Thursday , September 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / ’’عدالت ‘‘توازن و اعتدال کا نام ہے

’’عدالت ‘‘توازن و اعتدال کا نام ہے

دنیا اور آخرت میں توازن و اعتدال یہ ہے کہ نہ دنیا میں اتنا منہمک ہوکہ آخرت کو فراموش کر بیٹھے اور یہ سمجھ لے کہ اسی دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور نہ آخرت کی طرف اتنا جھک جائے کہ ترکِ دنیا کربیٹھے اور جائز اور حلال چیزوں کو بھی اپنے اوپر حرام کرلے ۔ اسی طرح انفاق میں توازن و اعتدال یہ ہے کہ آدمی نہ بخیل ہوکہ (جو مال جمع کرتا رہے اور گنتا رہے اور یہ سمجھ لے کہ اس مال کے سبب وہ ہمیشہ یہیں رہے گا ’’سورہ ھمزہ ۱۰۴:۲،۳‘‘) کی تصویر بن جائے اور نہ مسرف ہوکہ فضول اور بے جا طورپر پیسہ برباد کرتا رہے ۔ توازن و اعتدال ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا ارشاد ہے : وہ شخص مفلس نہ ہوگا جس نے میانہ روی اختیار کی ۔
یہی توازن و اعتدال ، اخلاقیات میں بھی مطلوب ہے ۔ اﷲ تعالیٰ حضرت شاہ ولی اﷲ رحمۃ اﷲ علیہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ انھوں نے اخلاق کے توازن و اعتدال کو بڑی خوبی سے سمجھایا ہے ۔ ان کی تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو دست قدرت سے تین قوتیں ملی ہیں

(۱) قوتِ عقل (۲) قوتِ شہوت (۳) قوتِ غضب
یہی تین قوتیں اخلاقِ انسانی کا منبع ہیں۔ اچھے اور برے اخلاق ان ہی قوتوں سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ہر قوت کے تین درجے ہیں ، ایک درجے کو ’افراط‘ کہتے ہیں اور دوسرے کو ’تفریط‘ ان دونوں درجوں کے درمیان ایک تیسرا درجہ ہے جس کو ’اعتدال‘ کہا جاتا ہے ۔ عقل کے افراط کو جریزہ کہتے ہیں اور اس کی تفریط کو سفاہت کہا جاتا ہے اور اس کے اعتدال کو ’حکمت‘ کہتے ہیں۔ علیٰ ھذا القیاس قوتِ شہوت کے بھی تین درجے ہیں ۔ اس کے افراط کو ’فجور‘ اور تفریط کو ’جمود‘ کہتے ہیں اور اس کے اعتدال کو ’عفت‘ کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح قوتِ غضب کے افراط کو ’تہور‘ اور تفریط کو ’جبن‘ کہتے ہیںاور اس کے اعتدال کو ’شجاعت ‘ کہا جاتا ہے ۔ افراط و تفریط دونوں مذموم ہیں صرف اعتدال ہی محمود و مطلوب ہے ۔ پھر ان تینوں قوتوں کے اعتدال کے مجموعے ( حکمت ، عفت ، شجاعت) کو ’عدالت‘ کہتے ہیں جو توازن و اعتدال ہی کا دوسرا نام ہے ۔
اسی توازن و اعتدال کی وجہ سے اُمت مسلمہ کا لقب ’اُمتِ وسط ‘ ہے یعنی اُمت عادلہ ۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( مسلمانو! ) اسی طرح ہم نے تم کو ایک معتدل اُمت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو ، اور رسولؐ تم پر گواہ بنیں۔                       (بقرہ ۲:۱۴۳)
یعنی جس طرح دوسری تمام جہتوں کو چھوڑکر سمت کعبہ کو قبلہ بنایا ہے اور تمہیں اس کو صدقِ دل سے قبول کرنے کی ہدایت دی ہے ، اسی طرح ہم نے تم کو دوسری اُمتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ معتدل اور متوازن اُمت بنایا ہے ۔ ( تفسیر کبیر)
آیت میں لفظ ’ ع ر ‘ لائق توجہ نکتہ ہے ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ صرف اسی ایک مسئلہ پر منحصر نہیں بلکہ ہر معاملہ میں معتدل و متوازن ۔ وسط کے معنی ہیں : وہ شئے جو دو طرفوں کے درمیان بالکل وسط میں ہو ۔ یہیں سے اس میں بہتری کا مفہوم بھی آگیا کیوں کہ جو شے دوکناروں کے درمیان ہوگی وہ نقطہ توسط و اعتدال پر ہوگی اور لازماً بہترین ہوگی ۔ یہ اُمت چونکہ اُمت وسط ہے اسی لئے یہ خیر اُمت بھی ہے ۔ اُمت مسلمہ کو ’اُمت وسط‘ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اُمت ٹھیک ٹھیک دین کی اس بیچ شاہراہ پر قائم ہے جو اﷲ تعالیٰ نے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کھولی ہے ۔ دین کے معاملے میں اُمت محمدیہ کی اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کو ’خیر اُمت‘ یعنی بہترین اُمت بھی کہا گیا ہے ۔ چونکہ یہ اُمت ’اُمت وسط ‘ ہے لہذا یہی ’خیر اُمت‘ ہے اسی لفظ ’وسط‘ کے بارے میں بیضاوی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی تفسیر انوارالتنزیل میں یہ وضاحت کی ہے یعنی ’’افراط و تفریط کے درمیان ہونے کی وجہ سے لفظ وسط کو اچھی خصلتوں کے لئے مستعار لے لیا گیا ہے‘‘ ۔ اعتدال کو وسط بھی کہا جاتا ہے اور خیرالامور اوسطا میں یہی وسطیت اور اعتدال مراد ہے اور حدیث میں وسط کی تفسیر عدل ہی سے کی گی ہے ۔ لتکونو شھداء … تاکہ اُمت مسلمہ لوگوں پر راہِ اعتدال کی شہادت دے اور رسول آخرت میں تم پر اس بات کی گواہی دیں کہ اس اُمت نے میری سنت اعتدال لوگوں تک پہنچادی ۔ ارباب تاویل نے اس گواہی کو آخرت کے ساتھ مختص کردیا ہے لیکن اس اختصاص اور تجدید کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی ۔ اس لئے اس اُمت کی گواہی کو اس دنیا میں اور رسولؐ کی گواہی کو آخرت میں ماننا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT