Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / عالم اسلام کو سخت دور کا سامنا، باہمی اتحاد وقت کا تقاضہ

عالم اسلام کو سخت دور کا سامنا، باہمی اتحاد وقت کا تقاضہ

امیدوں کا دامن چھوڑے بغیر ساری دنیا کے مسلمانوں کو اتحاد کا پیغام، او آئی سی چوٹی کانفرنس سے اردغان کا خطاب

استنبول ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عالم عرب میں شام اور یمن کے تنازعات کے بشمول دیگر کئی مسائل پر دنیا کے مختلف مسلم ممالک میں پیدا شدہ تلخ اختلافات کے خاتمہ کے مقصد سے ترکی میں منعقدہ دو روزہ اجلاس آج میزبان صدر رجب طیب اردغان کے کلیدی خطاب پر اختتام پذیر ہوا۔ تنظیم برائے اسلامی تعاون (او آئی سی) کے اس چوٹی کانفرنس میں طاقتور سنی ملک سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور شیعہ مسلم ملک ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی شرکت کی۔ یہ دونوں ممالک شام اور یمن میں ایک دوسرے کے حریف گروپوں کی تائید کررہے ہیں لیکن ترکی نے اس چوٹی کانفرنس کو عالم اسلام میں اپنے وقار و احترام میں اضافہ کا ایک بہترین موقع تصور کیا اور اس کے صدر اردغان نے دنیا بھر کے 1.7 ارب مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہوئے متحد کرنے کا مقصد پورا کرنے کی کوشش کی۔ صدر اردغان نے جمعرات کو باسفورس کے دو لمباشے محل میں ترتیب دیئے گئے سرکاری ڈنر کے موقع پر عالمی مسلم قائدین سے خطاب کے دوران عالم اسلام اور ساری دنیا کے مسلمانوں میں اتحاد کیلئے اپنی اپیل کا اعادہ کیا۔ یہ وہی محل ہے جہاں سلطنت عثمانیہ کے مرحوم سلاطین، بلقان سے عرب تک مسلم دنیا پر حکمرانی کیا کرتے تھے۔ اس محل کے وسیع و عریض ہال مواعدے سالون میں جہاں ماضی کے عثمان سلاطین بیرونی مہمانوں کا استقبال کیا کرتے تھے، اس کے وسیع گنبد تلے اپنے خطاب میں اردغان نے زور دے کر کہا: ’’اس چوٹی کانفرنس میں تمام اسلامی ممالک سے ہماری سب سے بڑی توقع یہی ہیکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اتحاد کا پیغام دیا جائے‘‘۔

اردغان نے مزید کہا : ’’ہمارا مقصد ہیکہ سارے اسلامی خاندان کو مستقبل کیلئے ایک امید دی جائے۔ انشاء اللہ اس چوٹی کانفرنس کے بعد ہم سب کیلئے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا‘‘۔ ترک صدر نے پرعزم لہجہ میں کہا : ’’بلاشبہ ہم ایک انتہائی سخت دور سے گذر رہے ہیں۔ ہمارے آگے بہت بڑے مسائل ہیں لیکن ہمیں کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے‘‘۔ اردغان نے جن کا ملک ترکی آئندہ دو سال کیلئے تنظیم اسلامی تعاون کی صدارت پر فائز ہوا ہے، اس کانفرنس کو کامیاب قرار دیا۔ اس اجلاس کے دوران ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ابھرتے ہوئے طاقتور اتحاد کی علامتیں ظاہر ہوئیں جب ان دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے باہمی تعاون کو حل کے قیام کے سمجھوتوں پر دستخط کی۔ ترکی اور سعودی عرب اپنے ایک چھوٹے لیکن قدرتی گیس سے مالامال خلیجی ملک قطر کے ساتھ اتحاد قائم کرتے ہوئے شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی مدد کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں ایران اور روس بھی اس تنازعہ میں شامل ہوگئے ہیں اور اپنے دیرینہ حلیف بشارالاسد کی مدد کررہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہیکہ سعودی عرب کے ساتھ اتحاد کے معاملہ میں ترکی کو محتاط پہل کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ایران کے ساتھ توازن برقرار رکھنے انقرہ کی خواہش کے جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے چوٹی کانفرنس کے اختتام کے فوری بعد ترکی کا سرکاری دورہ شروع کرنے سے اتفاق کرلیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT