Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ ہاسپٹل کو منہدم کرنے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی: چیف منسٹر کے سی آر

عثمانیہ ہاسپٹل کو منہدم کرنے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی: چیف منسٹر کے سی آر

حکومت اور برسر اقتدار پارٹی میں اختلاف رائے ، چارمینار کے متنازعہ بیان پر وزیر سے اظہار ناراضگی
حیدرآباد۔/7اگسٹ، ( سیاست نیوز) عثمانیہ ہاسپٹل کی تاریخی عمارت کے انہدام کا مسئلہ ٹی آر ایس حکومت اور بالخصوص چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کیلئے دن بہ دن تنازعہ میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ چیف منسٹر نے اگرچہ ہاسپٹل کے انہدام اور اس کی جگہ نئی عمارت کی تعمیر کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض انجینئرس سے بھی مشاورت کی گئی تاہم دوسری طرف حکومت اور پارٹی میں ایک گوشہ اس فیصلہ کی مخالفت کررہا ہے۔ اس طرح عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کے انہدام کے مسئلہ پر حکومت اور برسر اقتدار پارٹی میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ اگرچہ انہدام کے مخالفین کھل کر اظہار خیال سے گریز کررہے ہیں کیونکہ انہیں مخالفت کی صورت میں چیف منسٹر کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کے باوجود تاریخی عمارت کے تحفظ کے حامی خاموشی سے سرکاری حلقوں میں اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر اس مسئلہ پر اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے قریبی حلقہ میں یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں عمارت کے انہدام سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ چیف منسٹر کا دعویٰ ہے کہ عثمانیہ ہاسپٹل اگرچہ تاریخی ورثہ کی حامل یادگار ہے لیکن اس کی بوسیدہ و خستہ حالت میں سوائے انہدام کے کوئی راستہ نہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ بعض گوشوں کی جانب سے جب انہدام کی مخالفت کی گئی تو چیف منسٹر نے ان افراد پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء کو پابند کیا ہے کہ وہ عمارت کے انہدام کے مسئلہ پر رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کریں۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کی اس ہدایت پر عمل آوری کے دوران ایک وزیر کی جانب سے چارمینار کے انہدام سے متعلق متنازعہ بیان پر چیف منسٹر نے ناراضگی کا اظہار کیا اور وزراء کو ہدایت دی کہ وہ اس طرح کے متنازعہ ریمارکس سے گریز کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی کابینہ میں موجود چند وزراء انہدام کے حق میں نہیں ہیں اور ان کا استدلال ہے کہ اس فیصلہ سے حکومت ریاست بھر میں اقلیتوں کی تائید سے محروم ہوسکتی ہے۔ انہدام کے مخالف وزراء کا ماننا ہے کہ حکومت کو آثار قدیمہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے عمارت کی تعمیر و مرمت کے ذریعہ تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ جس طرح گنبدان قطب شاہی کے تحفظ کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں اسی طرح عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت انہدام سے بچائی جاسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کے بعض ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی نے بھی نجی طور پر انہدام کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی کے ایک ایم پی نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کے انہدام کے فیصلہ سے عوام میں بے چینی صاف طور پر دکھائی دے رہی ہے اور اس کا اثر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر یہ دیکھا گیا کہ چیف منسٹر عمارتوں کی تعمیر اور انہدام سے متعلق جو فیصلے کرتے رہے ہیں انہیں بعد میں تبدیل کردیا گیا۔ سابق میں موجودہ سکریٹریٹ کو منہدم کرکے ایرا گڈہ میں نیا سکریٹریٹ تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اس کے لئے ٹی بی ہاسپٹل کی عمارت منہدم کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن بعد میں حکومت نے اس منصوبہ کو تبدیل کرتے ہوئے سکریٹریٹ کی عمارت کیلئے نئے مقام کی تلاش شروع کردی ہے۔ چیف منسٹرکے قریبی ذرائع کے مطابق شہر کی مقامی سیاسی جماعت نے اندرونی طور پر انہدام کے فیصلہ کی تائید کی ہے جس کے باعث چیف منسٹر کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے منصوبہ پر عمل آوری کے بارے میں پُرامید ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی سیاسی جماعت نے چیف منسٹر کو تیقن دیا کہ وہ اس مسئلہ پر حکومت کی مخالفت نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر کے اعلان کے بعد سے مقامی سیاسی جماعت نے لب کشائی نہیں کی۔ اگرچہ سلاطین آصفیہ کی یادگاروں کے تحفظ کے سلسلہ میں مقامی جماعت کو آگے رہنا چاہیئے تھا لیکن وہ سیاسی مفادات کے تحت ٹی آر ایس کی حلیف بن چکی ہے جس کے نتیجہ میں عوام میں شدید ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔ انہدام کی راہ میں ٹی آر ایس حکومت کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ مرکزی حکومت ہے جسے اس عمارت کو آثار قدیمہ کی فہرست سے علحدہ کرنا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت داخلی اختلافات اور عوامی ناراضگی کا کس طرح سامنا کرے گی۔ چیف منسٹر کی ہدایت کے باوجود کئی وزراء اور پارٹی قائدین نے انہدام کے مسئلہ پر رائے زنی سے گریز کیا ہے تاکہ عوامی ناراضگی سے بچا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT