Wednesday , September 27 2017
Home / دنیا / عالمی منڈی میں امریکہ اسلحہ کی فروخت میں سرفہر ست

عالمی منڈی میں امریکہ اسلحہ کی فروخت میں سرفہر ست

گزشتہ 8 سال سے موقف برقرار ، ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ممکن

واشنگٹن۔ 28 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ایک نئی کانگریشنل اسٹڈی کے مطابق 2015ء کے دوران امریکہ نے 40 بلین ڈالرس کے ہتھیار فروخت کئے اور ایک بار پھر دنیا بھر میں ہتھیار سربراہ کرنے والے سب سے بڑے ملک کے طور پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھی۔ اسٹڈی کے مطابق 2015ء میں عالمی سطح پر ہتھیار سپلائی کے جتنے بھی معاہدے کئے گئے ان معاہدوں میں سے نصف پر امریکہ کی اجارہ داری برقرار رہی جبکہ فرانس میں ہتھیار سپلائی کے جتنے بھی آرڈرس ریکارڈ کئے گئے امریکہ کا ریکارڈ اس سے بھی دوگنا رہا۔ اس طرح امریکہ اور فرانس نے اپنے مارکٹ شیئرس میں بالترتیب 4 بلین ڈالرس اور 9 بلین ڈالرس کا اضافہ کیا۔ دوسری طرف روس بھی ایک ایسا طاقتور ملک ہے جو عالمی سطح پر ہتھیار سپلائی کرنے والا ایک اہم ملک ہے تاہم 2015ء میں ہتھیاروں کے آرڈرس میں روس کو انحطاط کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح صرف 11.1 بلین ڈالرس کے ہتھیار فروخت کئے گئے جبکہ2014ء میں یہی رقم 11.2 بلین ڈالرس پر مشتمل تھی۔ اب آتے ہی چین کی طرف جس نے صرف 6 بلین ڈالرس کے ہتھیار فروخت کئے جبکہ یہی اعداد و شمار 2014ء میں 3 بلین ڈالرس رہے۔ 2015ء کی اس اسٹڈی کا عنوان ’’کنونیشنل آرمس ٹرانسفارمرس ٹو ڈیولپنگ نیشنس2008-15 میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک ہی وہ ممالک ہیں جنہوں نے ہتھیاروں کی بڑی کھیپ کی خریداری کا سلسلہ جاری رکھا ہے جس میں سب سے پہلا نام قطر کا دیا گیا ہے جس نے گزشتہ سال 17 بلین ڈالرس کے ہتھیار خریدے جس کے بعد مصر نے 12 بلین ڈالرس کے ہتھیار خریدنے پر رضامندی ظاہر کی اور جہاں تک سعودی عرب کی بات ہے تو اس نے 8 بلین ڈالرس کے ہتھیار خریدے ہیں

جبکہ دیگر اہم خریدار ممالک میں جنوبی کوریا، پاکستان، اسرائیل اور یو اے ای کے نام دیئے گئے ہیں جبکہ سب سے آخر میں عراق کا نام بھی درج کیا گیا ہے حالانکہ عالمی سطح پر پائی جانے والی کشیدگیوں اور دہشت گردی کے خطرات سے پوری طرح چھٹکارہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ اس کے باوجود بھی جہاں ماہرین یہ سمجھ رہے تھے کہ جب دہشت گردی بڑھے گی تو ہتھیاروں کی فروخت بھی بڑھے گی، لیکن یہاں ماہرین کی رائے صحیح ثابت نہیں ہوسکی کیونکہ عالمی سطح پر ہتھیاروں کی خریداری میں 80 بلین ڈالرس کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ  2014ء میں یہی رقم 89 بلین ڈالرس تھی جو ہتھیاروں کی خریداری میں صرف کی گئی تھی۔ تازہ ترین اعداد و شمار نان پارٹیس کانگریشنل ریسرچ سرویس کی جانب سے جاری کئے گئے ہیں جو لائبریری آف کانگریس کا ایک حصہ ہے جسے قانون سازوں کی معلومات کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک نے 2015ء کے دوران 65 بلین ڈالرس کے ہتھیار خریدے جو گزشتہ سے پیوستہ سال یعنی 2014ء 14 بلین ڈالرس کم ہے۔ اب جبکہ یہ تصدیق ہوچکی ہے کہ عالمی سطح پر ہتھیار فروخت کرنے والے ممالک میں امریکہ سرفہرست رہا، وہیں دوسری طرف دنیا بھر میں ہتھیاروں کی سپلائی سے جو مجموعی رقم حاصل ہوئی، امریکہ نے اس مجموعی رقم کو اکیلے ہی 17 بلین کے ساتھ خود کو سرفہرست رکھا۔ اس طرح امریکہ نے اب مسلسل آٹھویں سال بھی ہتھیاروں کی فروخت میں خود کو سرفہرست رکھنے میں کامیابی حاصل کی، اور اب ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ 2016ء تو اب اختتام پذیر ہونے والا ہے تاہم 2017ء میں بھی امریکہ ہتھیاروں کی فروخت میں اپنا سرفہرست مقام برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجائے گا کیونکہ 20 جنوری 2017ء کو ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT