Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس میں ایک ایک بستر پر دو دو مریض

عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس میں ایک ایک بستر پر دو دو مریض

ادویات اور طبی آلات کی کمی، مریض بے بس ، رشوت کا بازار گرم
حیدرآباد۔ 16 اکتوبر (سیاست نیوز) گاندھی ہاسپٹل اور عثمانیہ دواخانے میں ادویات مرض کی تشخیص کے آلات خون اور دوسری سہولتوں کی شدید کمی ہے۔ بعض وارڈس میں تو ایک بستر پر دو دو مریض پڑے ہیں۔ دونوں بڑے سرکاری دواخانوں میں ادویات کی شدید قلت ہے۔ آؤٹ پیشنٹس اور اِن پیشنٹ نے دواخانوں کی حالت زار پر شدید برہمی ظاہر کی ہے۔ مریضوں سے ہاسپٹل کے باہر ڈوزس خریدنے کے لئے کہا جارہا ہے، اگر ڈاکٹرس چار ڈوزس تجویز کرتے ہیں تو کم از کم دو ڈوزس تو دواخانے میں سپلائی نہیں کی جائیں۔ میڈیکل آفیسرس مریضوں کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہیں ہاسپٹل سے باہر کون سی میڈیکل شاپ سے دوا خریدنی ہے۔ ایسے میڈیکل شاپس سے ڈاکٹرس کے مفادات وابستہ رہتے ہیں۔ بہرحال محکمہ طب و صحت کے حکام نے ادویات کی قلت کی تردید کی ہے۔ ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر رمن نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ بعض نازک اور خطرناک امراض کی کچھ ادویات دستیاب نہیں ہوتی ہیں اور مریضوں کو ایسی ادویات ہاسپٹل کے باہر خریدنا پڑتا ہے۔ مریضوں نے شکایت کی کہ ادویات کے علاوہ مریضوں کی تعداد کے تناسب سے سی ٹی اسکیانس ، ایکسرے مشینوں کی بھی قلت ہے۔ مریضوں کو خانگی ڈائگناسٹک سنٹرس بھیجا جاتا ہے۔ اس کے پیش نظر پرائیویٹ ڈائیگناسٹک سنٹرس 24 گھنٹے کام کررہے ہیں۔ خون کے معائنے کے لئے بھی مریضوں کو ہاسپٹل کے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ نتیجہ میں مریضوں کی جیب خالی ہوجاتی ہے۔ یہ شکایت عام ہے کہ ان دواخانوں میں کسی نہ کسی بہانے مریضوں کے علاج سے ہاتھ اٹھا لیا جانا ہے۔ پیٹ کی شدید تکلیف سے دوچار ایک مریضہ کملا سرکاری ہاسپٹل سے رجوع ہوئی تو اس سے کہا گیا کہ وہ 28 اکتوبر کو دوبارہ آئے کیونکہ اس تاریخ تک اسکیاننگ مشین بُک ہے۔ یہ بے چاری کیا اپنے درد کا علاج کرانے 28 اکتوبر تک انتظار کرے گی۔ بستروں کی شدید کمی کی وجہ سے بعض وارڈس میں ایک بیڈ پر دو مریض دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان دو بڑے سرکاری دواخانوں میں صفائی ستھرائی کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔ کئی مقامات پر واش رومس مقفل ہیں۔ اگر کہیں کھلے بھی ہیں تو بدبو پھیلی ہوئی ہے۔ نچلے درجہ کا اسٹاف مریضوں کو ہراساں کرتا ہے۔ لڑکے کی پیدائش پر زچہ یا اس کے رشتہ داروں سے ایک ہزار روپئے رشوت وصول کی جاتی ہے۔ سکیورٹی جوان سے لے کر کمپونڈر تک رشوت کے لئے ہر کوئی مریضوں کو دق کررہے ہیں۔ جب تک مٹھی گرام نہیں کی جاتی، افراد عملہ بیڈ شیٹس تبدیل نہیں کرتے۔ بہرحال گاندھی ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جے وینکٹیشور ریڈی کا کہنا ہے کہ دواخانے میں مریضوں کو کوئی مسائل درپیش نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاسپٹل میں گنجائش سے زیادہ مریض چلے آتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بعض چھوٹے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ جن سے جلد نمٹ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے ہیلتھ سیکٹر کے لئے کافی فنڈس مختص کئے ہیں۔ انہوں نے دواؤں کی قلت کی تردید کی اور کہا کہ ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو گھنٹوں میں اس سے نمٹ لیا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT