Tuesday , September 19 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس کا 1962 میں افتتاح ، لیکن انسٹی ٹیوٹ کہاں ہے ؟

عثمانیہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس کا 1962 میں افتتاح ، لیکن انسٹی ٹیوٹ کہاں ہے ؟

عثمانیہ دواخانہ کی عمارت تعمیری لحاظ سے لاجواب ، منہدم کردینے کا خیال ذہن سے نکالدینے ڈاکٹروں اور شہریوں کا چیف منسٹر کو مشورہ
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست : ( نمائندہ خصوصی ) : چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے تاریخی دواخانہ عثمانیہ کی عمارت کو منہدم کرنے سے متعلق اعلان اور اس کے بعد عوامی برہمی کے باعث بیانات کی اجرائی سے عوام میں کافی الجھن پائی جاتی ہے ۔ ڈاکٹروں سے لے کر عام شہری تک تمام کے تمام فن تعمیر کے شاہکار دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرنے سے متعلق منصوبوں کی سخت مخالفت کررہے ہیں ۔ ماہرین آثار قدیمہ ، میوزیم آرکیٹکٹس اور انجینئروں نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ عثمانیہ دواخانہ جیسی عمارت کو صرف اور صرف تزئین نو کی ضرورت ہے ۔ ساری دنیا میں حکومتیں تاریخی آثار کا تحفظ کرتی ہیں لیکن واحد تلنگانہ ہے جہاں حکومت ہی تاریخی آثار کو منہدم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ آج اگر عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کا ڈیزائن تیار کرنے والے برطانوی آرکیٹکٹ ویسنٹ جیروم ایش زندہ ہوتے تو کے سی آر کے منصوبوں کے بارے میں جان کر خودکشی نہیں تو کم از کم ہم ہندوستانیوں کی طرح مرن برت شروع کردیتے اور ان کا مرن برت ویسا ہی ہوتا جیسے کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ کے لیے کیا تھا ۔ شہر کے ممتاز ڈاکٹروں ڈاکٹر محمد اقبال جاوید ، ڈاکٹر کے نرسنگ راؤ اور ڈاکٹر سید نصرت فریس کے مطابق عثمانیہ دواخانہ کی ایک شاندار تاریخ رہی ہے اور اس کی تاریخ 1846 میں نظام میڈیکل اسکول کے قیام کے ساتھ شروع ہوئی جو آج ہمارے سامنے عثمانیہ میڈیکل کالج کے نام سے موجود ہے ۔ اس ہاسپٹل اور دواخانہ نے نہ صرف آندھرا پردیش ، تلنگانہ اور ہندوستان بلکہ ساری دنیا کو قابل ترین ڈاکٹرس فراہم کئے ۔ ڈاکٹر محمد اقبال جاوید جو شہر کے ممتاز ڈاکٹر اور انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر محمد عثمان کے فرزند ہیں کا کہنا ہے کہ عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کی مریضوں کی صحت کو مد نظر تعمیر عمل میں لائی گئی تھی تقریبا 27 ایکڑ اراضی پر اس قدر سرسبز و شادابی رکھی گئی کہ صرف2.5  تا 4 ایکڑ اراضی پر دواخانہ کی عمارت تعمیر کی گئی ۔ ہندوستان میں عثمانیہ جنرل ہاسپٹل جیسا دواخانہ کہیں پر نظر نہیں آئے گا ۔ عثمانیہ دواخانہ اور عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اسے 1962 میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس کا رتبہ دیا گیا تھا اور رسمی طور پر 27 جولائی 1962 کو اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اس کے آغاز کا اعلان بھی کیا تھا ۔ اس ضمن میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں اس وقت کے متحدہ آندھرا پردیش کے گورنر مسٹر بھیم سین سچر اور ڈاکٹر نیلم سنجیوا ریڈی بھی موجود تھے ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے 9 کیمپس ہیں جو شائد ہندوستان کے کسی دواخانے کے نہیں ۔ ان کیمپس میں ای این ٹی کنگ کوٹھی ، زچگی خانہ پیٹلہ برج ، مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل ، نیلوفر بچوں کا دواخانہ ، سروجنی دیوی آئی ہاسپٹل ، ٹی بی ہاسپٹل ، ایرا گڈہ ، مینٹل ہاسپٹل ایرا گڈہ ، نمس ( نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس ) اور فیور ہاسپٹل ( کورنٹی دواخانہ ) جو اصل میں کورنٹائن ہاسپٹل ہے شامل ہیں ۔ شہر کے اکثر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر دواخانہ کی اصل عمارت ہیرٹیج بلڈنگ کو چھوڑ کر مابقی وسیع و عریض اراضی پر ہاسپٹل کی ایک نئی ہمہ منزلہ عمارت تعمیر کرائیں اور موجودہ عمارت کی تزئین نو کرتے ہوئے اسے ہیلتھ میوزیم میں تبدیل کردیں ۔ عام شہریوں کے خیال میں چیف منسٹر کو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ فن تعمیر کے اس غیر معمولی شاہکار کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ دوسری جانب ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ 1962 میں سابق صدر جمہوریہ نے جس عثمانیہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کا آغاز کیا تھا اسے بحال کرنے پر چیف منسٹر توجہ دیں اس سے نہ صرف پیشہ طب کی بلکہ تلنگانہ کے عوام کی بڑی خدمت ہوگی ۔ ایران میں خدمات انجام دے چکے ڈاکٹر اقبال جاوید کے مطابق اگر عثمانیہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اعلان کے مطابق قائم کردیا جاتا تو ہزاروں ڈاکٹرس بیرون ملک کا رخ کرنے کی بجائے اپنے ملک بالخصوص تلنگانہ میں خدمات انجام دیتے ۔۔

TOPPOPULARRECENT