Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / عالم اسلام کے اضطراب آمیز حالات احادیث سے دوری کا نتیجہ

عالم اسلام کے اضطراب آمیز حالات احادیث سے دوری کا نتیجہ

جامعہ نظامیہ میں جلسہ ختم بخاری شریف میں مولانا محمد خواجہ شریف کا درس
حیدرآباد ۔16 اپریل (پریس نوٹ) ملک کی باوقار اسلامی درسگاہ جامعہ نظامیہ کے شیخ الحدیث فضیلۃ الشیخ مولانا محمد خواجہ شریف نے آج جامعہ میں بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ بخاری شریف علوم و معارف کا سرچشمہ ہے ‘ جس میں قیامت تک پیش آنے والے تمام مسائل کا حل موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پرآشوب حالات میں مسلمان اپنی زندگی کو احادیث کے مطابق گزاریں‘انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کے موجودہ اضطراب آمیز حالات احادیث سے دوری کا نتیجہ ہے ۔مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے اس موقعہ پر اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ یوں تو بخاری شریف کو ملک کی تمام جامعات میں پڑھایا جاتا ہے لیکن جامعہ نظامیہ کا اسلوب تدریس سب سے منفرد اور جداگانہ نوعیت کا ہے ۔ یہاں احادیث کے ترجمہ و تفہیم پر ہی اکتفاء نہیں کیا جاتا بلکہ مسائل کے استنباط ‘ فقہی نظائر‘ اصول حدیث اور روایت و داریت کے تمام مباحث کو مدلل طور پر شامل درس کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہ عصر حاضر میں پہلے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ علم حدیث میں کامل مہارت حاصل کی جائے تاکہ موجودہ زمانہ کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دین متین کی خدمت صحیح طور پر انجام دی جاسکے۔حضرت شیخ الجامعہ نے کہا کہ طلبہ ریسرچ و تحقیق کی راہ کو اپنائیں‘ انہوں نے اس موقع پر حضرت شیخ الحدیث کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ مولانا محترم کے درس سے حاضرین کو اندازہ ہوگا کہ حدیث فہمی کیا چیز ہے اور درس حدیث کیا ہوتا ہے۔ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے اپنے درس میں کہا کہ بخاری شریف کی آخری حدیث اپنے معانی و مطالب کے اعتبار سے نہایت جامع اور دنیا و آخرت میں سکون و راحت کی ضامن ہے اس کو کسی بھی مجلس کے آخر میں پڑھ لیاجائے تو کفارہ مجلس ہے ۔ یہ حدیث شریف ظاہر و باطن کی تمام بیماریوں کا علاج بھی ہے ۔ اس میں عقیدہ ‘ اعمال اور حسن خاتمہ اور کامرانی کی ساری چیزیں موجود ہیں ۔ مولانا نے سلسلہ درس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حدیث کی ہر کتاب میں حلاوت و لذت پائی جاتی ہے ۔ لیکن یہ کیفیت بخاری شریف میں بہت زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے احادیث کو 16 سال میں جمع کیا ۔ آپ ہر حدیث کو لکھنے سے پہلے غسل فرماتے اور دو رکعت نماز ادا کرتے آپ نے بخاری شریف کا ہر عنوان مدینہ منورہ میں روضہ اقدس کے روبرو لکھا اور لکھنے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دردو شریف پڑھتے اور عنوان کو حضور کی بارگاہ میں پیش کرتے ۔ مولانا نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بخاری شریف کی آخری حدیث ’’ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم ‘‘ کے ورد سے روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ مولانا محمد خواجہ شریف نے کہا کہ بخاری شریف کی آخری حدیث تمام کتاب کا خلاصہ ہے ۔ حدیث شریف کا پڑھنا ‘ سننا اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرنا سعادتمندی ہے اس سے نہ صرف اخروی فوائد وابستہ ہیں بلکہ دنیا میں بھی خوشحالی اور تازگی نصیب ہوتی ہے ۔ حضرت امام بخاری احناف کے قدر شناس ہیں کیونکہ وہ خود ایک واسطہ اور دو واسطوں سے حضرت امام اعظم کے شاگرد ہیں ۔ طلباء جامعہ نظامیہ نے حضرت شیخ الحدیث کا عربی زبان میں لکھا گیا کلام پیش کیا جو ختم بخاری کی مناسبت سے نظم کیا گیا تھا ۔ مفتی محمد عظیم الدین مفتی جامعہ نظامیہ نے درس کے اختتام پر علامہ سید احمد بن دھلانؒ کی دعائے ختم بخاری کو نہایت رقت کے ساتھ پڑھا ۔ جناب سید احمد علی معتمد جامعہ نظامیہ نے شکریہ ادا کیا۔ مولانا محمد فصیح الدین نظامی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT