Thursday , July 27 2017
Home / جرائم و حادثات / عثمانیہ یونیورسٹی کے جعلی سرٹیفکیٹ ،سیف اللہ خالد گرفتار

عثمانیہ یونیورسٹی کے جعلی سرٹیفکیٹ ،سیف اللہ خالد گرفتار

حیدرآباد ۔ /19 فبروری (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی پولیس نے جعلی سرٹیفکیٹ معاملے میں درسگاہ جہاد و شہادت کے سکریٹری ایڈوکیٹ شیخ سیف اللہ خالد اور یونیورسٹی کے کنٹراکٹ ملازمین کو بھی گرفتار کرلیا گیا ۔ تفصیلات کے بموجب کنٹرولر ایگزامنیشن برانچ مسٹر ایم کمار نے یونیورسٹی پولیس سے ایک شکایت درج کروائی جس میں یہ بتایا گیا کہ /18 فبروری کو وہ الیکٹرانک ڈاٹا پروسیسنگ (EDP) سیکشن میں اچانک معائینے کیلئے پہونچے جہاں پر انہوں نے شیخ عبداللہ ولد شیخ محبوب علی مرحوم کے نام بی ای سیول انجنیئرنگ کا ایک سرٹیفکیٹ پایا اور اس سلسلے میں انہوں نے مزید تفصیلات حاصل کی ۔ مسٹر کمار نے شعبہ انجینئرنگ کے سیکشن میں جون 1985 ء شیخ عبداللہ کے نام کا ایک سرٹیفکیٹ فرضی ہونے کا پتہ لگایا ۔ اس سلسلے میں انہوں نے مزید تفصیلات حاصل کرتے ہوئے یونیورسٹی ایگزامنیشن برانچ کے کنٹراکٹ ملازمین کے رول کا پتہ لگایا ۔ شکایت موصول ہونے پر انسپکٹر یونیورسٹی پولیس اسٹیشن مسٹر اشوک ریڈی نے دھوکہ دہی اور فرضی دستاویزات تیار کرنے کے دفعات کے تحت ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے مسٹر خالد سیف اللہ اور دیگر 4 جی سنتوش ریڈی ‘ ٹی رمیش ‘ سی اروند کمار ‘ ایم رامو جو ایگزامنیشن برانچ کے کنٹراکٹ ملازمین ہے کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس نے بتایا کہ شیخ عبداللہ نے مبینہ طور پر بن لادن کمپنی سعودی عرب میں انجنیئر کی فرضی ڈگری پر ملازمت حاصل کی اور شیخ سیف اللہ خالد کی مدد سے سنتوش ریڈی کو سرٹیفکیٹ کی تصدیق کیلئے 2 لاکھ روپئے حوالے کئے ۔ پولیس نے ایڈوکیٹ مسٹر خالد کے قبضے سے 53 ہزار روپئے نقد رقم شیخ عبداللہ کے فرضی دستاویزات اور دیگر اشیاء برآمد کرلیا ۔ ایڈوکیٹ خالد سعیدآباد پولیس اسٹیشن میں 2004 ء میں درج کئے گئے ایک مقدمہ جس کا کرائم نمبر 410/2004 ہے اور مغل پورہ پولیس کے کیس 129/2009 ہے کے دو غیرضمانتی وارنٹ زیرالتواء ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT