Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / عباسی کو آئندہ سال انتخابات تک وزیراعظم برقرار رکھا جائے: نواز شریف

عباسی کو آئندہ سال انتخابات تک وزیراعظم برقرار رکھا جائے: نواز شریف

میرا بھائی شہباز نہ صرف فخر پنجاب بلکہ فخر پاکستان ، پارٹی قائدین سے خطاب

اسلام آباد ۔ 9 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سبکدوش وزیراعظم نواز شریف نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہاکہ وہ شاہد خاقان عباسی کو پی ایم ایل ( این ) حکومت کی میعاد کی تکمیل تک بطور وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ 28 جولائی کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد 67 سالہ نواز شریف نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیدیا تھا ۔ پناما پیپرس اسکینڈل نے نواز شریف خاندان کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں کیونکہ نہ صرف انھیں بلکہ اُن کے بچوں حسن ، حسین اور مریم نواز کو بھی بیرون ملک غیرقانونی اثاثہ جات رکھنے کا قصوروار پایا گیا تھا جس کے لئے پاکستان کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم ( جے آئی ٹی) نے تینوں سے پوچھ گچھ بھی کی تھی ۔ نواز شریف کے مستعفی ہونے کے بعد شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم کے عہدہ کا حلف دلایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ابتداء میں نواز شریف نے یہ اعلان کیا تھا کہ عباسی ملک کے عبوری وزیراعظم ہوں گے تاوقتیکہ شہباز شریف کو رکن پارلیمنٹ منتخب کیاجائے تاکہ اُن کے (شہباز) وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوجائے تاہم بعد ازاں نواز شریف نے اپنا فیصلہ تبدیل کردیا تھا کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ پنجاب جسے پاکستان کی سیاست کا اہم گڑھ تصور کیا جاتاہے، میں شہباز شریف کے وزیراعلیٰ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوجائیں گے ۔ یہاں پنجاب ہاؤس میں منعقدہ پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ عباس کو پارٹی حکومت کی میعاد کی تکمیل تک وزیراعظم کے عہدہ پر برقرار رکھا جائے ۔ یہی نہیں بلکہ نواز شریف نے پارٹی ورکرس سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ عباسی کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں کیونکہ عباسی ایک سینئر پارٹی ورکر ، انتہائی جفاکش اور وعدہ کے پابند شخص ہیں۔ نواز شریف نے یہ ریمارکس لاہور روانہ ہونے سے قبل کئے جہاں وہ ایک پارٹی ریالی سے بھی خطاب کریں گے ۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پی ایم ایل ( این ) کی موجودہ حکومت کی میعاد آئندہ سال جون میں ختم ہوگی اور اُس کے بعد انتخابات منعقد کئے جائیں گے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ پارٹی میں ایسے قائدین بھی موجود ہیں جو پارٹی کو چھوڑنے کے لئے ( دل بدلی) پر تول رہے ہیںکیونکہ جب سے انھوں نے ( نواز شریف ) یہ فیصلہ کیا ہے کہ شہباز شریف کو ملک کا آئندہ وزیراعظم بنایا جائے گا تب سے ہی صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے عہدہ کیلئے کئی امیدوار سامنے آگئے ہیں۔ پی ایم ایل ( این ) قائدین سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے اپنے بھائی کی ستائش کی اور کہا کہ شہباز نہ صرف فخر پنجاب بلکہ فخر پاکستان بھی ہے کیونکہ صوبہ پنجاب میں زبردست ترقی صرف اُن کی (شہباز )مرہون منت ہے ۔ اُن اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے جہاں یہ کہا گیا تھا کے اُن کا سفر پر روانہ ہونا عدالتی فیصلہ کے مغائر ہے ، نواز شریف نے کہاکہ انھوں نے گرانڈ ٹرنک روڈ پر سفر جاری رکھنے کا ارادہ اس لئے کیا ہے تاکہ اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرسکیں۔ اس لئے انھوں نے اپنا سفر براہ گرانڈ ٹرنک روڈ اختیار کیا ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف نے لاہور میں اپنے ارکان خاندان سے بھی تفصیلی بات چیت کی جس میں شہباز شریف سے بات چیت بھی شامل ہے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے حق میں دعا کی اور کہاکہ عوام کے اعتماد نے نواز شریف کو بیحد متاثر کیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ میرے بھائی ، تمام قائدین اور ریالی کے شرکاء کو اپنی امان میں رکھے ۔ آمین ! شہباز نے بھی ریالی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہر سیاسی پارٹی کا بنیادی حق ہے کہ وہ عوام کے ساتھ رابطہ میں رہے کہ یہی جمہوریت کی علامت اور سیاسی پارٹیوں کیلئے آکسیجن ہے ۔

شہباز شریف پی ایم ایل ( این ) کے نئے صدر ہوں گے
اسلام آباد ۔ 9 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بھائی شہباز شریف کو پی ایم ایل ( این) کے آئندہ صدر منتخب کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے حکمراں جماعت نے نواز شریف کی جگہ اُن کے بھائی کو صدر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر پی ایم ایل ( این ) کے سینئر قائد راجہ ظفرالحق نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ 65 سالہ شہباز شریف اب پارٹی کے نئے صدر ہوں گے جبکہ جاریہ ہفتہ کے اواخر میں اس تعلق سے باقاعدہ طورپر فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ لاہور میں پارٹی کا اجلاس منعقد شدنی ہے ۔ حالانکہ نواز شریف کے پاس اب بھی یہ اختیارات ہیں کہ وہ کسی کو بھی کسی بھی عہدے کے لئے منتخب کرسکتے ہیں تاہم اس سے قبل وہ کسی بھی اہم فیصلہ سے قبل پارٹی سے مشاورت ضرور کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے 28 جولائی کو وزیراعظم کے عہدہ کے لئے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد مقامی قوانین کے مطابق اُنھیں اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے بھی محروم ہونا پڑا اور مزید برآں اب وہ پارٹی میں کسی بھی عہدہ پر فائز نہیں ہوسکتے ۔

 

TOPPOPULARRECENT