Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیمی مراکز میں طلبہ کی تعداد نصف ہوگئی

عثمانیہ یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیمی مراکز میں طلبہ کی تعداد نصف ہوگئی

عہدیداران کی لاپرواہی ، زونل سسٹمس کی برخاستگی اصل وجہ

حیدرآباد ۔ 19 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : عہدیداران کی لاپرواہی اعلیٰ عہدیداران کی غیر ذمہ داری طلباء کے لیے مصیبت بن گئی ہے ۔ فاصلاتی تعلیم میں داخلے حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے عہدیداران کی جانب سے عائد کئے جانے والے شرائط طلبہ کو مصائب سے دوچار کررہے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کی علحدگی کے بعد امتحانات کے انعقاد اور طلبہ کو داخلہ امتحانات میں سہولیات کے لیے کئی ایک طرح کے اقدامات کئے گئے ۔ مگر عثمانیہ یونیورسٹی کے عہدیداران کافی سست رفتاری سے کام کررہے ہیں اور عہدیداران سابقہ ضوابط کو برخاست کر کے اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے سبکدوشی اختیار کررہے ہیں جس کی وجہ سے عثمانیہ یونیورسٹی میں فاصلاتی تعلیم کے لیے داخلوں میں بے حد کمی ہوتی جارہی ہے ۔ علاوہ ازیں یونیورسٹی کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہورہی ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی اپنی ایک عظیم الشان تاریخ رکھتی ہے جس کے قواعد و ضوابط طلبہ دوست نہ ہونے کی وجہ سے او یو میں داخلہ کے خواہش مند طلبہ کی تعداد دن بہ دن گھٹتی جارہی ہے جو طلبہ ریگولر تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہنے والے ، مختلف کورسیس میں داخلہ نہ پانے والے ، دوسری پی جی کے خواہش مند اور ملازمین جیسے کئی افراد فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ اپنی علمی پیاس بجھانے کی تگ و دو میں رہتے ہیں ۔ ایسے افراد کی علمی پیاس بجھانے کے لیے یونیورسٹی کی جانب سے زونل سسٹم ہوا کرتے تھے جن کی نگرانی پروفیسر وینکٹیشورلو ڈائرکٹر کی حیثیت سے کیا کرتے تھے اور ان زونل سسٹمس کی وجہ سے طلبہ کو فاصلاتی تعلیم حاصل کرنے میں کافی سہولت ہوا کرتی تھی ۔ مگر ان سسٹمس کی برخاستگی کی وجہ سے طلبہ دیگر یونیورسٹیز کا رخ کررہے ہیں اور عہدیداران کی اس لاپرواہی سے یونیورسٹی کو فاصلاتی امتحانی مراکز سے وصول ہونے والی آمدنی کافی حد تک کم ہوگئی ہے ۔۔

زونل سسٹمس کی برخاستگی
عثمانیہ یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیمی مرکز کی جانب سے زونل سسٹمس متعارف کئے گئے تین اضلاع پر مشتمل فاصلاتی تعلیمی مراکز میں زیر تعلیم طلبہ کو امتحانی اوقات میں ہونے والی پریشانیوں سے بچانے کے لیے یہ سسٹم قائم کیا گیا اور قبل ازیں فاصلاتی تعلیمی مراکز کے زیر انتظام بہت سارے امتحانی سنٹرس ہوا کرتے تھے مگر یونیورسٹیز کی تعداد میں اضافہ کے بعد ان سنٹرس کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ تین اضلاع کے طلبہ 4 زونس میں تقسیم کر کے امتحانی مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ سکندرآباد ، چارمینار ، یل بی نگر ، کوکٹ پلی وغیرہ زونس میں موجود طلبہ اپنے اپنے علاقہ میں واقع زونس کے امتحانی مراکز کا انتخاب کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے طلبہ وقت پر امتحانی مراکز پہونچ جایا کرتے تھے اور اس طریقہ کار کو حالیہ دنوں میں ٹی ایس پی ایس سی نے بھی اپنایا ہے ۔ مگر حالیہ دنوں میں یونیورسٹی عہدیداران سے اس طریقہ کار کو برخاست کردیا ہے اور کوکٹ پلی کے طلبہ کو یل بی نگر میں یل بی نگر کے طلبہ کو کوکٹ پلی میں امتحانی مراکز مختص کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کو کافی پریشانی ہورہی ہے ۔ طلبہ تمام امتحانات نہ لکھ پانے کی وجہ سے ترک تعلیم کررہے ہیں ۔ امتحان کے لیے زیادہ وقت نہ دے پانے والے ملازمین ، معذور ، گھریلو خواتین ، حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کی مائیں کافی پریشانی اٹھا رہے ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں داخلے نہیں لے رہے ہیں ۔۔

امتحانی نتائج کے اعلان میں تاخیر
امتحان لکھنے کے 6 ماہ تک بھی نتائج کا اعلان نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے طلبہ دیگر یونیورسٹیز کا رخ کررہے ہیں ۔ نتائج میں تاخیر کی وجہ سے کئی ملازمین پرموشن سے محروم ہورہے ہیں ۔ اس کے باوجود یونیورسٹی عہدیداران میں کسی طرح بھی بیداری نہیں آرہی ہے ۔۔

امتحان سے طلبہ کی غیر حاضری
فاصلاتی تعلیمی مراکز میں مستقل طلبہ کے مساوی داخلے ہوا کرتے تھے مگر اب فاصلاتی تعلیم میں شریک ہونے والے طلبہ کی تعداد نصف ہوگئی ہے ۔ طلبہ ٹرافک مسائل کی وجہ سے امتحانی مراکز کو وقت پر نہیں پہونچ پارہے ہیں جس کی وجہ سے غیر حاضری ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ امتحانی مراکز دور دور ہونے پر 75 فیصد طلبہ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔۔

فاصلاتی تعلیمی مراکز میں داخلوں کی تعداد نصف ہوگئی
مذکورہ مراکز میں طلبہ کی تعداد نصف تک گھٹ گئی ہے ۔ قبل ازیں مختلف کورسیس میں 20 ہزار طلبہ کی تعداد ہوا کرتی تھی جو اب صرف 10 ہزار رہ گئی ہے ۔ فاصلاتی تعلیمی مراکز میں مختلف طرح کے کورسیس ہیں جن میں ہر سال داخلے ہوا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ جدید کورسیس اور روزگار سے جڑے کورسیس متعارف کئے گئے ۔ مگر عہدیداران کی لاپرواہی کی وجہ سے ان کورسیس میں طلبہ کی تعداد گھٹتی جارہی ہے ۔ یو جی میں بی اے ، بی ایس سی ، بی کام ، بی جی اے ، ایم سی اے ، ایم جی اے ، پی جی کورسیس ، پی جی ڈپلوما ، بائیو انفارمیشن اور دیگر کورسیس موجود ہیں مگر ان کورسیس میں ہر سال طلبہ کی تعداد گھٹتی جارہی ہے ۔۔

عہدیداران سے طلبہ کا استفسار
امتحانی مراکز میں تعین اور زونل سسٹمس کی برخاستگی سے متعلق طلبہ عہدیداران سے استفسار کررہے ہیں ۔ قدیم و جدید سلیبس لکھنے والے طلبہ ہیں ۔ امتحانی مراکز امتحانی پرچوں کا پرنٹ نکالنا ، امتحان سے متعلق شیٹس اور دیگر امور میں عہدیداران اپنے آپ پر کام کا بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں اور ایک ہی مادے کا امتحان لکھنے والے تمام طلبہ کو ایک ہی سنٹر فراہم کیا جارہا ہے اور جمنبلنگ سسٹم کو برخاست کردیا گیا ہے ۔ عہدیداران کی جانب سے یہ کہنا کہ مختلف سنٹرس کی وجہ سے کام کا بوجھ بڑھ رہا ہے عہدیداران کی کارکردگی کو واضح کرتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT