Saturday , July 22 2017
Home / اداریہ / عام آدمی پارٹی کا داخلی انتشار

عام آدمی پارٹی کا داخلی انتشار

پنہاں تھا دام سخت قریب آشیانے کے
اُڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
عام آدمی پارٹی کا داخلی انتشار
عام آدمی پارٹی ایسا لگتا ہے کہ شدید ترین داخلی خلفشار کا شکار ہوگئی ہے ۔ پارٹی میں داخلی طور پر جو بحران پیدا ہوا تھا حالانکہ اسے عارضی طور پر ختم کرلیا گیا ہے لیکن ابھی تک ایسے آثار پیدا نہیں ہوئے ہیں جن سے اطمینان کی سانس لی جاسکے ۔ پارٹی کے بانی ارکان میں شامل ڈاکٹر کمار وشواس کی ناراضگی کی وجہ سے پارٹی میں کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ پارٹی کیلئے اچھی نہیں ہوسکتی ۔حالانکہ اروند کجریوال نے ڈاکٹر کمار وشواس کی قیامگاہ جا کر انہیں منالیا ہے اور کمار وشواس کو تنقید کا نشانہ بنانے والے امانت اللہ خان کو معطل بھی کردیا ہے لیکن یہ محسوس ہوتا ہے کہ ناراضگی کی کیفیت ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی ہے ۔ کمار وشواس نے حالیہ دنوں میں مختلف مسائل پر جو رائے ظاہر کی تھی وہ پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال کی رائے سے یکسر مختلف قرار پاتی ہے ۔ امانت اللہ خان نے ڈاکٹر وشواس پر بی جے پی اور آر ایس ایس کی ایما پر کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں عام آدمی پارٹی کو پنجاب ‘ گوا اور خود دہلی کے بلدی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد پارٹی میں ناراضگیوںاور اختلافات میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ ان اختلافات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو پہلی مرتبہ ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کا اسے پہلے سے نہ کوئی اندازہ تھا اور نہ کوئی تجربہ تھا ۔ پنجاب میں حالانکہ پارٹی کے نتائج حوصلہ شکن نہیں تھے لیکن اس کیلئے مایوس ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں تھی ۔ ضروری نہیں تھا کہ پارٹی پہلی بار کی کوشش ہی میں اقتدار حاصل کرلے ۔ وہاں اس نے اپنا ایک مقام بنالیا ہے ۔ پنجاب کے رائے دہندوں نے پہلے اسے چار ارکان لوک سبھا کیلئے منتخب کرکے روانہ کئے تھے اور پھر اسمبلی انتخابات میں بھی اسے اطمینان بخش کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اقتدار حاصل نہ ہونا پارٹی کی شکست نہیں ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ گوا میں پارٹی کیلئے نتائج حوصلہ شکن رہے ہیں لیکن سیاسی سفر میں ایسے حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا ڈٹ کر اور ایک سیاسی عزم اور حوصلے کے ساتھ سامنا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسا کرنا چاہئے ۔ اگر مایوسی اور نا امیدی کا شکار ہوتے ہیں تو پھر وہ تحریک دم وتوڑ جائیگی جو دہلی میں جنتر منتر سے شروع ہوئی تھی ۔
حالیہ انتخابی شکستوں کے بعد سے پارٹی میں جو اختلافات پیدا ہوئے ہیں ان سے بھی پارٹی کو امایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسے حالات سیاسی زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر پارٹی مایوسی کا شکار ہوتی ہے تو اس سے مخالفین کو فائدہ اٹھانے کا موقع مل جائیگا ۔ ڈاکٹر کمار وشواس نے پارٹی میں جن مسائل پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا ان کو دور کرنا یقینی طور پر پارٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ صرف انہیں کو خوش کرنے کیلئے دوسروں کو نشانہ بنایا جائے ۔ حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پارٹی نے صرف کمار وشواس کو خوش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ انہیں راجستھان میں پارٹی کی انتخابی تیاریوں کا ذمہ دار بھی بنادیا ہے ۔ یہ در اصل ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش ہے ۔ راجستھان میں عام آدمی پارٹی کا کوئی زیادہ وجود نہیں ہے اور وہاں پارٹی کی مقبولیت بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔وہاں ڈاکٹر وشواس کو ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ لازمی بات ہے جب وہاں نتائج پارٹی کیلئے اچھے نہیں ہونگے تو پارٹی میں ان کی مقبولیت اور ان کے امیج کو بھی نقصان ہوگا اور پارٹی شائد چاہتی بھی یہی ہے ۔ اس طرح سے ڈاکٹر کمار وشواس کو ان کا اصل مقام دکھاتے ہوئے اروند کجریوال اور منیش سیسوڈیہ ان کے حلقہ اثر کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مستقبل میں انہیں زیادہ اہمیت دینے سے بچنا چاہتے ہیں اور اسی لئے انہیں فی الحال تو خوش کردیا گیا ہے لیکن مستقبل کیلئے بھی ایک ایسی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے جس سے پارٹی کی مشکلات کو کم کیا جاسکے ۔
پارٹی نے حالانکہ اپنے طور پر یہ کوشش ضرور کی ہے لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر وشواس اس صورتحال سے مطمئن نہیں ہونگے ۔ وہ یقینی طور پر اپنی ناراضگی کو آگے بڑھانا پسند کرینگے ۔ وہ حالیہ وقتوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ستائش سے بھی پیچھے نہیں رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اختلافات محض انتخابات تک ہونے چاہئیں اور پھر انتخابات کے بعد وزیر اعظم سارے ملک کا وزیر اعظم ہوتا ہے ۔ انہوںنے کشمیر مسئلہ پر اور دیگر امور پر بھی پارٹی لائین سے اختلاف کیا ہے اور حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کی ستائش کی ہے ۔ ایسے میں یہ قیاس آرائیاں بے بنیاد نہیں ہوسکتیں کہ ڈاکٹر کمار وشواس بھی دھیرے دھیرے مستقبل کی اپنی حکمت عملی کا اظہار کر رہے ہیں اور اس صورتحال کو عام آدمی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ جو حالات پارٹی کیلئے پیدا ہوئے ہیں وہ شفاف سیاست کی امید کرنے والوں کیلئے مایوس کن ہیں اور ان حالات کو دور کرنا عام آدمی پارٹی کی ذمہ داری ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT