Tuesday , March 28 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی حالت ابتر ، حکومت اور محکمہ صحت کی بے اعتنائی

عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی حالت ابتر ، حکومت اور محکمہ صحت کی بے اعتنائی

عصری آلات کا فقدان ، مریضوں کی نمس منتقلی ، حکومت کے متعدد وعدے وفا نہ ہوسکے
حیدرآباد۔8مارچ (سیاست نیوز) شہر میں سرکاری دواخانوں کی ابتر حالت سے ہر کوئی واقف ہے لیکن دواخانہ عثمانیہ کی حالت بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکومت تلنگانہ نے شہر حیدرآباد کے اس سرکردہ دواخانہ کی حالت کو بہتر بنانے کے متعدد وعدے کئے لیکن ان پر عمل آوری کے مسئلہ پر حکومت کی ناکامی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو اس سرکاری دواخانہ کی حالت کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس کے متعلق حکومت اور محکمہ صحت کی بے اعتنائی کے سبب مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عثمانیہ دواخانہ میں جہاں ماہر ڈاکٹرس موجود ہیں اور ان کی خدمات کی مثالیں پیش کی جانے لگی ہیں لیکن دواخانہ میں عصری ٹیکنالوجی سے لیس مشنری نہ ہونے کے سبب زیر علاج مریضوں کو نمس روانہ کرتے ہوئے ان کے معائنے کئے جا رہے ہیں جو کہ نہ صرف مریض کیلئے بوجھ کا باعث ہے بلکہ عثمانیہ سے رجوع ہونے والے غریب مریضوں پر مالی بوجھ بھی عائد ہونے لگا ہے۔دواخانہ میں کئی معائنوں کی سہولت نہ ہونے کے سبب خانگی طور پر ان معائنوں کے لئے مریضوں کو روانہ کرنا پڑ رہا ہے یا پھر انہیں نمس سے رجوع کیا جا رہا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت اور محکمہ صحت کو اس سلسلہ میں کئی مرتبہ متوجہ کروایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی محکمہ صحت کے اعلی عہدیدار اس دواخانہ کو عصری آلات سے لیس کرنے کی کاروائی سے کوئی دلچسپی کا اظہار نہیں کر رہے ہیں جو کہ خود دواخانہ میں خدمات انجام دے رہے ڈاکٹرس کے لئے تکلیف کا سبب ہے۔سرکاری دواخانو ںمیں عصری مشینوں کی عدم کارکردگی کے سبب مریضوں کو ہنگامی حالات میں فوری دوسرے دواخانوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے لیکن اس مسئلہ کو غلط رخ دیا جانے لگتا ہے۔ دواخانہ میں خدمات انجام دے رہے ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ عصری سہولتوں کو بالخصوص ہنگامی حالات میں استعمال ہونے والی عصری مشینوں کی بہتر نگہداشت کو ممکن بنایا جائے اور انہیں کارکرد رکھنے کے اقدامات کئے جائیں تو سرکاری دواخانہ میں بھی معیاری علاج و معالجہ کی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ دواخانہ سے رجوع ہونے والے اور زیر علاج مریضوں میں زائد از 40فیصد مریضوں کو خانگی دواخانوں یا نمس سے رجوع کرتے ہوئے ان کے معائنے کروانے پڑتے ہیں اور ان میں 50فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جو نمس تک کی مسافت کیلئے سواری خرچ برداشت کرنے کے بھی متحمل نہیں ہوتے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT