Saturday , August 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / عباس بن احمد توشۂ آخرت

عباس بن احمد توشۂ آخرت

ایک شخص نے اپنے بیٹے سے وصیت کرتے ہوئے کہا: بیٹا! میرے مرنے کے بعد میرے پیروں میں یہ پھٹے پرانے موزے پہنا دینا،میری خواہش ہے مجھے قبر میں اسی طرح اتارا جائے۔ اس وصیت کے کچھ روز بعد باپ کا انتقال ہوگیا اور غسل و کفن کی تیاری ہونے لگی چنانچہ حسب وعدہ بیٹے نے عالم دین سے وصیت کا اظہار کیا مگر عالم دین نے اجازت نہ دیتے ہوئے فرمایا: ہمارے دین میں میت کو صرف کفن پہنانے کی اجازت ہے۔ مگر لڑکے نے کافی اصرار کیا جسکی بناپر علمائے شہر ایک جگہ جمع ہوئے تاکہ کوئی نتیجہ نکل سکے۔  مگر ہونا کیا تھا صرف لفظی تکرار بڑھتی گئی۔ اسی اثناء ایک شخص وارد مجلس ہوا اور بیٹے کو باپ کا خط تھمادیا جس میں باپ کی وصیت یوں تحریر تھی…:
میرے پیارے بیٹے، دیکھ رہے ہو؟ کثیر مال ودولت,جاہ و حشم، باغات، گاڑی، کارخانہ اور تمام امکانات ہونے کے باوجود اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ میں ایک بوسیدہ موزہ اپنے ساتھ لے جاسکوں۔ ایک روز تمہیں بھی موت آئے گی آگاہ ہوجاؤ کہ تمہیں بھی ایک کفن ہی لیکے جانا پڑے گا. لہذا کوشش کرنا کہ جو مال و دولت میں نے ورثہ میں چھوڑی ہے اس سے استفادہ کرنا نیک راہ میں خرچ کرنا بے سہاروں کا سہارا بننا کیونکہ جو واحد چیز قبر میں تمہارے ساتھ جائے گی وہ تمہارے اعمال ہونگے۔
دوستو ! اپنے ہاتھوں نہ جانے کتنے انسانوں کو ہم دفن کرتے ہیں اپنی ان ہی آنکھوں کے سامنے کتنے عزیزوں، رشتہ داروں، دوستوں و رفقاء کو اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتا دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اس حقیقی گھر آخرت کی تیاری سے غافل رہ کر اس دنیا کے رنگ و بو میں قیامت تک اس میں رہنے کی امیدوں کے ساتھ مست رہتے ہیں اور اپنی عقل مندی اور دانائی پر فخر کرتے ہیں۔
امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کیسی پیاری بات کہی کہ اگر کوئی آدمی یہ نذر مان لے کہ وہ دنیا کے عقل مند ترین لوگوں کی دعوت کرے گا تو اسے زاہد فی الدنیا لوگوں کی دعوت کر کے یہ نذر پوری کرنی پڑیگی اس لیے کہ زاہدین ہی دنیا کے عقلمند ترین لوگ ہیں جو آخرت کی فکر (توشۂ آخرت ) میں دنیا کو نظرانداز کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT