Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کو منہدم کرنے چیف منسٹر اٹل

عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کو منہدم کرنے چیف منسٹر اٹل

عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کو منہدم کرنے چیف منسٹر اٹل
تاریخی عمارتوں کے تحفظ سے متعلق تنظیموں کو ملاقات کا وقت نہیں دیا : انہدام کے خلاف مہم سے ناراض
حیدرآباد 10 اگست (سیاست نیوز) عثمانیہ ہاسپٹل کی تاریخی عمارت کو منہدم کرنے کے فیصلہ پر قائم چیف منسٹر چندرا شیکھر راو نے تاریخی عمارتوں کے تحفظ سے متعلق تنظیموں سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف رضا کارانہ تنظیموں نے اس مسئلہ پر ملاقات کیلئے چیف منسٹر سے وقت مانگا ہے ۔ یہ تنظیمیں جن میں بعض قومی سطح کی تنظیمیں شامل ہیں چیف منسٹر کو تاریخی عمارت کی حقیقی صورتحال سے واقف کرانا چاہتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر عمارت کے انہدام کے خلاف جاری مہم سے سخت ناراض ہیں اور انہوں نے وزیر صحت لکشما ریڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ عمارت سے مریضوں کی منتقلی کا کام جلد مکمل کریں ۔ محکمہ صحت کے اعلی عہدیدار مریضوں اور متعلقہ شعبہ جات کی منتقلی میں شبانہ روز مصروف ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ عثمانیہ ہاسپٹل کے ایک سابق سپرنٹنڈنٹ نے بھی اس مسئلہ پر چیف منسٹر سے ملاقات کا وقف مانگا لیکن گذشتہ ایک ہفتہ سے انہیں وقت نہیں دیا گیا ۔ سابق سپرنٹنڈنٹ ہاسپٹل کی عمارت کے انہدام کے خلاف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عمارت کی مناسب نگہداشت کی جائے تو اسے مستحکم اور مضبوط کیا جاسکتا ہے ۔ تاریخی عمارتوں کے تحفظ سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ عہدیدار عمارت کی خستہ حالی کے بارے میں جو تاثر دے رہے ہیں وہ حقائق کے برخلاف ہے۔ اسی دوران ٹی آر ایس کے بعض قائدین نے چیف منسٹر کو اس مسئلہ پر ماہرین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ تاہم چیف منسٹر کے سخت گیر رویہ کو دیکھتے ہوئے اس تجویز سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر صحت لکشما ریڈی نے پارٹی قائدین پر واضح کردیا کہ عثمانیہ ہاسپٹل کی منتقلی کے مسئلہ پر چیف منسٹر کوئی متضاد رائے سننے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اندرون ایک ہفتہ قدیم عمارت کا مکمل تخلیہ کردیا جائے تا کہ ہائی کورٹ اور آر کائیوز سے عمارت کے انہدام کی اجازت  حاصل کی جاسکے ۔ اسی دوران ہاسپٹل کی منتقلی کے مسئلہ پر ڈاکٹرس میں اختلاف رائے پیدا ہوچکا ہے۔ عثمانیہ ہاسپٹل کے ڈاکٹرس کی ایک ٹیم موجودہ عمارت کے انہدام اور مریضوں کی منتقلی کے خلاف ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت عمارت کی تزئین نو اور مرمت کیلئے کم از کم 10 کروڑ روپئے منظور کردے تو عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت آئندہ 100 برسوں کیلئے مضبوط رہ سکتی ہے ۔ انہدام کی مخالفت کرنے والی تنظیموں نے سوال کیا ہے کہ چیف منسٹر نئی عمارت کی تعمیر کیلئے رقم کہاں سے لائیں گے ۔ حکومت اپنے خزانہ کو پُر کرنے کیلئے بنجارہ ہلز کے علاقہ میں 600 کروڑ روپئے مالیتی سرکاری اراضی فروخت کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT