Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب ،عالمی اردو کانفرنس کے انعقاد کی تجویز

عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب ،عالمی اردو کانفرنس کے انعقاد کی تجویز

دورزہ قومی سیمینار کا اختتام ، سال بھر جشن منانے کا فیصلہ، جناب اے کے خان‘ جناب سید عمر جلیل اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد 23 مئی ( پریس نوٹ) جناب اے کے خان مشیر اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ نے کہا کہ جامعہ عثمانیہ کی صدی تقاریب سال بھر جاری رہیں گی اور اس میں مختلف پروگرام منعقد کئے جاتے رہیں گے اور ان میں عثمانیہ سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کو شامل کیا جاتا رہے گا۔ وہ آج ہوٹل دی پلازا بیگم پیٹ میں جامعہ عثمانیہ صدی تقاریب کے سلسلہ میں ’ جامعہ عثمانیہ ۔ تاریخ‘ تہذیب اور امکانات ‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار کے اختتامی اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔اس سیمینار کا اہتمام محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ اور تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ دائرۃ المعارف کو اس لئے بچانا ضروری ہے کہ دارلترجمہ تو ختم ہوچکا ہے۔ یہاں علم کا قیمتی ذخیرہ ہے۔ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس معاملہ کا محکمہ اقلیتی بہبود سے کیا تعلق ہے۔ ایک دو دن میں وہاں کا دورہ کیا جائے گا۔انہوں نے اس سیمینار کی کامیابی کے لئے پروفیسر ایس اے شکور کی کوششوں اور ان کے انہماک اور دلچسپی کی ستائش کی۔ جناب سید عمر جلیل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبو نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ جامعہ عثمانیہ کی صدی تقاریب محکمہ اقلیتی بہبود یا اردو اکیڈیمی کرے۔ لاکھوں لوگ جن کی یادیں اور احساسات جامعہ سے وابستہ رہیں ان کا یہ تاثر رہا کہ وہ صدی تقاریب کا حصہ نہیں بن سکے‘ اس لئے یہ تقاریب منعقد کی جارہی ہیں۔ رمضان کے بعد اور بھی پروگرام رکھے جائیں گے۔ اور عالمی اردو کانفرنس بھی منعقد کرنے کی تجویز ہے۔ ویژن آف عثمانیہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ جامعہ عثمانیہ میں اردو تعلیم کا تجربہ کامیاب رہا اور فارغین نہ صرف کامیاب رہے بلکہ وہ ایک مثال بنے۔ اور اپنے اپنے شعبوںمیں نام کمایا۔ منفرد جامعہ کا جو تشخص تھا اس کی مقالوں میں عکاسی کی گئی۔ مادری زبان میں پڑھانے کی کیا سہولتیں ہیں۔کیونکہ آج کل سارا کام انگریزی میں ہورہا ہے‘ اس لئے تمام زبانوں میں دارالترجمہ قائم کرنا چاہئے۔ پروفیسر ایس اے شکور ڈائریکٹر سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے جامعہ عثمانیہ صدی تقاریب کے سلسلہ میں رمضان سے قبل دو پروگرام ہورہے ہیں جن میں اس سیمینار کے علاوہ 25مئی کو پنکج ادھاس کا شام غزل پروگرام شامل ہے۔ رمضان کے بعد سال بھر مختلف پروگرام ترتیب دیئے جائیں گے۔ جو افراد مقالے پیش کررہے ہیں ان کا تعلق جامعہ عثمانیہ سے ہے۔ اس سیمینار کی رودادکو کتابی شکل دی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ اس سیمینار میں جامعہ عثمانیہ سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کو مدعو کیا گیا اور اس میں عثمانیہ کی صد فیصد نمائندگی دی گئی۔ مستقبل میں بھی جو پروگرام ہوں گے ان میں بھی عثمانین کو نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 25مئی کو جو شام غزل منائی جارہی ہے اسمیں بھی عثمانین شاعروں کا کلام پیش کیا جائے گا۔ پروفیسر بیگ احساس نے دو روزہ سیمینار کی روداد کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ جامعہ عثمانیہ کی اپنی ایک تہذیب ہے‘ بہت کم جامعات کی اپنی تہذیب ہوتی ہے۔ ڈاکٹر معید جاوید صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے کہا کہ ایک بادشاہ نے جامعہ کے لئے 1600ایکڑ سے زیادہ اراضی وقف کی جو سوغات بے بہا نہیں تو اور کیا ہے۔ انہو ںنے جامعہ پر ایک نظم بھی پیش کی۔ نواب نجف علی خان بہادر ( نبیرہ آصف سابع نواب میر عثمان علی خان ) نے کہا کہ ان کے دادا کی قائم کردہ جامعہ کی صدی تقاریب میں شرکت ان کے لئے باعث اعزاز ہے۔آخر میں ایوان فنکار کے فنکاروں نے سکندر علی وجد کا لکھا ترانہ پیش کیا۔ آخر میں پروفیسر ایس اے شکور نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT