Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی مرمت و درستگی سے کئی سال برقرار رکھا جاسکتا ہے

عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی مرمت و درستگی سے کئی سال برقرار رکھا جاسکتا ہے

حکومت کی لاپرواہی سے نقصان ، اینٹک کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس،حکومت سے مدد طلبی پر خدمات کے لیے تیار
حیدرآباد۔14اگست(سیاست نیوز)انٹیک ہرٹیج کمیٹی نے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے دورے اور تفصیلی معائنہ کے بعد اس موقف پر پہنچی ہے کہ حکومت کی جانب سے عثمانیہ دواخانہ کی قدیم عمارت کی کئی برسوں سے ٹھیک دیکھ بھال نہ کرنے کی وجہہ سے دواخانہ کی ہرٹیج عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم کمیٹی کے ذمہ داران نے اس بات کا ادعا کیاہے کہ ہاسپٹل کی موجود ہ عمارت کو فی الحال کوئی خطرہ لاحق نہیںہے بلکہ اسکی تزئن نواور مرمت کی جائے گی تو برسو ں تک اس عمارت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے ۔انٹیک گریٹر حیدرآباد کنونیر شریمتی انورادھا ریڈی‘ معاون کنونیر سجاد شاہد‘ انجینئرو آرکٹیکٹ مسٹر ایس پی انچوری نے آج یہاں نیو پریس کلب سوماجی گوڑ ہ میں انٹیک کے زیر اہتمام ماہرین تعمیرات کی جانب سے دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کا دورہ اور تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد تیار کردہ رپورٹ کی پیشکشی کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے مخاطب تھے ۔ اس موقع پر کہ انٹیک کے قومی قائد وپرنسپل ڈائرکٹر ارکیالوجی ہرٹیج ڈویثرن کی تیار کردہ رپورٹ کے بموجب دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کی پہلی اور دوسری منزل کے بیت الخلاء نہایت مخدوش ہوگئے ہیں جس کے سبب وہاں پر پانچ تا چھ انچ گندہ پانی جمع ہوگیا ہے اور پانی کی نکاسی کے موثر انتظامات نہ ہونے کی وجہہ سے پانی چھت اور دیواروں میں داخل ہورہا ہے ۔انٹیک کے قائدین نے مزید بتایا کہ عمارت کے برساتی اور ڈرینج لائنس پوری طرح مسدود ہوگئے ہیں جن کی برسوں سے مرمت نہیں کی گئی اس کے علاوہ عمارت کے چھت کے کچھ حصہ بھی مخدوش ہیں جو نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیںکہ کسی مفادات حاصلہ کے لئے عمارت کے ان حصوں کو جان بوجھ کر مخدوش کیا گیا ہے۔انٹیک قائدین نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ پچھلے کئی برسوں سے عمارت کے ڈرنیج سسٹم اور برساتی نالوں کی کسی بھی قسم کی کوئی مرمت نہیںکی گئی جو کہ عثمانیہ دواخانہ کی قدیم عمارت کے لئے نقصاندہ ثابت ہورہا ہے۔انٹیک کمیٹی کے ذمہ داران نے اپنے دورے پر مشتمل رپورٹ کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہاسپٹل کی عمارت کو کئی برسوں سے تعمیرومرمت اور آہک پاشی سے محروم رکھا گیا جس کے باعث اس طرح کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔انٹیک گریٹر حیدرآباد قائدین نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ وہ عمارت کو منہدم کرنے کے بجائے مرمت کریں جس سے اس کی اصلی حالت برقرار رہے گی اور مستقبل میں کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیںہوگا۔کمیٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد دکن چونکہ ایک تاریخی شہر ہے یہاں کے تاریخی وقدیم عمارتیں جوکہ منفرد طرز تعمیرپر مشتمل ہیںہر سال سینکڑوں سیاح ان عمارتوں کا مشاہدہ کرتے ہیںاس کے علاوہ انہوں نے مزیدبتایا کہ انٹیک کمیٹی نہ صرف ہندوستان کے تاریخی عمارتوں بلکہ بیرون ممالک کی تاریخی عمارتوں کی برقراری کے لئے وہ جائزہ لینے کے بعد تجاویز پیش کرتی ہے۔ انہوں نے قلعہ گولکنڈہ کے احاطہ میں واقع تاریخی گنبدان قطب شاہی کو جس طرح آغاخان فاونڈیشن کے تعاون واشتراک سے اس کی اصلی حالت کو برقرار رکھنے کے لئے تعمیر ومرمت ‘ تزئن نو انجام دی جارہی ہے یہ دیگر تاریخی عمارتوں کے لئے ایک مثال کے مانند ہے۔انہو ںنے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ جس طرح گنبدان قطب شاہی کی تزئن نو مرمت کی جارہی ہے اسی طرز پر اگر عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی قدیم ہرٹیج عمارت کی بھی مرمت ‘تزئن نو اور درستگی کاکام کیا جائے تویہ اقدام حکومت او رعوام دونوں کے لئے راحت کا باعث بنے گا۔انٹیک کے قائدین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ماہر تعمیرات نے دنیا بھر میں اپنے تجربے کا لواہا منواتے ہوئے وہاں کی قدیم اور ہرٹیج عمار توں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ انہوںنے انٹیک کی جانب سے ایسے ماہرین تعمیرات حکومت کے سامنے پیش کرنے کی تجویز رکھی جو اپنی مہارت سے دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کو نہ صرف تحفظ فراہم کریں گے بلکہ دواخانہ کی عظمت رفتہ کو بحال کرتے ہوئے ریاست حیدرآباد کی قدیم ہرٹیج عمارت کو مستقبل میں کسی بھی خطرہ سے محفوظ رکھنے ماہرین اقدامات کریں گے ۔ انٹیک کے قائدین نے خفیہ ایجنڈہ کے تحت دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کو خستہ حال بنائے جانے کے تمام خدشات کی بھی تحقیقات کا حکومت سے مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT