Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / عالمی معاشی انتشار کے سال میں بھی ہندوستان کی اچھی کارکردگی

عالمی معاشی انتشار کے سال میں بھی ہندوستان کی اچھی کارکردگی

مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کا ادعا ‘ 2015ء کی معاشی کارکردگی کا جائزہ
نئی دہلی۔27ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی معیشت کی ’’عالمی ‘ معاشی انتشار کے سال میں بھی ‘‘ اچھی کارکردگی کے مظاہرہ کا ادعا کرتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے 2015ء کے دوران ہندوستانی معیشت کی شرح ترقی کا جائزہ لیا اور کہا کہ یہ آئندہ مہینوں میں مزید بہتر ہوگی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی معیشت کے انحطاط سے لاحق خطرہ کا ہندوستان نے اچھی طرح سامنا کیا ہے ۔ تاہم تسلیم کیا کہ ایسے شعبے بھی ہیں جن میں ہمیں زیادہ تیز رفتار سے ردعمل ظاہر کرنا چاہیئے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سال کے اختتام پر ہندوستانی معیشت کی کارکردگی کا جائزہ لے چکے ہیں اور مطمئن ہیں کہ عالمی ‘ معاشی انحطاط کے سال میں بھی ہندوستانی معیشت کی بنیادیں ’’انتہائی مضبوط‘‘ ہیں ۔ انہوں نے نئے سال کیلئے اپنی ترجیحات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ادارہ جاتی اصلاحات جاری رکھیں گے اور اُن کی ترجیحات جی ایس ٹی ‘ راست محاصل کی معقولیت اور طویل کاروبار کے سسٹم میں مزید نرمی پیدا کرنا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کے بعد وہ لازمی طور پر تین باتوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہیں گے ۔ طبعی انفراسٹرکچر کیلئے مزید رقم اہم انفراسٹرکچر خاص طور پر آبپاشی کیلئے مزید رقم مختص کی جانی چاہیئے کیونکہ یہ نظرانداز کردہ شعبہ ہے ۔ معیشت مقامی طور پر آغاز سے پہلے ہی ناکام ہوجانے کے بارے میں افواہوں کو جیٹلی نے مسترد کردیا اور کہا کہ ان افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ مالیہ کے حصول میں معیشت کے آغاز کے بغیر اضافہ نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ آپ مالیہ میں حقیقی اضافہ پر اعتراض نہیں کرسکتے کیونکہ یہ انحطاط معیشت کے بہتر ہونے کی نمائندگی نہیں کرتا ۔ اس سوال پر کہ کیا ہندوستان کی صنعت اس رجحان کی وجہ سے مخدوش حالت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کے بعض شعبوں میںخود پر حد سے زیادہ بوجھ لاد لیاہے ‘ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین میں بھی معاشی انحطاط کی وجہ سے اشیاء کے بازار کمزور ہوچکے ہیں ۔ ہندوستان کو اندرون ملک کئی چیالنجس کا سامنا ہے ۔ بارش کم ہوئی ہے ۔ خانگی شعبہ میں سرمایہ کاری کی قلت ہے جس کی وجہ سے ہندوستانی معیشت کو انتظامی شعبہ میں عظیم چیلنج کا سامنا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT