Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ جنرل ہاسپٹل تلنگانہ کا قیمتی اثاثہ

عثمانیہ جنرل ہاسپٹل تلنگانہ کا قیمتی اثاثہ

قدیم ہیرٹیج عمارت کو منہدم کرنے حکومت کے متضاد بیانات پر اظہار تشویش
سراسانی ستیم ریڈی ، پروفیسر ویملا اور ڈاکٹر کے چرنجیوی کا ردعمل

حیدرآباد۔12اگست(سیاست نیوز)آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے سینئر وکیل مسٹر سراسانی ستیم ریڈی نے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی عمارت کو تلنگانہ کا قیمتی ورثہ قراردیتے ہوئے کہاکہ دواخانہ کی قدیم ہرٹیج عمارت کو مہندم کرنے کے متعلق حکومت تلنگانہ کے متضاد بیانات کے سبب بڑھتے تشویش کے پیش نظر میںنے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کے تحت ایک پی آئی ایل دائر کیاجس کے جواب میںحکومت تلنگانہ کے اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کے سامنے دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کو مہندم کرنے کے متعلق اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے عدالت عالیہ کو بتایا کہ حکومت تلنگانہ کے پاس دواخانہ کو منہدم کرنے کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ سراسانی ستیم ریڈی نے بتایا کے سنوائی کے دوران میں نے اٹارنی جنرل سے اس بات کا بھی استفسار کیا کہ اگر حکومت کے پاس عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی قدیم عمارت کو منہدم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے تو آئے دن کس طرح حکومت تلنگانہ کے ذمہ داران بالخصوص چیف منسٹر اور ان کے قریبی رفقاء عمار ت کی خستہ حالی کا بہانہ بناکر عمارت کو مہندم کرنے کا بار بار ارادہ ظاہر کرتے ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے اس قسم کے تمام ارادوں کا واضح طور پر انکار کردیا۔

مسٹر ستیم ریڈی نے بتایا کے سنوائی کے دوران بحیثیت درخواست گذار ہم نے ان تمام اخباری تراشوں کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا جس میں حکومت تلنگانہ کے ذمہ داروں کے بیان شائع ہوئے ہیں ۔ مسٹر ستیم ریڈی نے بتایا کہ عدالت عالیہ نے عثمانیہ دواخانہ کی عمارت کو منہدم کرنے یا پھر کسی اور منصوبہ کے تحت قدیم ہرٹیج عمارت کے اندرون اور بیرونی حصہ میں کسی بھی قسم کی تعمیری سرگرمی سے قبل حکومت کو پبلک نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ۔مسٹر ریڈی نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کو منہدم کرنے کی سازش کوذاتی مفادات کی تکمیل قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرتے ہوئے وہاں پر علاج کے سلسلے کو برخواست کرنے کا راست فائدہ کارپوریٹ دواخانوں کو پہنچے گا۔انہوں نے مزیدکہاکہ عثمانیہ دواخانہ شہر حیدرآباد کی پہچان ہے اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے کھلواڑ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے دواخانہ کی عمارت کو مکمل تحفظ فراہم کرنے اور عمارت کی مرمت ودرستگی کا کام شروع ہونے تک دواخانہ عثمانیہ کے متعلق حکومت کی ہر حرکت پر کڑی نظر رکھنے کی بات کہی۔

سماجی جہدکار و1969تلنگانہ مومنٹ فاونڈرس فورم قائد ڈاکٹر کولیروچرنجیوی نے دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کو مہندم کرنے کے متعلق حکومت تلنگانہ کے کسی بھی بیان کو غیرتشفی بخش قراردیا۔ ڈاکٹر چرنجیوی نے کہاکہ دستاویزی تیقن تک حکومت تلنگانہ کی جانب سے دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرنے کے متعلق کو ئی بھی بیان پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر چرنجیوی نے دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کو منہدم کرتے ہوئے کارپوریٹ دواخانوں اور رئیل اسٹیٹ مافیا کو فائدہ پہنچنے کی سازش رچنے کا حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے زیادہ تر کارپوریٹ ہاسپٹلس پر ریڈی‘ ویلمہ اور کمہ طبقے کی اجارہ داری ہے اور کہاکہ دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرنے کی اطلاع عام کرنے کیساتھ ہی ان پیشنٹ مریضوں میںکمی آئی ہے اور بیشتر مریض دواخانہ کی علاج معالجہ کی عدم سہولت کے سبب کارپوریٹ دواخانوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جہاں پر آروگیہ شری یا پھر چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے ہونے والے علاج کا راست فائدہ کارپوریٹ دواخانوں کے انتظامیہ کو پہنچ رہا ہے۔مسٹر چرنجیوی نے غریب او رنادار لوگوں کے علاج کے لئے آروگیہ شری اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے جاری ہونے والی رقم اگر عثمانیہ دواخانہ کی تزائین نو ، آہک پاشی او ر مرمت کے علاوہ دواخانے عثمانیہ کو عصری سہولتوں سے لیس بنانے میں لگائی جائے تو یقینا تلنگانہ کے غریب عوام کو اس کافائدہ پہنچنے گا اور تلنگانہ ریاست کا قدیم اور تاریخی ورثہ کو تحفظ فراہم کیا جاسکے گا۔

انہوں نے دواخانہ عثمانیہ کو ریاست حیدرآباد کے رعایہ پرور حکمران میر عثمان علی خان کا وہ کارنامہ قراردیا جس کو حیدرآباد دکن کی عوام کبھی فراموش نہیںکرسکے گی۔ڈاکٹر چرنجیوی نے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی قدیم ہرٹیج عمارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے کھلواڑ کو ناقابلِ برداشت قراردیتے ہوئے کہاکہ عمارت کے خلاف کی جانے والی ہرسازش کا منھ توڑ جواب دینے کا اعلان کیا۔سماجی جہدکار پروفیسر ویملا نے دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کو منہدم کرنے کے تصور سے بھی انکار کیا۔ انہو ںنے کہاکہ شہر حیدرآباد کی ناک سمجھے جانے والے قدیم دواخانہ عثمانیہ کی عمارت کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ دوسوسال کا موقع ملنے پر بھی اس قسم کی دوبارہ تعمیر ممکن نہیں ہے۔ شریمتی ویملا نے انٹیک کے قومی قائد آرکیٹکچر کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ عمارت کو منہدم کرنے پر جتنا خرچ سرکاری خزانے پر پڑیگا اس کی نصف سے بھی کم رقم میں عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی قدیم عمارت کی مرمت ودرستگی ممکن ہے مگر حکومت کے ذمہ داران کی جانب سے دواخانہ کی قدیم عمارت کو منہدم کرنے کے اعلانات کسی خفیہ سازش کا حصہ دیکھائی دے رہے ہیں۔پروفیسر ویملا نے کہاکہ عثمانیہ دواخانہ کی عمارت کو منہدم کرنا گویا تلنگانہ کی تہذیب کو ختم کرنے کی سمت پہل ثابت ہوگا۔انہوںنے عثمانیہ دواخانہ کی قدیم عمارت کو ہرٹیج کے علاوہ تلنگانہ عوام کے جذبات کا مرکز بھی قراردیا۔

TOPPOPULARRECENT