Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی ہاسٹلس کو برقی و پانی کی سربراہی روکنے کی مذمت

عثمانیہ یونیورسٹی ہاسٹلس کو برقی و پانی کی سربراہی روکنے کی مذمت

حکومت کی ایما پر حکام کی بہیمانہ کارروائی ‘ حقوق انسانی کمیشن مداخلت کرے ۔ محمد علی شبیر
حیدرآباد 16 جولائی ( این ایس ایس ) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ریاست میں ٹی آر ایس حکومت پر حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس نے عثمانیہ یونیورسٹی کے ہاسٹلس میں مقیم طلبا کو برقی اور پانی کی سربراہی روک دی ہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ریاستی حقوق انسانی کمیشن کو ایک مکتوب بھی روانہ کیا ہے اور مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلہ میں انکوائری کروائیں۔ محمد علی شبیر نے اپنے مکتوب میں کہا کہ جب حکومت کی جابن سے طلبا کو برقی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات ہی فراہم نہ کی جائیں تو پھر وہ مسابقتی امتحانات کی تیاری کس طرح کرسکیں گے جو آئندہ ماہ منعقد ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ خود وائس چانسلر نے پولیس عملہ کے سات ہاسٹلوں کو پہونچ کر برقی اور پانی کی سربراہی منقطع کردی ہے ۔ یہ بہیمانہ طرز عمل ہے اور یونیورسٹی حکام کی جانب سے زیادتی ہے ۔ ہفتہ کی رات کو تقریبا چھ ہزار طلبا اپنی جانبس ے ٹیچرس کی جائیدادوں پر تقررات کے امتحانات اور دوسرے مسابقتی امتحانات کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے حکام نے تمام ہاسٹلس کو شام سات بجے سے برقی اور پانی کی سربراہی روک دی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی حکام کی جانب سے طلبا سے کہا گیا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر ہاسٹلس کا تخلیہ کردیں تاکہ وہاں مرمت اور تزئین کے کام کئے جاسکیں تاہم طلبا کی جانب سے اس ہدایات کی عدم تعمیل پر ان کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے ۔ محمد علی شبیر عثمانیہ یونیورسٹی سے وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی حکام نے ماضی میں طلبا کو ہاسٹلس میں مقیم رہنے اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کا موقع دیا تھا لیکن اس سال یونیورسٹی حکام نے ٓمرانہ احکام جاری کردئے اور طلبا کے خلاف یہ کارروائی سزا کے طور پر کی جا رہی ہے کیونکہ ان طلبا نے یونیورسٹی کی ڈائمنڈ جوبلی تقاریب کے موقع پر چیف منسٹر کے خلاف نعرے لگائے تھے ۔ برقی اور آبی سربراہی منقطع کرنے کو سنگین اور بہیمانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ یہ کارروائی ٹی آر ایس حکومت کی ایما پر کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کے پاس اس آمرانہ حکومت کے خلاف احتجاج کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا ہے ۔ انہوں نے طلبا کے حق میں مداخلت کرنے کی ریاستی حقوق انسانی کمیشن سے بھی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی حکام کو چاہئے کہ غریب اور کم آمدنی والے طلبا کو ہاسٹلس میں قیام کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ وہ مسابقتی امتحانات کی تیاریاں پورے سکون کے ساتھ کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT