Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی مسئلہ پر حکومت کا معاندانہ رویہ

عثمانیہ یونیورسٹی مسئلہ پر حکومت کا معاندانہ رویہ

شعبہ تعلیم کو ترقی دینے کے وعدہ کے باوجود وائس چانسلرس کا عدم تقرر
حیدرآباد ۔ 22 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : رکن قانون ساز کونسل بی جے پی مسٹر این رامچندر راؤ نے عثمانیہ یونیورسٹی مسئلہ سے متعلق ٹی آر ایس حکومت کے معاندانہ رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کا خواب اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا تاوقتیکہ حکومت تلنگانہ ریاست میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا آغاز کرتے ہوئے شعبہ تعلیم کو ترقی نہ دے ۔ مسٹر این رامچندر راؤ آج یہاں تلنگانہ بی سی اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کے زیر اہتمام بعنوان ’ عثمانیہ یونیورسٹی کا تحفظ کریں گے ۔ تلنگانہ کو بچائیں گے ‘ منعقدہ راونڈ ٹیبل کانفرنس کو بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب تھے ۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ میں واقع 12 یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرس کے عدم تقررات پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ محض ریاست کی تمام یونیورسٹیوں پر اپنے کنٹرول کو برقرار ر کھنے کی غرض سے یونیورسٹیز کے تعلیمی نظام میں خلل پیدا کرتے ہوئے شعبہ تعلیم کو بربادی کی سمت ڈھکیل رہی ہے ۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کی حالت زار پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی آئندہ 2 سال میں اپنے قیام کے 100 سال مکمل کرنے جارہی ہے اور جس کو ساری دنیا میں عظیم اور باوقار یونیورسٹی کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور ناقابل بیان ہے جہاں پر تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کئی اہم بنیادی سہولتوں سے محروم ہونے کے علاوہ بے شمار مسائل سے دوچار ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ عثمانیہ یونیورسٹی ایک تاریخی یونیورسٹی ہونے کے باوجود یونیورسٹی میں نہ طلباء کو پینے کے لیے پانی میسر ہے نہ تو بیت الخلاء اور حمام کی حالت ٹھیک ہے اور نہ طلباء کو نہانے کے لیے پانی میسر ہے اور نہ ہی طلباء کے لیے ہاسٹل اچھا ہے جس کے نتیجہ میں طلباء کئی مسائل کا شکار ہیں ۔ انہوں نے چیف منسٹر پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ یونیورسٹی قوانین میں من گھڑت تبدیلیاں کرتے ہوئے نئے اڈمیشن لینے والے طلباء سے بطور میس چارجس فی کس 10 ہزار روپئے ڈپازٹ کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے ۔ طلباء کو سرٹیفیکٹس اور ٹی سی کے لیے ہزاروں روپئے ادا کرنے پر زور دیا جارہا ہے جو ایک انتہائی معیوب بات ہے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر عثمانیہ یونیورسٹی کے بشمول ریاست کے تمام یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرس ، لکچررس کے تقررات کے علاوہ یونیورسٹیوں میں درکار تمام اہم بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے اور یونیورسٹی طلباء کو درپیش مسائل کے حل میں پیشرفت کرے ۔ بصورت دیگر عثمانیہ یونیورسٹی کے طلباء نے تحریک تلنگانہ میں حصہ لیتے ہوئے جس طرح سے ٹی آر ایس کو اقتدار کا موقع فراہم کیا تھا اسی طرح سے ٹی آر ایس کو وی آر ایس دلانے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ پروفیسر پی ایل ویشویشور راؤ نے مخاطب کرتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹی سے متعلق ٹی آر ایس حکومت کے رویہ پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر آرڈیننس 28 ، 29 سے دستبرداری اختیار کرنے کے علاوہ عثمانیہ یونیورسٹی کے طلباء کی جانب سے 7 کروڑ روپئے کے بقایہ جات کی ادائیگی اور طلباء کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرے بصورت دیگر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ۔ اس موقع پر فاونڈر تلنگانہ اسٹوڈنٹس جے اے سی مسٹر راجا رام یادو سابق رکن اسمبلی مسٹر انیل کمار ، پرنسپل عثمانیہ پی جی لا کالج ڈاکٹر گالی ونود کمار ، صدر تلنگانہ بی سی اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن مسٹر انجی یادو ، مسرز پون گوڑ ، سرینواس مودی راج کے علاوہ دیگر نے مخاطب کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT