Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / عالمی معیار کے تعلیمی اداروں میں ہی عالمی معیار کی تعلیم کی فراہمی ممکن

عالمی معیار کے تعلیمی اداروں میں ہی عالمی معیار کی تعلیم کی فراہمی ممکن

بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی تعلیمی اداروں کی ساکھ اُجاگر کرنے مزید سرگرم انداز فکر کی ضرورت، کرناٹک سنٹرل یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد سے صدر پرنب مکرجی کا خطاب

کلابرگی۔/22ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے اعتبار و ساکھ کو اُجاگر کرنے کیلئے مزید سرگرم انداز فکر اختیار کریں تاکہ وہ عالمی مسابقت میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عالمی معیار کی تعلیم صرف عالمی معیار کے تعلیمی اداروں میں ہی ممکن ہوگی۔ صدر پرنب مکرجی نے کرناٹک سنٹرل یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کے دوران مزید کہا کہ اعلیٰ درجہ میں کامیابی سے طالب علم کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور روزگار کے موقعوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے نیز اس سے نہ صرف امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ بلکہ تعلیمی اداروں کو بھی مدد ملتی ہے۔ صدر مکرجی نے کہا کہ ’’ یہ امر انتہائی اطمینان بخش ہے کہ دنیا کی 200 سرکردہ یونیورسٹیوں کی فہرست میں ہندوستان کے دو اعلیٰ تعلیمی ادارے پہلی مرتبہ شامل کئے گئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ دیگر ہندوستانی جامعات کو بھی یہ مقام حاصل ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نئی یونیورسٹیز بھی بہتر تعلیمی انتظامیہ پر پائیدار مساعی کے ساتھ بہت جلد دنیا کی سرکردہ جامعات میں شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک اور اقوام گزشتہ زمانوں میں غریبیی سماجی برائیوں اور اقتصادی بدحالی سے مقابلہ کرتے ہوئے مضبوط تعلیمی نظام کی بنیاد پر پیداواری محاذ پر پیشقدمی کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدیم ہندوستان میں علم و معلومات کی کھوج اور اس کو عام کرنے کا کلچر رہا۔ علوم و فنون کے اعلیٰ اداروں جیسے نالندہ، نکسائیلا، وکرما شیلا، والمبی اور اوڈانتا پوری تشنگان علم کیلئے سرچشمہ علوم تھے۔ صدر پرنب مکرجی نے کہا کہ ’ لیکن عصر حاضر میں قدیم ہندستانی علوم جیسی صورتحال باقی نہیں رہی ہے۔

ہمارے کئی اعلیٰ تعلیمی ادارے معتبر اداروں کی رینکنگ کے اعتبار سے آج کئی بین الاقوامی اداروں سے بہت پیچھے ہوچکے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ گزشتہ تین سال سے مختلف موقعوں پر ہندوستانی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے کہتا رہا ہوں کہ وہ اپنی ساکھ و صداقت کو صحیح انداز میں اُجاگر کرنے کیلئے مزید سرگرم انداز فکر اختیار کریں۔‘‘ پرنب مکرجی نے واضح کیا کہ عالمی معیار کی تعلیم صرف عالمی معیار کے اداروں کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ چنانچہ معیار کے فروغ پر اولین ترجیح مرکوز کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ تدریس کے تناظر میں بیک وقت مخلوعہ جائیدادوں کو پُر کرنے اور اس پیشہ سے وابستہ ماہر و ممتاز افراد کو راغب کرنے کے دوہرے چیلنجس کا سامنا رہتا ہے۔ ماہر اساتذہ کی قلت سے نمٹنے کیلئے ایک لچکدار انداز فکر کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک کے ماہرین تعلیم نئے نظریات پیش کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT