Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ دواخانہ میں بنیادی سہولیات کا فقدان، مریضوں کو مشکلات

عثمانیہ دواخانہ میں بنیادی سہولیات کا فقدان، مریضوں کو مشکلات

رشوت کا چلن، ہر طرف گندگی، سرکاری ہاسپٹلس کو بہتر بنانے حکومت کے جھوٹے وعدے

حیدرآباد۔9جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے سرکاری دواخانوں کی حالت کو بہتر بنانے کے اعلانات صرف اعلانات کی حد تک محدود ہیں کیونکہ شہر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ریاست تلنگانہ کا معروف سرکاری دواخانہ جہاں پڑوسی ریاستوں کرناٹک و مہاراشٹرا کے مریض اور آندھراپردیش کے بھی بعض اضلاع سے مریضوں کو رجوع کیا جاتا ہے اس دواخانہ کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے اور دواخانہ میں بنیادی سہولتوں کے فقدان کے سبب مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دواخانہ عثمانیہ کی حالت دیکھنے کے بعد کوئی بھی شخص سرکاری دواخانوں کی سمت رخ کرنے کے متعلق ہزار مرتبہ غور کرے گا۔ دواخانہ عثمانیہ جو کہ شہر حیدرآباد کا تاریخی ورثہ ہے اور اس دواخانہ میں کئی قابل ڈاکٹرس موجود ہیں اور حالیہ عرصہ میں ان ڈاکٹرس نے جو کارنامے انجام دیئے ہیں انہیں دیکھنے کے بعد یہ دواخانہ میں قابل ڈاکٹرس کی عدم موجودگی کی شکایات کرنا درست نہیں ہے لیکن خود ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ دواخانہ میں بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی اور علاج و معالجہ کیلئے درکار سہولیات کے بہتر نہ ہونے کے سبب حالات بتدریج ابتر ہوتے جا رہے ہیں ۔ ریاست کے سب سے بڑے سمجھے جانے والے اس سرکاری دواخانہ میں مریضوں کیلئے بستر برابر موجود نہیں ہیں اور جو کچھ بستر موجود ہیں ان پر دواخانہ کے عملہ بالخصوص نرسنگ عملہ کا قبضہ ہوتا ہے جس کے سبب مریضوں کو بحالت مجبوری فرش پر ڈال دیا جاتا ہے اور غریب مریض اس حالت میں بھی اپنا علاج کروانے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے خانگی دواخانوں کو کروڑہا روپئے کی ادائیگی کے بجائے دواخانہ عثمانیہ کی حالت کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں دواخانہ عثمانیہ کو بھی کارپوریٹ ہاسپٹل سے بہتر بنایاجاسکتا ہے۔ سرکاری دواخانوں میں رشوت کا چلن عام بات ہے لیکن اس چلن کے خاتمہ کیلئے اقدامات کی دہائی دی جاتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود عثمانیہ دواخانہ کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں ہے بلکہ واچ مین سے دوسرے درجہ کے ملازمین تک رشوت کا چلن عام ہے۔ شہر حیدرآباد میں موجود اس سرکاری دواخانہ کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر مجبوری نہ ہو تو کوئی شخص دواخانہ میں موجود کسی بھی بیت الخلاء کا استعمال نہ کرے بلکہ مریضوں کیلئے موجود بیت الخلاء کی صفائی ہفتہ میں ایک مرتبہ بھی نہیں کی جاتی جبکہ دواخانہ میں صفائی کے انتظامات کو بہتر بنایا جانا ناگزیر ہوتا ہے کیونکہ علاج کے دوران صفائی و نفاست کو جتنی اہمیت دی جاتی ہے اتنی اہمیت ادویات کی فراہمی کو حاصل نہیں ہوتی لیکن دواخانہ عثمانیہ کی حالت کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس دواخانہ میں مریض کو گندگی سے جتنا نقصان پہنچتا ہے اتنا اس کی طبعیت سے نہیں ہوتا۔ حکومت کی جانب سے دواخانہ عثمانیہ کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے کروڑہا روپئے خرچ کئے جانے کا ادعا کیا جارہاہے لیکن اس دعوؤں میں کس حد تک سچائی ہے اس کا اندازہ دواخانہ کی حالت دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT