے آنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت تمام طبقات کی یکساں ترقی کے عہد کی پابند ہے ۔ جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے اس موقع پر خطاب کے دوران کہا کہ نفرت پھیلانے والے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں جس کے سبب ملک خطرناک دور سے گذر رہا ہے ۔ آزادی ہند کے 67 سال کے دوران کبھی اس طرح کے عدم تحمل کا مسئلہ ملک کو درپیش نہیں رہا ۔ اب تک فرقہ واریت مخصوص طبقات یا گروہ کی حد تک ہوا کرتی تھی لیکن اب حکمراں طبقہ کی فرقہ واریت کے سبب یہ حالات پیدا ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ فرقہ پرست طاقتوں سے مقابلہ ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے ۔ جناب محمد علی شبیر نے ایوارڈ واپسی کے معاملے میں سیکولر ہندو قدآور شخصیتوں کے اقدام کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہندوستان کے معتبر ترین طبقہ کو فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف انتہائی اقدام کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جو لوگ اقتدار میں ہیں وہ سیکولرازم ، غذائی عادات اور نفرت جیسے حساس موضوعات پر بحث کرتے ہوئے عوام کو الجھانے میں مصروف ہیں ۔ جناب محمود پراچہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے تعداد کبھی معنی نہیں رکھتی 14 سو سال پہلے ہو یا اب ہم تعداد کی پرواہ کئے بغیر مضبوط ایمان کے ساتھ ہر کسی کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کیا جانا درحقیقت ملک دشمنی ہے اور جو لوگ اس سازش کا حصہ ہیں وہ ملک کے خلاف سازش تیار کررہے ہیں ۔ اسرائیل سفارت کار پر حملہ ہو یا انڈین مجاہدین کے مقدمات ان واقعات میں مسلم نوجوانوں کی باعزت رہائی سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ جو لوگ یہ سازش تیار کررہے ہیں اس کا مسلم نوجوان شکار بنتے جارہے ہیں ۔ انہوں نے ملت اسلامیہ کو مشورہ دیا کہ جھوٹے دہشت گردی کے مقدمات سے رہا ہونے والے نوجوانوں کا ہیرو کی طرح خیر مقدم کیے جانے کی ضرورت ہے ۔ جناب محمود پراچہ نے بتایا کہ ملک کی تعمیر نو کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے منتخبہ قائد نمائندوں کو جواب دہ بنائیں اور جواب یا حساب نہ ملنے کی صورت میں ان کے خلاف روزانہ مظاہرے کریں ۔ تاکہ انہیں اس بات کا احساس ہو کہ ہم عوام کی خدمت کے لیے منتخب ہوئے ہیں ۔ سردار نانک سنگھ نشتر نے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ مسلمان اور سکھ طبقہ نے اس ملک کو اپنے اختیار تمیزی سے منتخب کیا ہے ان کی کوئی مجبوری نہیں تھی۔ ان دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والوں سے یہ وعدے کئے گئے تھے کہ خصوصی مراعات دئیے جائیں گے لیکن وعدے وفاء نہیں ہوئے ۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے اپنے خطاب کے دوران ملک کی ترقی میں اکابرین کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا حفیظ الرحمن ؒ یہ تلقین کیا کرتے تھے کہ پیچھے چلو تاکہ شریعت پر عمل کے ذریعہ دنیا و آخرت کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے بتایا کہ ملک میں کرپشن ، دختر کشی ، غربت ، تعلیمی و معاشی بدحالی ، جیسے مسائل بڑھتے جارہے ہیں ۔ ان مسائل کے حل کے لیے ملک کی تعمیر نو ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT