Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / عالم اسلام میں اتحاد اور سعودی عرب

عالم اسلام میں اتحاد اور سعودی عرب

غضنفر علی خان

عرب کبھی دنیا کو مہذب اور متمدن بنانے کیلئے مشہور تھے ۔ ان عربوں کی ایجادات نے اس براعظم یوروپ کی بھی کایا پلٹ دی تھی جو آج اپنے خونریز تمدن پر فخر کرتا ہے ۔ یوروپ کا نشاۃ ثانیہ عربوں کی دین ہے ۔ اس حقیقت کو سبھی تسلیم کرتے ہیں لیکن کیا ہوا کہ یہی عالم اسلام آج دنیا بھر میں دہشت گردی اور وہی تباہی کی بدنامی کا ٹھیکہ اپنے سر پر لے پھر رہا ہے ۔ کچھ عالم اسلام کی نادانیوں کا  اس میں دخل ہے تو بہت کچھ اہل دنیا کی کارستانیوں کا کیا دھرا ہے بلکہ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس بدنامی میں آج کے ترقی یافتہ تعمیری ممالک کے ذرائع ابلاغ کا دخل رہاہے ۔خاص طور پر عالم عرب پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذہب اسلام کے نام پرمٹھی بھر افرادکی شرپسند کا تدارک کرے ۔ ذرائع ابلاغ کا استعمال کرے۔ بڑی حد تک اب حالیہ عرصہ میں اسلامی تنظیموں ، اہل علم اور صاحب الرائے افراد نے دہشت پسندی کو لعنت ملامت کا شکار کیا ہے ۔ اپنے اور اسلام کے دامن پر لگنے والے داغوں کو دھونے کی کوشش کی ہے ، ان کوششوں میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مخالف ا سلام طاقتیں اپنے پروپگنڈہ میں بہت آگے ہیں۔ سارے یوروپ کے ذرائع ابلاغ پر نتیجتاً یہود کی گرفت ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالم اسلام اس کے جواب میں اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ مضبوط ذرائع ابلاغ کانظام نہیں بناسکتے۔ وسائل اور ذرائع کی اسلامی دنیا میں کمی نہیں۔اگر ان وسائل کے استعمال کو صحیح سمت اور جہت دی جائے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔

پچھلے کچھ ہفتوں سے سعودی عرب کے حکمراں شاہ سلمان بن عبدالعزیز صرف ذرائع ابلاغ کو بہتر بنانے میں نہیں بلکہ پورے عرب اور مسلم ممالک میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اس سلسلہ میں پہلے انہوں نے مصر کا دورہ کیا ، اس کے بعد مسلم دنیا کے فوجی و سیاسی اعتبار سے مستحکم ملک ترکی کا دورہ کیا ۔ شاہ سلمان کو اس عظیم المرتبت عہدہ پر فائز ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا ہے لیکن وہ اپنے طور پر مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ عرب ممالک میں یکجہتی پیدا ہو، ان کی یہ کوشش لائق صد آفریں ہے۔ سارے عرب اور اسلامی دنیا کی بھی یہی خواہش ہے کہ ان کی مساعی بار آور ہو کیونکہ اس سے زیادہ مسلم دنیا اور عالم عرب کو اس وقت کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ یہ سوچنا ہوگا کہ محض ملاقاتوں اور کانفرنسوں سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے یا نہیں۔ ترکی میں شاہ سلمان مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی (OIC) کے چوٹی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ا یک عرصہ دراز کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے سربراہوں کی ملاقات ہورہی ہے ۔ اس سے پہلے شاہ سلمان نے اپنی ان ہی کوششوں کے سلسلہ میں مصر کا دورہ کیا تھا ۔ 34 ممالک پر مشتمل اس تنظیم نے اپنے قیام کے بعد سے آج تک کبھی اس بات کا ثبوت نہیں دیا کہ عالم اسلام میں پائے جانے والے اختلافات دور کرسکتی ہے یا ختم کرنے کی کوشش کرسکتی ہے او آئی سی نے اہم معاملات میں فیصلہ کن رول ادا نہیں کیا، حالانکہ وہ کرسکتی تھی ۔ اب جبکہ خود سعودی فرمانروا ان مساعی میں کلیدی رول ادا کریں گے تو اس کے مثبت نتائج کی توقع عالم عرب اور ساری اسلامی دنیا کرسکتی ہے ۔ بشرطیکہ اخلاص نیت سے کام کیا جائے ۔ چونکہ اس مرتبہ کانفرنس کے انعقاد میں سعودی عرب اہم رول ادا کر رہا ہے اس لئے توقع کی جارہی ہے کہ اس کے مفید نتائج برآمد ہوں گے ۔ اگر کانفرنس میں عرب ممالک اور اسلامی دنیا کے ممالک یہ طئے کریں کہ وہ اپنی دنیا اور اپنے بارے میں غلط فہمیوں کو ختم کر کے رہیں گے تو اس کے لئے ذرائع ابلاغ کا قیام بھی عمل میں لانا ہوگا۔ اس کے بغیر آج کی دنیا میں جو ’’عالمی گاؤں‘‘ global Village بن چکی ہے، کسی قوم کا زندہ رہنا مشکل ہوگیا ہے ۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ سعوی عرب کی قیادت میں عرب دنیا کو اپنی دفاعی طاقت کو منظم اور موثر انداز میں بڑھانا ہوگا۔ دنیا میں صرف طاقت ہی دبدبہ قائم کرسکتی ہے ۔ یہ ممالک جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ، بے پناہ وسائل کے حامل ہیں۔ ان کے لئے دفاعی استحکام ، جدید ٹکنالوجی کا حصول چنداں مشکل نہیں ہے ۔ آج کی دنیا میں فوجی طاقت کے بغیر کوئی ملک کوئی خطہ اپنا وجود تسلیم نہیں کراسکتا۔ یہ 34 ممالک اگر ایک فوجی طاقت بن جائیں تو ان کی بھی جئے جئے کار ہوگی۔ قومی طاقت اگر نہ ہو تو پھر محض دولت کی فراوانی سے عالم عرب یا عالم اسلام بین الاقوامی مسائل میں موثر رول ادا نہیں کرسکے گا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ اور امریکہ نے سویت روس سے کہا تھا کہ تینوں مل کر امن کی ایک اپیل تیار کریں گے جس پر تینوں فریق ممالک کے علاوہ عیسائی دنیا کے مذہبی سربراہ پوپ کی بھی دستخط ہوگی۔ اس تجویز پر روس کے لیڈر اسٹالن نے پوچھا تھا کہ پوپ کی فوجی طاقت کیا ہے ، برطانیہ اور امریکہ نے حیران ہوکر کہا کہ پوپ کے پاس فوج کہاں سے آئے گی ، وہ تو مذہبی پیشوا ہیں، تو روس نے جواب دیا تھا کہ ’’امن اپیل‘‘ پر صرف وہی فریق دستخط کرسکتے ہیں جن کے پاس فوجی طاقت ہو‘‘۔ چنانچہ اپیل جاری کرنے کا معاملہ یہیں ختم ہوگیا۔ روس نے جو بات برسوں قبل کہی تھی وہ آج بھی صادق آتی ہے ۔ فوجی اور دفاعی اعتبار سے مضبوط ممالک یا ممالک کا بلاک میں عالمی مسائل میں اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ عرب ممالک کو یہ طئے کرنا ہوگا کہ کیا اللہ کے بنائے ہوئے آسمانوں کے نیچے ایسی کوئی دنیا ہے جہاں معرکہ آرائی اور طاقت کے مظاہرہ کے بغیر کسی کو تخت و تاج ملاتھا ، آج مل سکتا ہے ۔ آج یوروپ مکمل طور پر عیسائی ہے اور فوجی اعتبار سے یہاں کے ممالک یا تو خود کفیل ہیں یا پھر ان کے اپنے  اپنے آقا ہیں، جو اچھے برے وقت ان کی مدد کرتے ہیں ۔ او آئی سی ایک انتہائی نازک دور میں داخل ہوگئی ہے۔ اس کو کئی اہم اور دشوار فیصلے کرنے پڑیں گے۔  رکن ممالک اپنے اپنے مفادات کو ترجیح دینے کی روش ترک کر کے اگر ساری عرب دنیا اور عالم اسلام کے وسیع تر مفادات کو کانفرنس کا موضوع بنائیں اور ان پر سعودی عرب کی سرپرستی پر کوئی لائحہ عمل تیار کریں تو پہلی مرتبہ عالم عرب اور اسلامی دنیا میں اتفاق و اتحاد کا وہ تخم بویا جاسکتا ہے جو بہت جلد ایک تناور درخت بن سکتا ہے، جس کے زیر سایہ دنیا کی یہ دوسری بڑی آبادی (مسلمان) عالمی سیاست میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتی ہے اور او آئی سی اپنے وجود کو مفید بناسکتی ہے ۔ عرب دنیا میں تصورات Perceptions کو بدلنے کی بھی ضرورت ہے ۔ ان میں وہ ممالک جو دولت مند ہیں، ان کے پاس مادی ترقی ہی سب کچھ ہے ۔ اونچی اونچی خوبصورت ہمہ منزلہ عمارتوں کی تعمیر، صاف ستھری سڑکیں ، پاک و صاف شہر ، عمدہ اور لذت بخش غذائیں یا تعیش کے تمام سامان ہی آج تک بھی خوشحالی اور ترقی کی علامات بنی ہوئی ہیں۔ ان تصورات کو بدلنے اور اپنی ترقیاتی ترجیحات کو از سر نو متعین کرنے کی بھی او آئی سی کو ضرورت ہے ۔ فلک بوس عمارتیں، کشادہ سڑکیں کسی تہذیب کے بہتر ہونے کی عکاسی ضرور کرتی ہیں، لیکن جب تک یہ ممالک متحد اور متفق ہوکر خود کو دفاعی اور فوجی اعتبار سے مضبوط نہیں کریں گے، تب تک ان کی طاقت کو دنیا تسلیم نہیں کرے گی ۔ اصل بات یہ ہے کہ وسائل رکھتے ہوئے بھی خاص طور پر عالم عرب نے خود کو دفاعی اعتبار سے ناقابل تسخیرنہیں بنایا تو کم از کم اب سعودعی عرب کی قیادت میں اس دیرینہ ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT