Monday , March 27 2017
Home / مضامین / عام آدمی بلیک یا وائیٹ نہیں سمجھتا

عام آدمی بلیک یا وائیٹ نہیں سمجھتا

محمد مبشر الدین خرم
ملک میں کرنسی کی تنسیخ نے ہندستانی شہریوں کو کرب و الم میں مبتلاء کردیا ہے اور فیصلہ نے حکومت ہند کی نیت پر سوال کھڑے کردیئے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کے فیصلہ پر عمل آوری میں مصروف شہری یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ حکومت کی جانب سے 1000اور500کے کرنسی نوٹ کی تنسیخ کا فیصلہ واپس لیا جائے گا۔ حکومت ہند کے اس فیصلہ کے منفی و مثبت دونوں پہلو ہیں لیکن مثبت پہلو پر توجہ اس لئے بھی نہیں دی جا رہی ہے کیونکہ فیصلہ ساز شخصیت کا کردار مشکوک ہے اور اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ انسانیت کی بھلائی کی فکر کرسکتا ہے۔ملک کی معیشت میں اس فیصلہ سے سدھار ممکن ہے لیکن اس فیصلہ کے ان لوگوں پرکیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو روزمرہ کی آمدنی سے پیٹ کی آگ بجھایا کرتے تھے؟ جن کے گھر غیر محسوب دولت سے بھرے پڑے ہیں انہوں نے تو اپنی راہیں تلاش کرلی ہیں اور انہیں جو نقصان ہوگا اس کی پابجائی بھی بینکوں کے ذریعہ ہو جائے گی۔کرنسی نوٹ کی تنسیخ کے معاملہ میں حکومت پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے لیکن کو ئی یہ نہیں کہہ رہا کہ کرنسی کی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد شروع کی گئی کرنسی کی کالا بازاری کو فوری بند کیا جائے کیونکہیہ مطالبہ ہر اس دولت مند کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگا جو اپنے پاس موجود کرنسی کو تبدیل کروانے میں مصروف ہیں۔

ہندستانی معیشت کے متعلق 8ڈسمبر 2011کو لوک سبھا میں کی گئی اس وقت کی قائد اپوزیشن محترمہ سشما سوراج نے مہنگائی کے معاملہ میں اس وقت کے وزیر فینانس مسٹر پرنب مکرجی کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کا عام آدمی فیصد کی زبان نہیں سمجھتا بلکہ اسے اپنی جمع پونجی میں ہونے والے اضافہ کے ذریعہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے اور انہوں نے اس تقریر میں ہندستانی معیشت کو سمجھانے کیلئے این ڈی اے دور حکومت میں وزیر فینانس جسونت سنگھ کے بیانات میں ’گرہنی کی گٹھنی‘ اور کٹیا کے حوالے دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ہندستان آکسفورڈ اور ہارورڈ کی زبان نہیں سمجھتا بلکہ ملک کے دیہی علاقوں کو گھٹنی اور کٹیا کی بات سمجھ آتی ہے۔محترمہ سشما سوراج کی اس تقریر کو کافی پسند کیا گیا تھا لیکن آج ان ہی کی حکومت جس کی باگ ڈور نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے نے ملک سے کرنسی کی قلت کے ذریعہ PAYTMکے فروغ کی کوشش کی ہے کیا یہ زبان ہندستان سمجھ سکتا ہے؟ 1996میں جب نرسمہا راؤ وزیر اعظم تھے اس وقت بھارت رتن اٹل بہاری واجپائی نے لوک سبھا میں یوریا اسکام معاملہ میں بحیثیت قائد اپوزیشن تقریر کے دوران ایک تاریخی جملہ کہا تھا کہ’’چوری کے وقت پہرا دینے والا کتا نہ بھونکے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ چوروں کو جانتا ہے‘‘ کالے دھن کے نام پر عوام کی دولت بینکو تک پہنچانے والو کو کیا یہ نہیں معلوم کہ کالا دھن کس نے جمع کیا ہے؟
ملک کی تاریخ میں کئے گئے اس انتہائی اہم ترین فیصلہ کے جو اثرات ملک کے متمول طبقہ پر مرتب ہوئے ہیں اس سے کہیں زیادہ اثر ملک میں متوسط طبقہ پر پڑ رہا ہے۔ حکومت کا یہ ادعا کہ اس اقدام سے ملک کی معیشت میں سدھار آئیگا ممکن ہے درست ہو لیکن اس کے جو فوری اثرات نظر آرہے ہیں اس سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے متوسط طبقہ کی دولت سے ہندستان کا بینک کاری نظام مستحکم ہوگا جس کا راست فائدہ ان صنعتکاروں کو ہوگا جنہیں بینکوں کی جانب سے کروڑہا روپئے قرض جاری کئے جاتے ہیں۔ بینکو ںمیں رقومات کے جمع کروانے کے عمل کے دوران اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے علاوہ دیگر بینکوں نے جمع کی جانے والی رقم پر دی جانے والی  شرح سود میں تخفیف کا اعلان کردیا ہے اسی طرح ان بینکو ںکی جانب سے قرض پر شرح سود میں کمی کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے جس کا راست فائدہ ملک کے بڑے صنعتی اداروں کو ہوگا جنہوں نے بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپئے قرض حاصل کر رکھا ہے۔ ہندستان کی 16لاکھ کروڑ  86فیصد 1000اور500کے کرنسی نوٹ بتائے جا رہے ہیں اور جب ہندستان کی جملہ دولت کا اگر 50فیصد حصہ بھی بینکوں تک پہنچ جاتا ہے تو ایسی صورت میں بینک کاری نظام کا استحکام ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے کا سبب بن سکتا ہے لیکن اگر دوبارہ ان صنعتکاروں و اداروں کو قرضہ ٔ جات فراہم کئے جاتے ہیں جو دیوالیہ ہو چکے ہیں تو یہ عمل عوام کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

کرنسی کی تنسیخ نے جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کے سب سے زیادہ منفی اثرات جو طویل مدت تک برقرار رہیں گے وہ رئیل اسٹیٹ شعبہ کے علاوہ تعمیری کمپنیوں پر دیکھے جائیں گے۔ رئیل اسٹیٹ پر اس عمل کے منفی اثرات کیونکر ہوں گے اس بات کو بہ آسانی سمجھنے کیلئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب وہ لوگ جو نقد رقومات جمع ہونے کے سبب فروخت ہونے والی جائیدادوں کو فوری خرید لیا کرتے تھے اور ان جائیدادوں کو چند ماہ بعد بھاری قیمت میں فروخت کیا کرتے تھے وہ رئیل اسٹیٹ کاروبار کا حصہ نہیں بنیں گے کیونکہ یہ ان کے لئے نقصان کا سودا ثابت ہوگا۔ اب ضرورت مند فروخت کنندہ حقیقی خریدار سے معاملت کرے گا جس کے سبب دونوں کو فائدہ ہوگا ۔ اسی طرح کرنسی کی تنسیخ کے فوری اثرات جن شعبوں پر ہوئے ہیں ان سے کوئی شعبہمحفوظ نہیں رہ سکابلکہ دودھ سے ہوائی ٹکٹ‘ دیہی فرد سے بیرونی سیاح‘ گداگر سے تاجر‘سارق سے سیاستداں اور چپراسی سے صنعتکار تک متاثر ہوئے ہیں ۔حکومت کا کہنا ہے کہ چند یوم کی اس تکلیف کے بعد ’اچھے دن آئیں گے‘ لیکن عوام کو اچھے دنوں سے زیادہ نوٹوں کی تبدیلی اور 2000کی نئی نوٹ کے چلن کا انتظار ہے کیونکہ ڈھائی برس کی مدت کے دوران اچھے دن کی امید جاتی رہی ہے اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ وہی ’برے دن‘ لوٹا دو۔
اقوام میں جب کثیر طلبی اور حب زر پیدا ہونے لگتی ہے تو ان میں بے خوفی ختم ہونے لگتی ہے اور جب بے خوفی ختم ہوجاتی ہے تو بے حسی جنم لیتی ہے اور جب یہ پروان چڑھتی ہے تو انسان ایک زندہ نعش سے زیادہ کچھ نہیں رہ جاتا جسے اپنی ضروریات کے علاوہ کوئی اور شئے نظر نہیں آتی۔ملک میں معاشی اصلاحات کیلئے کیا گیا یہ سخت ترین فیصلہ عوام کے مفاد میں ہے یا نہیں اس کا اندازہ تو حالات کے معمول پر آنے کے بعد لگے گا لیکن ماہرین کی رائے یہ ہیکہ فیصلہ عمدہ ہے لیکن اس فیصلہ پر عمل آوری کیلئے کی گئی تیاریاں بہتر ہوتی تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں لیکن کیا ایسا کرنے سے یہ بات خفیہ رہ پاتی؟ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فیصلہ کرنے والے نے اپنے رفقاء کو اس بات کا اشارہ دیدیا تھا کہ وہ اس طرح کا کوئی اقدام کرنے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ان لوگوں نے اپنی غیر محسوب رقومات کو اثاثوں میں تبدیل کرچکے ہیں۔اس بات میں صداقت ہے تو ایسی صورت میں اٹل بھاری واجپائی کا جملہ یہاں بھی صادق آتا ہے کہ ’’چوری کے وقت پہرا دینے والا کتا نہ بھونکے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ چوروں کو جانتا ہے‘‘۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوام کو ہونے والی مشکلات کا استحصال دوہرے طریقہ سے کیا جانے لگا ہے اور صرف اروند کجریوال و ممتا بنرجی اس معاملہ میں سنجیدہ نظر آرہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے اعداد و شمار کے بموجب پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت کھولے گئے بینک کھاتوں کی تعداد 25کروڑ 51لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان کھاتو ںمیں جمع رقومات کے متعلق حکومت کا ادعا ہے کہ 45ہزار 636کروڑ 61لاکھ روپئے جمع کئے جا چکے ہیںاور حکومت نے جن دھن یوجنا کے تحت بینک اکاؤنٹ کھولنے والوں میں 19کروڑ 44لاکھ کھاتہ داروں کوروپئے کارڈ بھی جاری کردیئے ہیں۔ حکومت اگر واقعی میں ان جن دھن کھاتوں میں رقومات جمع کرواتی ہے تو ایسی صورت میں غریب عوام کو اس کا فائدہ ہوگا لیکن مستقبل قریب میں تو ایسے آثار نہیں ہیں لیکن ممکن ہے کہ حکومت عوام میں پھیلی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے ان جن دھن کھاتوں میں رقومات کے ذریعہ راست فائدہ پہنچانے کے اقدامات کرے گی جن میں 50000سے زائد کی رقم نہ ہو۔ اس کے باوجود میں ملک کے کئی ایسے علاقہ ہیں جہاں اے ٹی ایم تو دور بینک کی سہولت موجود نہیں ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ملک میں بینک کی سہولت کو بہتر بنانے کیلئے قومی بینکوں کی شاخوں میں اضافہ کے متعلق بھی غور کیا جا رہا ہے۔اس طرح کے اقدامات کی صورت میں بینک کاری نظام مستحکم ہونے کے ساتھ حالات میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے لیکن”Make in india” اسکیم کے نتائج ایسی امید تو پیدا نہیں کر رہے ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کرنسی کی تبدیلی کے اس فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک جرائتمندانہ اقدا م ہے اور اس سے کچھ نہیں تو کم از کم جعلی نوٹوں کا خاتمہ ہوجائے گا جس کے سبب حالات میں تبدیلی رونما ہوگی۔ اسی طرح وزارت فینانس کے بموجب ریزرو بینک آف انڈیا نے اب تک جتنے 1000اور500کے نوٹ جاری کئے ہیں ان میں 50فیصد سے زیادہ نوٹ کہیں جمع ہو گئے تھے اور وہ بازاروں میں دستیاب نہیں تھے حکومت کا یہ احساس ہے کہ نوٹوں کی تنسیخ کے اس فیصلہ کے بعد اب وہ 50فیصد سے زیادہ نوٹ جو کہیں چھپائے گئے تھے اب باہر آجائیں گے لیکن کیا واقعی ایسا ہوگ؟ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش کے تحت کی گئی کاروائی قرار دینے کی بھی سازش کہا جا رہا ہے تو کیا حکومت ہند نے ملک میں ان عناصر کو کھلی چھوٹ فراہم کر رکھی ہے جو غیر محسوب رقومات کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں؟ حکومت کے اس فیصلہ سے ہونے والی معمولی پریشانی کے آگے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مردہ قومیں نئے قوانین سے خائف ہوتی ہیں اور آئین نو سے ڈرتے ہوئے طرز کہن پر اڑے رہنا خود کو ترقی کی مسابقتی دوڑ سے دور رکھنے کے مترادف ثابت ہوگا۔حکومت عوام کو راحت پہنچانے کے اقدامات کرتی ہے تو عوام حکومت کے منصوبہ کے نتائج برآمد ہونے تک انتظار کر سکتے ہیں لیکن مزید اس طرح کی فوری کاروائیاں حکومت کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں کیونکہ عوامی برہمی سڑکوں پر برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT