Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کو منہدم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں

عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کو منہدم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں

ہائی کورٹ میں حکومت کی وضاحت، تاریخی عمارت کا تحفظ کرنے والی تنظیموں کو راحت

حیدرآباد۔/12اگسٹ، ( سیاست نیوز) عثمانیہ ہاسپٹل کی تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں اور جہد کاروں کو اس وقت راحت ملی جب تلنگانہ حکومت نے حیدرآباد ہائی کورٹ میں وضاحت کی کہ حکومت عمارت کو منہدم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔ شہر سے تعلق رکھنے والے ایک قانون داں بی ایس سوامی داس نے اس مسئلہ پر گزشتہ ہفتہ مفاد عامہ کے تحت درخواست داخل کی تھی۔ کارگذار چیف جسٹس دلیپ بی بھوسلے اور جسٹس ایس وی بھٹ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل تلنگانہ جے رام چندر راؤ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کی خستہ حالی کو دیکھتے ہوئے مختلف امکانات کا جائزہ لے رہی ہے اور فی الوقت انہدام کا کوئی منصوبہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاسپٹل کی عمارت کا شمار ہیرٹیج عمارتوں میں ہوتا ہے اور حکومت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا۔

ڈیویژن بنچ نے حکومت کو ہدایت دی کہ چونکہ عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت ہیرٹیج زمرہ میں شامل ہے لہذا اس کے بارے میں کسی بھی فیصلہ سے قبل عوام کو واقف کرایا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی ہیرٹیج عمارت کا انہدام تو کجا اس کی مرمت اور تزئین نو کیلئے متعلقہ حکام اور ہیرٹیج کے تحفظ سے متعلق اداروں کی پیشگی اجازت لینا ضروری ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے بیان کو ریکارڈ کرتے ہوئے اس درخواست کی یکسوئی کردی۔ تاہم درخواست گذار سے کہا کہ اگر تلنگانہ حکومت ہاسپٹل کی عمارت کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتی ہے تو وہ دوبارہ عدالت سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ عدالت نے درخواست گذار سے حکومت کے فیصلہ کے بارے میں دستاویزی ثبوت مانگا تھا جس پر درخواست گذار کے وکیل ایس ستیم ریڈی نے عدالت میں مختلف اخبارات کے تراشے پیش کئے اور حکام کی جانب سے مریضوں اور وارڈز کی منتقلی کا حوالہ دیا۔

انہوں نے چارمینار سے متعلق ڈپٹی چیف منسٹر کے بیان کا بھی حوالہ دیا۔ درخواست گذار کے وکیل نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ حکومت کو اس بات کی ہدایت دے کہ ہاسپٹل کی مرمت کیلئے فوری فنڈز جاری کرے۔ ہائی کورٹ میں تلنگانہ حکومت کے موقف سے اگرچہ رضاکارانہ تنظیموں کو کسی قدر راحت ملی ہے تاہم ان تنظیموں نے واضح کردیا کہ وہ ہیرٹیج عمارت کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی عمارت کے تحفظ میں سنجیدہ ہے تو اسے ماہرین کے ذریعہ عمارت کی تعمیر و مرمت کا کام شروع کروانا چاہیئے۔ انٹیک اور دیگر رضاکارانہ تنظیموں نے ہاسپٹل کی عمارت کے تحفظ کیلئے باقاعدہ مہم چھیڑ رکھی ہے اور تنظیم کے نمائندے روزانہ عثمانیہ ہاسپٹل پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اسی دوران باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ہاسپٹل کے انہدام کے مسئلہ پر عوام میں پائی جانے والی ناراضگی اور بے چینی کو دیکھتے ہوئے عدالت میں وقتی طور پر انہدام نہ کرنے سے متعلق موقف اختیار کیا ہے۔
حکومت بہت جلد ماہرین سے مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT