Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی کی صدسالہ تقاریب، حکومت تلنگانہ کیلئے اردو دوستی کا امتحان

عثمانیہ یونیورسٹی کی صدسالہ تقاریب، حکومت تلنگانہ کیلئے اردو دوستی کا امتحان

اردو ذریعہ تعلیم کی پہلی یونیورسٹی کے سابقہ ’’لوگو‘‘ بحال کرنے پر زور، قدیم و موجودہ طلبہ کا مطالبہ
حیدرآباد۔/11فبروری، ( سیاست نیوز) اردو ذریعہ تعلیم کی پہلی یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب تلنگانہ حکومت کی اردو دوستی کا امتحان ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کی صدی تقاریب کا 26 اپریل سے آغاز ہورہا ہے۔ اس سے قبل اردو کے چاہنے والوں اور یونیورسٹی کے طلباء اور سابق طلباء کا یہ مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی کے سابقہ ’ لوگو ‘ کو بحال کیا جائے جو حیدرآباد کی عظمت رفتہ اور یونیورسٹی کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اردو ذریعہ تعلیم کیلئے قائم کردہ برصغیر کی پہلی یونیورسٹی اردو دشمنوں کی عصبیت کا شکار ہوچکی ہے اور اس کے موجودہ ’ لوگو ‘ سے اردو کو غائب کردیا گیا۔ جس زبان کیلئے یونیورسٹی قائم کی گئی تھی اسی زبان کو لوگو سے غائب کرنا اردو دشمنی کی واضح مثال ہے۔ یوں تو متحدہ آندھرا پردیش کے آندھرائی حکمرانوں نے لوگو تبدیل کیا تھا لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جو نظام حیدرآباد اور ان کے کارناموں کے معترف ہیں ان کے لئے یہ ایک چیلنج سے کم نہیں۔ چیف منسٹر نے نواب میر عثمان علی خاں کی رعایا پروری اور ان کے کارناموں کا ایک سے زائد مرتبہ اسمبلی اور اس کے باہر تذکرہ کیا حتیٰ کہ وہ اُن کی مزار پر پہنچ کر خراج عقیدت بھی ادا کرچکے ہیں۔ جب کبھی اردو داں سامعین یا مسلمانوں سے خطاب ہوتا ہے تو کے سی آر نظام حیدرآباد کے کارناموں کا تذکرہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اب جبکہ یونیورسٹی کی صدی تقاریب سرکاری سطح پر منانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ایسے میں سابقہ لوگو کو بحال کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کرچکا ہے۔ کئی سابق عثمانین نے اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی اور وہ عدالت سے رجوع ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی کئی طلباء تنظیموں نے بلا لحاظ مذہبی وابستگی وائس چانسلر سے ملاقات کرتے ہوئے لوگو کی بحالی کا مطالبہ کیا تاکہ عثمانیہ یونیورسٹی کی صدی تقاریب میں بانی یونیورسٹی نواب میر عثمان علی خاں کو حقیقی معنوں میں خراج پیش کیا جاسکے۔ 1918 میں نواب میر عثمان علی خاں نے اردو ذریعہ تعلیم کی یہ پہلی یونیورسٹی قائم کی تھی اور اس کے حقیقی ’ لوگو‘ میں 2 عربی الفاظ شامل تھے جنہیں حذف کردیا گیا ہے۔ لوگو کے اوپر سلطنت آصفیہ کا تاج تھا جس پر عربی تحریر ’’ نوراً علیٰ نور‘‘ تھی۔ نئے لوگو میں سلطنت آصفیہ کے تاج کو حذف کردیا گیا جس سے یہ تحریر بھی نکل گئی۔ اس کے علاوہ لوگو کے اوپری حصہ میں حدیث مبارکہ کے الفاظ ’’ انا مدینۃ العلم و علی بابھا ‘‘ شامل تھا اسے بھی نئے لوگو سے حذف کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 50 برس قبل سابقہ لوگو کو منظم سازش کے تحت تبدیل کرتے ہوئے اس سے دونوں عربی عبارتوں کو حذف کردیا گیا تھا۔ اتنا ہی نہیں اردو دشمنی کی بدترین مثال تو یہ ہے کہ لوگو کے نچلے حصہ میں اردو میں ’’ جامعہ عثمانیہ ‘‘ درج تھا جو نئے لوگو میں شامل نہیں ہے۔ نئے لوگو میں حدیث مبارک کے عربی الفاظ کی جگہ ہندی میں ’’ تسموما جوتی گمیا ‘‘ شامل کیا گیا اور ’’ جامعہ عثمانیہ‘‘ کی جگہ تلگو میں ’’ عثمانیہ وشوا ودیالیہ ‘‘ کی تحریر شامل کی گئی۔ لوگو میں صرف درمیان میں عثمانیہ کا ’’ ع ‘‘ باقی رکھا گیا۔ دراصل عثمانیہ یونیورسٹی کی شناخت حرف ’ ع ‘ سے ہونے کے سبب شاید اسے حذف کرنے کی ہمت نہیں کی گئی۔ اگر اردو دشمن چاہتے تو اردو کے اس حرف کی جگہ انگریزی کا “O” شامل کردیتے۔ لوگو کی تبدیلی کے حق میں یونیورسٹی کے بعض حکام کا کہناہے کہ بادشاہت کے اختتام اورجمہوریت کے آغاز کے سبب لوگو سے سلطنت عثمانیہ کا تاج حذف کرنا پڑا، لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ یونیورسٹی کی عمارتوں پر موجود قدیم لوگو کو کیوں باقی رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نظام حیدرآباد کی تاریخی عمارتوں پر آج بھی سلطنت آصفیہ کے تاج کے ساتھ نشانیاں موجود ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں آج خود اردو زبان کو غیریت کا احساس ہونے لگا ہے۔ اردو کے کورسیس کو انگریزی زبان میں تبدیل کردیا گیا اور یونیورسٹی کا شعبہ اردوکسمپرسی اور برائے نام شعبہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس شعبہ کے سربراہ کیلئے یونیورسٹی کو کوئی پروفیسر تک دستیاب نہیں ہوا۔ اب جبکہ کے سی آر حکومت نے 26 تا 28 اپریل عثمانیہ یونیورسٹی تقاریب کے انعقاد کی تیاریاں بڑے پیمانے پر شروع کی ہیں انہیں چاہیئے کہ سابقہ لوگو کی بحالی کے احکامات جاری کرتے ہوئے نظام حیدرآباد کے حق میں احترام اور عظمت کا ثبوت دیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری کی صدارت میں تیاری کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں کئی وائس چانسلرس اور عثمانیہ یونیورسٹی کے فارغ عوامی نمائندے شامل ہیں لیکن اس کمیٹی میں بھی اردو کی نمائندگی نہیں کے برابر ہے۔ یونیورسٹی کے قیام سے لیکر آج تک 24 وائس چانسلرس ہوئے جن میں 10 مسلمان تھے۔ پہلے وائس چانسلر نواب حبیب الرحمن خاں تھے اور 1952 تک مسلسل 8 مسلم وائس چانسلرس گذرے اس کے بعد 1982-85 پروفیسر ہاشم علی اختر اور 2005-08 پروفیسر سلیمان صدیقی وائس چانسلر رہے۔ اردو کے چاہنے والوں کو بلا لحاظ مذہب و ملت لوگو کی بحالی اور اردو زبان کی شمولیت کے سلسلہ میں حکومت کے فیصلہ کا انتظار ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT