Thursday , August 17 2017
Home / عرب دنیا / عبداللہ صالح سعودی عرب سے امن بات چیت کے خواہاں

عبداللہ صالح سعودی عرب سے امن بات چیت کے خواہاں

صنعاء ۔ 28 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) یمن کے باغی حامی سابق صدر علی عبداللہ صالح نے حکومت کے ساتھ مزید امن بات چیت کے امکانات کو مسترد کردیا اور کہا کہ بات چیت اگر کرنا ہی ہے تو سعودی عرب کے ساتھ کی جائے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب ایران کی حمایت والے شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف مارچ سے کئے جانے والے فوجی اقدامات کی قیادت کررہا ہے جسے علی عبداللہ صالح کے حامیوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اپنی پارٹی جنرل پیپلز کانگریس (GPC) کے ارکان کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مستقبل میں ہونے والی بات چیت میں اس وقت تک شرکت نہیں کریں گے جب تک جنگ بندی نہ ہوجائے۔ جی پی سی کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں منعقدہ امن بات چیت میں شرکت کی تھی جو سوئٹزرلینڈ میں گذشتہ ہفتہ منعقد ہوئی تھی۔ حالانکہ بات چیت کے دوران کوئی قابل ذکر تبدیلی یا فیصلہ نہیں کیا گیا البتہ سب سے نے اس بات پر اتفاق رائے کا اظہار کیا تھا کہ اسی نوعیت کا ایک اور اجلاس آئندہ سال 14 جنوری کو منعقد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی ہوجاتی ہے تو ہم سعودی عرب سے بات چیت کریں گے ناکہ بھگوڑوں کے وفد سے۔ ان کا اشارہ دراصل صدر منصورہادی کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے وفد کی جانب تھا۔ صدر منصور ہادی کو کئی ماہ تک سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ تاہم ستمبر میں وہ عدن واپس آ گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT