Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / عالم اسلام ،سازشوں کے گھیرے میں حُب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی مسلمانوں کی طاقت

عالم اسلام ،سازشوں کے گھیرے میں حُب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی مسلمانوں کی طاقت

محمد ریاض احمد
فی الوقت ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے دشمنان اسلام کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد اور دین اسلام کی دہشت گردی کی تعلیم دینے والے مذہب کی حیثیت سے شبیہ بنانے کی خاطر ایک ایسی عالمی سازش پر عمل کیا جارہا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سب سے  پہلے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا، پھر ایک مجرمانہ سازش کے تحت ار ض مقدس فلسطین کو نشانہ بنایا گیا ، وہاں عالمی طاقتوں نے اس کرہ ارض کی ناجائز مملکت اسرائیل کی بنیاد ڈالی اور اس کیلئے نہتے فلسطینیوں کا خون بہایا گیا ۔ لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے اپنے ملک سے نکال باہر کیا گیا۔ اپنے ملک پر یہودیوں کے ناجائز قبضہ قبلہ اول کی بے حرمتی اور اسلامی تاریخی آثار کی پامالی پر صدائے احتجاج بلند کرنے پر فلسطینیوں کے سینوں میں گولیاں داغی گئیں۔ فضائی حملوں اور بمباری میں ان کے جسموں کے چتھرے اڑائے گئے ۔ مسلسل بمباری کے ذریعہ فلسطینیوں کے گھروں، اسکولوں ، اسپتالوں ، بازاروں اور سرکاری دفاتر کو زمین دوس کیا گیا ۔ ظالم یہودیوں اور ان کے مغربی آقاؤں نے معصوم فلسطینی بچوں پر بھی کسی قسم کا رحم نہیں کیا ۔ انہیں بھی قتل و خون اور غارت گری کے اپنے شیطانی کھیل کا نشانہ بناکر کھلنے سے پہلے ہی باغ اسلام کے ان پھولوں کو روند ڈالا۔ فلسطین پر قبضہ کے بعد  عالمی سازشیوں نے دوسرے مسلم ملکوں کا رخ کیا جس میں  عراق ، افغانستان ، یمن ، سوڈان، لیبیا اور پا کستان، مصر، الجیریا، الجزائر ، مراقش، تیونس اور ترکی کے علاوہ متعدد مسلم و اسلامی ملک شامل ہیں ۔ ترکی میں تو طیب اردغان کی ز یر قیا دت اسلام پسند حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ دشمنان اسلام کو مسلمانوں کی بڑھتی آبادی اور اسلام کی بڑھتی مقبولیت سے کافی تشویش ہے۔ کئی یوروپی ملکوں میں آئندہ 30 برسوں کے دوران مسلم آبادی میں کئی فیصد اضافے کے امکانات ظاہر کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا کی 7.4 عرب آبادی میں مسلمانوں کی آبادی 1.7 ارب سے تجاوز کر گئی ہے۔ مخالف مسلم طاقتوں کو خوف ہے کہ دنیا پر اسلام کی حقانیت واضح ہوجائے گی کیونکہ جب بھی دہشت گردی کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، لوگ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ شروع کردیتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان پر اسلام کی سچائی واضح ہوجاتی ہے ۔ جہاں تک دشمنوں کی جانب سے مسلم ملکوں کو نشانہ بنائے جانے کا سوال ہے، ان لوگوں نے عراق کو جی بھر کر لوٹا ۔ سارے عراق میں بڑی بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کا خون بہایا گیا ۔ باالفاظ دیگر اس سرزمین پر خون مسلم کے سمندر بہائے گئے ۔ بہانہ بنایا گیا کہ صدام حسین نے بڑی تباہی مچانے والے ہتھیار بشمول  کیمیائی  اسلحہ تیار کر کے انہیں خفیہ مقامات پر چھپا دیا ہے لیکن عراق کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور اسے مکمل طور پر تباہ کرنے کے باوجود وہاں کوئی کیمیائی اسلحہ دستیاب نہیں ہوا ۔ عراق کے بعد امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کے انتقام کے نام پر افغانستان  کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ۔ عراق اور افغانتان کو نشانہ بنانے سے قبل دنیا کی دو سپر پاورس میں سے ایک ، روس کو مجاہدین کے ہاتھوں شکست کی ذلت سے دوچار کر کے اس کا شیرازہ ہی بکھیر دیا گیا ہے ۔

صرف افغانستان اور عراق میں امریکہ ، برطانیہ اور اسکے حلیف  ملکوں نے ہزار دو ہزار نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں انسانی زندگیوں کو ختم کردیا ۔ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان معذور ہوئے، اب ان ملکوں میں کچھ نہیں بچا۔ وہاں تو اب خوف و دہشت اور بے چینی نے اپنا ڈیرا جمایا ہوا ہے اور ہر روز ان ملکوں میں درجنوں جنازے اٹھتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ عراق اور افغانستان اور شام کے کچھ علاقوں  میں تو جنازوں کو کندھا دینے والے میتوں کو غسل دیکر انہیں سپرد لحد کرنے والے ملنا بھی مشکل ہوگئے ہیں ۔ ان ملکوں میں اجتماعی تدفین و قبروں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ چل پڑا ہے ۔ شام بھی عالمی سازش کا ایک میدن بنا ہوا ہے ۔ 7 ملین شامی باشندے بے گھر ہوچکے ہیں ۔ ان میں سے اکثر پناہ گزینوں کی حیثیت سے پناہ گزینوں کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان ہی اسلام دشمن عناصر نے سرزمین پاکستان کو بھی دہشت گردی کے کھلے میدان میں تبدیل کردیا ہے اور یہ سب کچھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ہورہا ہے ۔ 2001 ء کے بعد سے پا کستان میں ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 70 ہزار سے زائد لوگ اپنی زندگیوں سے محروم اور اس سے کئی گنا زیادہ زندگی بھر کیلئے معذور ہوگئے ۔ ان مہلوکین میں اسکولی بچوں سے لیکر یونیورسٹیز کے طلبہ  و اساتذہ ، فوج اور پولیس کے اہلکار ، ممتاز سائنسداں ، علماء اور طبی خدمات انجام دینے والے کارکن بھی شامل ہیں۔  پاکستان کو جہاں اس عرصہ میں ناقابل یقین حد تک جانی نقصانات برداشت کرنے پڑ ے وہیں اس کی معیشت تباہ  ہوکر رہ گئی ۔ 15 برسوں کے دوران دہشت گردانہ کارروائیوں میں پاکستان کا کم از کم 150 ارب ڈالرس کا نقصان ہوا ہے جبکہ گزشتہ 7 دہوں سے پاکستان کو امریکہ سے جو جملہ امداد حاصل ہوئی وہ سو ارب ڈالر سے ز یادہ نہیں ۔ لیبیا میں بھی اسلام دشمن طاقتوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ ایسا ہی خطرناک کھیل کھیلا چنانچہ کچھ برس قبل تک دنیا کے انتہائی خوشحال ممالک میں شمار کئے جانے والے لیبیا کے عوام آج دانے دانے کیلئے ترس رہے ہیں ۔ غربت و افلاس بے روزگاری اور بیماریوں کے دلدل میں  پھنس گئے ہیں۔ اسلام دشمن طاقتوں نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت جس کا واحد مقصد اسرائیل کا تحفظ اور عربوں کی تباہی و بربادی تھا عراق میں جنگ کے نام پر جو تباہی مچائی اس کا اندازہ ان میڈیا رپورٹس سے لگایا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا کہ 2004 ء سے لیکر  2011 ء تک عراق میں ایک ملین سے زیادہ انسانوں کو موت کی نیند سلایا گیا ۔ اسی طرح افغانستان  میں بیرونی افواج کے قبضہ کے بعد سے 5 لاکھ قیمتی جانیں تلف ہوئیں جبکہ شام میں 5 برسوں کے دوران 5 لاکھ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لیبیا ، یمن میں بھی موت کا ایسا ہی کھیل کھیلا گیا اور خون مسلم کو پانی کی طرح بہایا گیا۔  دشمنوں نے خوشحال عرب ملکوں کی معیشت تباہ کرنے کیلئے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی گرادی ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ عرب ملکوں کی معیشت کا انحصار پٹرول پر ہی ہے۔

عالم اسلام کی تباہی و بربادی کیلئے دشمنوں نے بڑی مکاری سے گمراہ مسلمانوں کو استعمال کیا جن میں خود کے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے خارجی شامل ہیں۔ داعش اور اس کی قبیل کی دیگر تنظیمیں یا جماعتیں دراصل ان ہی طاقتوں کی پیداوار ہیں۔ ان تنظیموں کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور اس کے حلیفوں نے اپنے ناپاک عزائم اور مفادات کی تکمیل کو یقینی بنایا ۔ ان اسلام دشمن طاقتوں نے مسلمانوں کو مسلکوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی اور ان کوششوں میں انہیں کامیابی بھی مل رہی ہے ۔ ان شیطانوں کی اب بھی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ختم کردی جائے۔ دشمن سوچ رہے ہیں کہ اگر وہ اس میں کامیاب ہوجائیں تو دنیا میں انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوگا ۔

مسلمانوں میں غیرت اور حیا نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ حرام و حلال کی تمیز باقی نہیں رہے گی۔ اخوت اسلامی پارہ پارہ ہوکر رہ جائے گی۔ آپس میں وہ ایک دوسرے کی جان و مال اور عزتوں سے کھلواڑ کریں گے ۔ لیکن دشمنان اسلام یہ نہیں جانتے کہ مسلمان اپنی توہین تو برداشت کرسکتا ہے، اپنی تباہی و بربادی گوارا کرلیتا ہے۔ بدنامی قبول کرسکتا ہے ، یہاں تک کہ اس کا وجود گناہوں کی آلودگی سے آلودہ ہوسکتا ہے لیکن جب اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ناموس رسالتؐ کی بات آتی ہے تو وہ ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان و مال اور آل اولاد کو قربان کرنے کیلئے تیار رہتا ہے ۔ وہ لاکھ برا ہونے کے باوجود اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ وہ تو میری جان ، میری آل ، میرا مال سب  آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان  یا رسول اللہ کا نعرہ لگاتے ہوئے بارگاہ  رب العزت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر نے سے گریز نہیں کرسکتا۔ حُب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں دنیا  مسلمان کا امتحان نہیں لے سکتی کیونکہ وہ اس امتحان کیلئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ دشمنان اسلام کے عزائم اس قدر مستحکم ہوگئے ہیں کہ انہوں نے قلب اسلام مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی ناپاک کوشش کی ہے ۔ آج ہر مسلمان کا دل رو رہا ہے ۔ اس کے پاس مذمت کیلئے الفاظ نہیں ہیں ۔ اب ایک بات تو طئے ہوچکی ہے کہ اس واقعہ سے اسلام دشمن طاقتوں کی تباہی کا آغاز ہوچکا ہے ۔ دشمنوں کو ان کی مکاری کے بھیانک نتائج بھگتنے ہی ہوں گے ۔ وہ اپنے ملکوں ، دفاتر ، فوجی اڈوں ، اسپتالوں ، یونیورسٹیز میں ایسے ہی واقعات سے دوچار ہورہے ہیں ۔ ا یک دوسرے کے جسموں کو گولیوں سے چھلنی کرنے لگے ہیں ۔ انہیں اندازہ نہیں کہ مدینہ منورہ میں اور وہ بھی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب دہشت گردانہ کارروائی انجام دیتے ہوئے ان لوگوں نے خود اپنی تباہی و بربادی کو دعوت دے دی ہے اور ان کی تباہی خودان کے اپنوں کے ہاتھوں ہونی شروع ہوچکی ہے ۔ دشمنان اسلام خود کو بڑا چالاک سمجھتے ہیں۔ خود کو عصری ٹکنالوجی اور مہلک اسلحہ کا مالک گرانتے ہیں لیکن  قہر خدا وندی کے سامنے ان کی ٹکنالوجی اور عصری اسلحہ کی کوئی دقت نہیں ہے ۔ اب ان کی مکاری ہی انہیں لے ڈوبے گی۔ آج مسلمان مایوس ہیں، پریشانی میں گھرا ہوا ہے لیکن اسے یہ جان لینا چاہئے کہ دشمن بڑی مکاری کے ساتھ اسے نشانہ بنارہا ہے ۔ اسے اس کے دینی اور جذبۂ حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کرنے کیلئے مختلف حربے استعال کر رہا ہے ۔ مسلمانوں کی صفوں میں اپنے حواریوں کو داخل کرتے ہوئے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ ا سلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا، ایسے میں مسلمان اس کی سازش کا مقابلہ صرف اور صرف قرآن مجیداور سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے ہی کرسکتے ہیں۔ اگر ہم قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری اختیار کریں تو کہیںکہ نہ رہیں گے ۔ دشمنان اسلام ہم پر بآسانی غلبہ حاصل کرلیں گے ۔ ان کے مقابلہ کیلئے تو صرف اللہ  اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کافی ہے اور جس کے دل میں اللہ کی یہ نعمتیں ہوں وہ دنیا میں کسی سے نہیں ڈرتا، دنیا ہرگز ہرگز اسے ڈرا نہیں سکتی، جھکا نہیں سکتی ، مٹا نہیں سکتی۔ مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ذریعہ ہی ان موجودہ الجھنوں سے بچ سکتے ہیں ۔ اپنوں اور غیروں میں فرق محسوس کرسکتے ہیں اور اپنی صفوں میں موجود دشمنوں کے ایجنٹوں کی پہچان کرسکتے ہیں۔ اس نازک دور میں قرآن اور سنت کے ذریعہ ہی مسلمانوں میں تعلیم کی روشنی پھیل سکتی ہے۔ اتحاد و اتفاق کی شمع روشن ہوسکتی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT