Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / عثمانیہ یونیورسٹی میں سنگباری ، پولیس لاٹھی چارج

عثمانیہ یونیورسٹی میں سنگباری ، پولیس لاٹھی چارج

مزدور کی نعش دستیاب ہونے پر طالب علم ہونے کا دعویٰ۔ کیمپس میں کشیدگی
حیدرآباد 23 مارچ (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں آج واٹر ٹینک سے دستیاب مزدور کی نعش کی منتقلی کے دوران کشیدگی پیدا ہوگئی جس کے نتیجہ میں پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس شیل برسائے۔ اس واقعہ میں 13 پولیس ملازمین زخمی ہوگئے۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں پولیس نے 5 مقدمات درج کرلئے ہیں۔ تفصیلات کے بموجب 25 سالہ بی سلاری بابو عرف بابا جو پیشہ سے مزدور بتایا گیا ہے، 21 مارچ کو اپنے مکان واقع مانکیشور نگر متصل عثمانیہ یونیورسٹی علاقہ سے لاپتہ تھا اور اُس کی نعش آج صبح یونیورسٹی میں واقع واٹر ٹینک سے دستیاب ہوئی۔  گاندھی ہاسپٹل کے مردہ خانہ منتقل کرنے کے دوران اچانک طلبہ کا ایک گروپ وہاں پہونچ گیا اور نعش کی منتقلی پر اعتراض کرتے ہوئے متوفی کے یونیورسٹی کا طالب علم ہونے کا دعویٰ کیا۔ پولیس نے متوفی کے آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور اُس کے موبائیل فون کی مدد سے اُس کی شناخت کرلی اور اُس کے افراد خاندان کو بھی اس کی موت کی اطلاع دی۔ کچھ ہی دیر میں 3 ہزار طلبہ کا ہجوم یونیورسٹی احاطہ میں جمع ہوگیا اور اس موت کی تحقیقات کروانے، متوفی کے خودکش نوٹ کو عام کرنے اور جائے حادثہ پر ہی پوسٹ مارٹم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اِسی دوران ضلع محبوب نگر عالم پور کے رکن اسمبلی مسٹر سمپت کمار نے بھی یونیورسٹی پہونچ کر طلبہ کے ہمراہ سلاری بابو کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ متوفی کے رشتہ دار بشمول اُس کی ماں یونیورسٹی احاطہ پہونچ کر نعش کی شناخت کرلی اور سلاری بابو کو پیشہ سے مزدور بتایا لیکن طلبہ اپنی زد پر اڑے رہے جس کے نتیجہ میں پولیس کی ایک خصوصی ٹیم نے نعش کو خفیہ طریقہ سے گاندھی ہاسپٹل کے مردہ خانہ منتقل کیا جس کی اطلاع پر یونیورسٹی طلبہ برہم ہوگئے اور اچانک پولیس ملازمین پر سنگباری شروع کردی۔ پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس شل برسائے۔ طلبہ کی سنگباری 13 پولیس ملازمین بشمول ڈپٹی کمشنر پولیس ایسٹ زون ڈاکٹر وی رویندر، اڈیشنل ڈپٹی کمشنر پولیس مسٹر ایل ٹی چندرشیکھر اور دیگر پولیس ملازمین زخمی ہوگئے۔ طلبہ کی سنگباری میں عالم پور رکن اسمبلی کی گاڑی بھی تباہ ہوگئی۔ عثمانیہ یونیورسٹی پولیس نے اِس واقعہ سے متعلق 5 مقدمات درج کرلئے ہیں اور سنگباری اور تشدد میں ملوث طلبہ کی ویڈیو گرافی کے ذریعہ شناخت کی جارہی ہے اور ٹاسک فورس کی جانب سے عنقریب خاطیوں کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا کہ مزدور کی موت واقع ہونے پر یونیورسٹی طلبہ کو اُکسانے میں اہم رول ادا کرنے والے اے بی وی پی کے سرگرم کارکن اور تلنگانہ بیروزگار جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کلیان کی شناخت کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT