Tuesday , October 24 2017
Home / دنیا / عبدالسلام کا حملہ کے بعد سے پولیس کے ساتھ عدم تعاون

عبدالسلام کا حملہ کے بعد سے پولیس کے ساتھ عدم تعاون

خول میں سمٹ جانے پر تحقیقات میں پیشرفت ناممکن ہونے کا وکیل میری کا انتباہ
پیرس ۔ 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) صلاح عبدالسلام جو پیرس حملوں کا مشتبہ ملزم ہے جسے 18 مارچ کو بروسلز میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تحقیقات کنندوں سے حملہ ہونے کے بعد سے تعاون نہیں کررہا ہے۔ اس کے وکیل نے یوروپ 1 ریڈیو پر انٹرویو دیتے ہوئے جو آج نشر کیا گیا، کہا کہ اس کے خیال میں وہ مجھ سے ملاقات چاہتا ہے کیونکہ اس نے تحقیقات کنندوں سے منگل کے دن آنے کیلئے کہا ہے۔ اس کی وکیل سوین میری نے اس سوال پر کہ کیا عبدالسلام تحقیقات کرنے والوں سے بروسلز میں مسلسل تین بم حملوں کے بعد تعاون کررہا ہے۔ میری نے کہا نہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ اسے دوبارہ بند کردیا جائے۔ اگر وہ اپنے خول میں سمٹ جائے تو ہمیں مزید واقعات کا سامنا پڑے گا۔ انہوں نے بروسلز ایرپورٹ پر منگل کے دن حملہ اور پیرس کے تفریحی پروگرام ہال پر گذشتہ سال 13 نومبر کو جہادیوں کے حملہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات اعادہ ہوسکتا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا عبدالسلام کو بروسلز میں حملے کرنے کا خیال تھا۔ میری نے کہا کہ وہ کیا سوچتا ہے، میں جاننا نہیں چاہتی۔ موجودہ مرحلہ پر اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ 26 سالہ صلاح عبدالسلام کی ٹانگ پر گذشتہ جمعہ کو بروسلز کے مضافاتی علاقہ مولن بیک میں فائرنگ کی گئی تھی۔ اس کا زخم بتدریج مندمل ہورہا ہے۔

یہ سنگین نوعیت کا زخم نہیں ہے۔ تحقیقات کنندوں کا خیال ہیکہ عبدالسلام نے پیرس میں حملوں کا اہتمام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہیکہ اس نے اپنی خودکش جیکٹ لمحہ آخر میں اتار پھینکی تھی۔ اس کے فرار ہونے کے چار ماہ بعد اسے گرفتار کیا گیا اور فی الحال وہ انتہائی سخت حفاظتی انتظام کے جیل خانے برجیس شمال مغربی بلجیم میں قید ہے۔ اپنی گرفتاری کے کچھ ہی دیر بعد میری نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ عبدالسلام تحقیقات کنندوں سے تعاون کررہا ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے بموجب اس نے بلجیم ایرپورٹ اور میٹرو اسٹیشن پر بم حملوں کی اطلاع ملنے کے بعد تحقیقات کنندوں سے تعاون ختم کردیا ہے۔ اس کی وکیل کا خیال ہیکہ وہ دراصل اس سے ملاقات کرنا چاہتا ہے لیکن کھل کر یہ مطالبہ نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے اس نے ایسا رویہ اختیار کیا ہے۔ اس کی وکیل سوین میری نے عہدیداروں کو انتباہ دیا کہ اگر عبدالسلام تعاون مکمل طور پرترک کردیں تو دہشت گرد حملہ کی تحقیق میں پیشرفت ناممکن ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT